غلام قادر جیلانی
ہمارے معاشرے میں پنپنے والی متعدد سماجی برائیوں میں ایک انتہائی سنگین برائی یہ بھی ہے کہ کاروباری اور تجارتی طبقہ اپنی اخلاقی ذمہ داریوں کو فراموش کرچکا ہے۔ دوکاندار اور تاجر ناجائز منافع کمانے کی غرض سے صارفین کو دھوکہ دے کر من مانی قیمتیں وصول کرتے ہیں۔وادی کشمیر کے ہر ضلع سے ان دنوں گراں فروشی کی شکایات تواتر کے ساتھ موصول ہو رہی ہیں، جس کے نتیجے میں عام لوگوں کی قوتِ خرید تیزی سے جواب دے رہی ہے۔ صارفین شدید حیرت میں ہیں کہ جو اشیاء پہلے 20 روپے میں دستیاب تھیں، ان کی قیمتیں بیک وقت دو گنا ہو کر 40 روپے تک کیسے پہنچ گئیں؟
عام طور پر وادی میں اشیائے خوردنی، خاص طور پر سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں اضافہ جموں سرینگر قومی شاہراہ کی بندش کے دوران ہوتا ہے۔ تاہم، اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب شاہراہ معمول کے مطابق چل رہی ہے تو قیمتیں اس قدر بے قابو کیوں ہیں؟یہ بات سب پر عیاں ہے کہ گزشتہ دو سالوں سے اشیائے ضروریات کی قیمتیں بے لگام ہو چکی ہیں۔ اس تعلق سے محکمہ امورِ صارفین و عوامی تقسیم کاری یہ کہہ کر ہاتھ کھڑے کر رہا ہے کہ سال 2023 سے اشیاء کی قیمتیں ڈی کنٹرول (Decontrol)ہو چکی ہیں۔ محکمہ کا موقف ہے کہ قیمتیں ڈی کنٹرول ہونے کی وجہ سے وہ اب بازاروں پر پہلے کی طرح مؤثر طریقے سے نظر رکھنے سے قاصر ہیں۔
محکمے کی اس لاچارگی اور قیمتوں کے ڈی کنٹرول ہونے کے اعتراف نے کاروباری طبقے کو مزید شہ دی ہے، جس کا براہ راست بوجھ عام صارفین کی جیبوں پر پڑ رہا ہے۔
سبزیوں، میوہ جات اور ادویات کی قیمتیں عام آدمی کے قوت خرید سے باہر جارہی ہیں جس سے عام لوگوں کے مشکلات میں کئی گناہ اضافہ ہوا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جی ایس ٹی (GST) کی شرحوں میں کمی کے باوجود بھی عام لوگوں کو اس کا کوئی خاص فائدہ نظر نہیں آرہا ہے۔صارفین کے مطابق، اشیائے خوردنی، سبزیوں اور میوہ جات کی قیمتوں میں دکاندار از خود غیر قانونی طور اضافہ کر رہے ہیں۔ یہ استحصال صرف قصبہ جات تک محدود نہیں بلکہ دیہاتوں اور دور دراز علاقوں میں بھی دکاندار اور تاجر غریب عوام کو دو دو ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔
مرغ فی کلو 170 سے 200 روپے، انڈے 90 سے 100روپے فی درجن، ٹماٹر فی کلو 70 سے 80 روپے پیاز فی کلو 30 سے 40 روپے ، پالک فی کلو 40 سے 50 روپے، مولی فی کلو 30 روپے، شلجم فی کلو 30 روپے، فراش بین فی کلو 50 روپے، ساگ فی کلو 40 روپے، کدو فی کلو 50 روپے،انار، پپیتا، انگور اور امرود فی کلو 150 سے لیکر 350 اور کھانڈ فی کلو 50 سے 60 روپے کے حساب سے فروخت کئے جارہے ہیں جبکہ دور دراز علاقوں اور دیہاتوں میں یہ قیمتیں اس سے بھی زیادہ وصول کی جاتی ہیں۔ تیل، مسالہ جات، اور دیگر اشیائے خوردونوش کا حال بھی کم و بیش یہی ہے۔
جموں و کشمیر کی تنظیمِ نو کے بعد، محکمہ امورِ صارفین نے 18 جنوری 2023 کو مرکزی وزارتِ امورِ صارفین سے لائسنسز کنٹرول ایکٹ 1973 اور ایس، آر، او (SRO) 145 سال 1990 کے بارے میں جواب طلب کیا تھا۔ جواباً، مرکزی وزارت نے ان قوانین کو کالعدم قرار دے دیا۔اس کے نتیجے میں، محکمہ امورِ صارفین کو اشیائے خوردنی،بالخصوص لائیو اسٹاک (Live Stock) کی قیمتیں مقرر کرنے سے باز رکھا گیا۔ متعلقہ محکمہ جات اسی قانونی ابہام کی آڑ میں مارکیٹ چیکنگ (Market Checking) اور قیمتوں کی نگرانی میں سنجیدگی نہیں لے رہے ہیں۔
