عظمیٰ ویب ڈیسک
نئی دہلی/راجیہ سبھا میں وزیر مملکت برائے تعلیم جینت چودھری نے بدھ کو منافع خوری اور بچوں کو اسکول یونیفارم سے لے کر کتابوں تک ہر چیز خریدنے پر مجبور کرنے کے الزامات پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ تمام اداروں کو ایک ہی رنگ میں رنگنا غلط ہوگا۔بیجو جنتا دل (بی جے ڈی) کی سلتا دیو نے ایک ضمنی سوال پوچھا، جس میں الزام لگایا کہ نجی اسکول تعلیم کے نام پر منافع خوری کر رہے ہیں۔ والدین کو اسکول سے ہی یونیفارم، کتابیں اور اسکول بیگ خریدنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔اس کے جواب میں چودھری نے کہاکہ تعلیم کنکرنٹ لسٹ کے تحت ایک مضمون ہے اور ریاستیں اس میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ میرا اعتراض یہ ہے کہ… آپ تمام اداروں کو ایک ہی رنگ میں رنگ رہے ہیں، یہ کہہ کر کہ پرائیویٹ اسکول منافع خوری کر رہے ہیں۔ ایسا کہنا ناانصافی ہوگی۔
ایک اور ضمنی سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ موجودہ مالی سال میں جامع تعلیم کے لیے 14,013 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں کل 14.71 لاکھ اسکول ہیں جن میں سے 11.64 لاکھ ریمپ ہیں۔ مرکزی حکومت ان اسکولوں کے لیے بیت الخلا اور دیگر سہولیات کی تعمیر میں ریاستوں کی مدد کرتی ہے۔
ایک سوال کے تحریری جواب میں وزیر نے ایوان کو بتایا کہ سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی تعداد بڑھ رہی ہے، طلباء کی تعداد کم ہو رہی ہے۔ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی تعداد 2022-23 میں 48.96 لاکھ سے بڑھ کر 2023-24 میں 50.38 لاکھ اور 2024-25 میں 51.50 لاکھ رہی۔ وہیں، طلباء کی تعداد، جو 2022-23 میں 13.62 کروڑ تھی، 2023-24 میں کم ہو کر 12.75 کروڑ اور 2024-25 میں 12.16 کروڑ رہ گئی۔
پارلیمنٹ میں پرائیویٹ اسکولوں پر منافع خوری کا الزام، وزیر کا اظہار اعتراض