اگرچہ ادویات اور دیگر اہم ضروریات کی اشیاء پر جی ایس ٹی کی شرحیں کم کر دی گئی ہیں، لیکن اسکے باوجود بھی زیادہ تر دکاندار اور دوا فروش یہ عذر پیش کرکے صارفین سے بدستور زیادہ قیمتیں وصول کر رہے ہیں کہ ‘نیا اسٹاک ابھی نہیں آیا ہے۔ یہ واضح طور پر صارفین کے حقوق کی خلاف ورزی اور ناجائز منافع خوری کی مثالیں ہیں۔ گراں فروشی کے ساتھ ساتھ کشمیر میں صارفین کے ساتھ دھوکہ دہی اور فراڈ کا مسئلہ بھی عام ہوا ہے۔ دوکانداروں اور تاجروں میں بددیانتی اور دھوکہ دہی کے متعدد طریقے عام ہو چکے ہیں، قلت کے وقت کم قیمت پر خریدی گئی اشیاء کو مہنگے داموں فروخت کرنا۔ ملاوٹ کرنا، عیب دار اور گھٹیا مال کو عمدہ بتا کر بیجنا،ناپ تول میں کمی کرنا، جھوٹ بول کر یا جھوٹی قسمیں کھا کر مال فروخت کرنا، پرانی اشیاء کو نئی اشیاء کے ساتھ ملا کر فروخت کرنا،زائد المیعاد (Expired) اشیاء کے لیبل ہٹا کر یا تبدیل کر کے فروخت کرنا،جیسے مذموم طریقوں کے ذریعے دکاندار اور تاجر منظم انداز میں نہ صرف صارفین کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں۔ بلکہ ان کی صحت کے ساتھ بھی کھلواڑ کر رہے ہیں ۔
صارفین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے حکومت نے کئی کلیدی محکمے قائم کر رکھے ہیں، جن میں محکمہ امورِ صارفین و عوامی تقسیم کاری (CAPD), لیگل میٹرالوجی ڈیپارٹمنٹ اور فوڈ سیفٹی ڈیپارٹمنٹ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ یہ محکمے جہاں فرض شناسی کا مظاہرہ کر کے صارفین کے حقوق کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں، وہیں عام صارفین کی بھی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ ان اداروں کے ساتھ تعاون کرکے اپنے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔
لیگل میٹرالوجی ڈیپارٹمنٹ کے جوائنٹ ڈائریکٹر، تنویر احمد نے مارکیٹ میں اپنے محکمے کی کاروائیوں کے حوالے سے مجھ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا محکمہ صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہمیشہ متحرک ہے۔انہوں نے بتایا کہ مارکیٹ چیکنگ کے دوران اس بات کو سختی سے یقینی بنایا جاتا ہے کہ دکاندار اور تاجر صرف محکمے کی طرف سے سند یافتہ اور تسلیم شدہ ناپ تول کے اوزار ہی استعمال کریں۔ تنویر احمد نے صارفین پر زور دیا کہ وہ خریداری کے دوران خود بھی اس بات کا خیال رکھیں کہ دکاندار کے پاس ایک سند (Certificate) موجود ہو جس میں محکمہ کی طرف سے دوکاندار کے پاس سند یافتہ اور تسلیم شدہ ناپ تول کے اوزاروں کی تفصیل ہو اور ان پر محکمے کا لیبل (Seal) بھی لگا ہو۔انہوں نے زور دیا کہ صارفین کے لیے ضروری ہے کہ وہ پیک شدہ اشیاء پر درج اہم معلومات مثلاً مینوفیکچرنگ کمپنی کا نام ،ایکسپائری ڈیٹ (Expiry Date) اور ایم آر پی (MRP) اور یو ایس پی (USP) یعنی یونٹ سیل پرائس (Unit Sale Price) کا غور سے جائزہ لیں۔جوائنٹ ڈائریکٹر کے مطابق، اگر کسی صارف کے ساتھ کبھی کوئی دھوکہ دہی یا ناانصافی ہو، تو وہ فوری طور پر محکمے کے ٹول فری نمبر 18001807114 پر اپنی شکایت درج کرواسکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ناپ تول میں ہیرا پھیری اور اشیاء کو غلط طریقے سے فروخت کرنے کو روکنے کے لیے ایک مؤثر قانون، ’’لیگل میٹرالوجی ایکٹ 2009‘‘، موجود ہے۔ انہوں نے دکانداروں کو بھی سخت متنبہ کیا کہ وہ اس قانون کی پاسداری کرکے صارفین کے حقوق کی خلاف ورزی نہ کریں۔
کھانے پینے کی ملاوٹ شدہ اور غیر معیاری اشیاء کی فروخت صارفین کے حقوق کے ساتھ ایک اور بڑا کھلواڑ ہے۔ بوسیدہ اور غیر معیاری گوشت کے حالیہ پے در پے واقعات نے اس بات کو عیاں کر دیا ہے کہ وادی میں مرغ، مچھلی اور گوشت سمیت دیگر خوراک جیسے انڈوں سبزیوں اور پھلوں کی فروخت میں کس قدر وسیع پیمانے پر بے ضابطگیاں پائی جاتی ہیں۔اگرچہ محکمہ فوڈ سیفٹی (Food Safety Department) نے اس سلسلے میں قابلِ ستائش کام کیا ہے، لیکن عوامی حلقوں میں ابھی بھی شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کیونکہ محکمہ کی کاروائیوں کے باوجود بھی آئے روز اس نوعیت کے کئی واقعات منظرِ عام پر آ رہے ہیں۔
دنیا کا کوئی بھی مذہب کاروبار اور تجارت میں دھوکہ دہی اور بددیانتی کی اجازت نہیں دیتا۔ جب میں نے اشیاے ضروریات کی فروخت میں ہونی والی گراں فروشی اور دھوکہ دہی کے حوالے سے وادی کے معروف مبلغِ اسلام اور کاروانِ اسلامی کے صدر، مولانا غلام رسول حامی سے بات کی تو انھوں نے اس غیر اخلاقی عمل کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے کہا کہ روزمرہ کی اشیائے ضروریات کو بلاوجہ مہنگا فروخت کرنا یا ان کی قیمتوں میں ازخود اضافہ کرنا قطعی طور پر ممنوع ہے۔ ان کے مطابق، اشیاء کی فروخت مروّجہ نرخ ناموں (Rate Lists) کے مطابق لازماً کی جانی چاہیے، جو موجودہ سرکار، کسی کمیٹی یا بلدیاتی ادارے، کی طرف سے ہی مقرر کئے جاتے ہیں۔ اور اگر کوئی اس کی خلاف ورزی کرے گا تو وہ سزا کا مستحق ہو گا۔انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر کوئی تاجر یا دکاندار قلت کے وقت، کم قیمت پر خریدی گئی اشیائے ضروریات کو اتنے زیادہ مہنگے داموں میں بیچے جو اس کے لیے ضرورت سے زائد نفع اور دوسروں کے لیے شدید نقصان کا باعث بنے، تو اسلام میں ایسی تجارت کرنا سراسر حرام ہے۔
صارفین کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ وہ اپنے حقوق کے تئیں از خود بیدار ہوں تاکہ وہ دھوکہ دہی اور گراں فروشی کا شکار نہ بنیں۔ حکومت نے صارفین کی شکایات کے ازالے کے لیے مختلف ادارے قائم کیے ہیں، جن میں کنزیومر کورٹس (Consumer Courts)سرفہرست ہیں۔کنزیومر کورٹ وہ پلیٹ فارم ہے جہاں صارفین کسی بھی غیر معیاری شے، غلط اشتہار دینے والی کمپنی یا کاروباری ادارے، یا اشیاء کی فروخت میں دھوکہ دینے والے تاجر یا دکاندار کے خلاف مقدمہ دائر کر کے انصاف حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، شکایات کے فوری ازالے کے لیے گریوینس سیلز (Grievance Cells) کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ متعلقہ محکموں کے ساتھ ساتھ عام صارفین بھی متحرک ہو کر ان غیر قانونی اور غیر اخلاقی کاروباری سرگرمیوں کی روک تھام کو یقینی بنائیں۔
صارفین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اشیائے ضروریات کی خریداری کے دوران مروجہ قوانین اور ضابطوں کے تحت ہی خریداری کریں جبکہ متعلقہ محکموں کی ذمہ داری ہے کہ وہ صارفین کے حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے تمام عناصر کے ساتھ سختی سے پیش آئیں اور ان جرائم میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائیں ان مشترکہ کوششوں کے ذریعے ہی صارفین کے ساتھ دھوکہ دہی اور گراں فروشی کے جرائم کو جڑ سے ختم کیا جا سکتا ہے ۔
(مدرس گورنمنٹ ماڈل ہائیر سیکنڈری سکول زوہامہ)
[email protected]
����������������