قیصر محمود عراقی
کرپشن کی دولت سے آج نااہل ، اہل بن بیٹھا ہے، اسی کرپشن کی بدولت غریب کا چولہاٹھنڈا اور امیر کا گھر قمقموں سے روشن ہے، اسی کرپشن کی بدولت غریب کی بیٹی شادی سے محروم ہے، اسی کرپشن کی بدولت لاکھوں گھر برباد ہوچکے ہیں۔ کرپشن یعنی بدعنوانی کا لفظ آج کل سیاست میںبہت زیادہ استعمال کیا جانے لگا ہے، اس کا مطلب ذاتی فائدے کے لئے اپنے عہدے کا ناجائز استعمال ہے۔ مثال کے طور پر اس کی ایک صورت کسی سیاست داں کا رشوت دینے والے فرد کو تعمیراتی ٹھیکہ دینے سے پہلے اس سے رشوت لینا ہے، دوسری صورت سیٹی کائونسل کے کسی رکن کا سرکاری خزانے سے اپنے اہل خانہ کی تعطیلات کے اخراجات ادا کرنا ہے، تیسری صورت کسی سرکاری عہدے دار کا شہریوں کا صاف پانی فراہم کرنے کے عوض ان سے رشوت طلب کرنا ہے۔ کرپشن یعنی بدعنوانی سے ویسے تو ہر کوئی متاثر ہوتا ہے مگر اقلیتی طبقے اور آبادی کے کمزور لوگ اس سے خاص طور پر متاثر ہوتے ہیں۔ دہشت گردی کے بعد ہندوستان کو سب سے بڑا خطرہ کرپشن سے ہے، چند لوگ کرپشن کے بل بوتے پر راتوں رات امیر ہونے کے خواب پورا کرنا چاہتے ہیں۔ کرپشن ایک ایسا مرض ہے جو معاشرہ کی جڑوں کو کھوکھلا کردیتا ہے، اس کی موجودگی میں ترقی کی راہ اور عام افراد کی حقوق پامال ہوتے ہیں۔ کرپشن ترقی کے عمل کا سب سے بڑا دشمن ہے، بلاشبہ کرپشن ایک ایسا گھُن ہے جو بڑھتے بڑھتے نہ صرف سماج اور قوم کو بلکہ پورے ملک کو اندرہی اندر کھوکھلا کردیتا ہے۔ کوئی بھی معاشرہ تب تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک اس معاشرے میں کرپشن یعنی بدعنوانی کے عناصر موجود ہونگے؟
کرپشن کی تعریف یوں کی جاسکتی ہے کہ ذاتی مفاد کے حصول کیلئے اختیارات کا ناجائز استعمال کرنا ، اس کی مختلف صورتیںاور مظاہر ہوسکتے ہیں، ایک فرد کا دوسرے فرد کو رشوت دینا یا لینا خصوصی طور پر سرکاری ملازم کا کوئی غیر قانونی یا ناجائز فائدہ پہنچانا بھی کرپشن کے زمرے میں آتا ہے، تاہم یہ اسی حد تک محدود نہیں، کرپشن کے دیگر مظاہر میں ایک سرکاری ملازم کا اقربا پروری کی بنیاد پر فوائد پہنچانا ، اختیارت کا ناجائز استعمال اور قومی خزانے کو نقصان سے بچانے کیلئے اپنے اختیارات کو بروئے کار لانا بھی شامل ہیں۔ اور جب یہ معاشرے میں سرایت کر جائے تو کرپشن اربوںکھربوںڈالر کی قیمتی وسائل کو تباہ وبرباد کرکے عواموں کو مشکل میں ڈال دیتی ہیں۔ کرپشن صرف مالی معاملات میں بے جا خرد برد کا نام نہیں ہے بلکہ اپنے پیشہ وارانہ ، سماجی اموراور دیگر عوامی ذمہ داریوں بجاآوری میںغفلت ، تساہلی ، بے ایمانی، دھوکہ دہی، مذہبی اخلاقی بات چیت کے حقائق سے انحراف ودیگر خرافات بھی بدعنوانی یعنی کرپشن میں شامل ہیں۔ حریص انسان معاشرے میں اخلاقی ، مالی ومادی ضابطوںکی خلاف ورزی اور اپنی قانونی عہدے ، اختیارات سے متجاوز ہوکر کرپشن ، بدعنوانی، غبن اور رشوت جیسے برے افعال اپناکر ایک طرف معاشرے کی اخلاقی معیاروں کی جڑیں کھوکھلی وتباہی سے دوچار کررہا ہے تو دوسری طرف آخرت وعاقبت کی بربادی کا سامان اکٹھا کرنے میں جٹا ہوا ہے۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ایک طرف انسان معاشرتی اور حکومتی اداروںمیںبدعنوانی وبے ضابطگیوں کا رونا روتا نظرآتا ہے تو دوسری طرف خود صدق ، امانت، دیانت، عدل وانصاف اور مسلمہ اخلاقی اقدار وحدود کی پامالی کا مرتکب بنا ہوا ہے۔
المیہ یہ ہے کہ الیکشن کے دوران ہندوستان کے ہر پارٹیاں سب سے بڑے مسئلے کرپشن کے خاتمے کا دعویٰ تو کرتی ہیں لیکن اقتدار میں آنے کے بعد خود کرپشن کے جال میں پھنس جاتی ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا اقتدار سے الگ ہوتے ہی نئی حکومت ان کو کرپشن کے الزام میں جکڑ لیتی ہے، آج سے سابقہ حکومتوں کے اراکین جو اس وقت اپوزیشن میں ہیں کرپشن کے مقدمات کا سامنا کررہے ہیںاور جیلوںمیں ہیں۔ یہی عمل موجودہ اقتدار میں رہنے والوں کے ساتھ مستقبل میں ہونے والا ہے۔ آج کرپشن کی بدولت عوامی ادارے تباہی سے دوچار ہیں، سڑکیں بنتے ہی ٹوٹ جاتی ہیں، بلڈنگز تعمیر کے چند سالوں کے بعد شکست وریخت کا شکار نظر آتے ہیں، پُل افتتاح سے قبل ہی گر جاتے ہیں۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ اس وقت ملک میں کرپشن کو ناجائز نہیں سمجھا جارہا ہے، چھوٹے بڑے ، سرکاری غیر سرکاری ، غریب اور سرمایہ دار جسے دیکھواپنی اپنی سطح پر کرپشن کا ارتکاب کرتا نظر آتا ہے۔ سرکاری اہل کار اپنے ذاتی فائدے کیلئے معاشی بدعنوانی میںمبتلا ہوجاتے ہیں، سرمایہ دار اپنے کاروبار میں ڈنڈی مارتا نظر آتا ہے، کارخانوںاور ملوںمیں دونمبر اور گھٹیاںپروڈکٹ تیار کی جاتی ہیں، مستری اور مزدور بھی ایک دن کا کام اپنی سست روی سے دو تین دن تک کھینچ کر لے جاتے ہیں، دودھ بیچنے والا پانی کی ملاوٹ کرکے اپنا منافع بڑھا لیتا ہے، انتخابات میں دھاندلی کرکے جیتنا ، ووٹوں کی خرید وفروخت کرکے حکومتیں بنانااور گرانا ہمارے ملک میں عام پریکٹس ہے۔ اصل دکھ کی بات یہ ہے کہ سب جانتے ہیں کہ یہ برا اور غیر اخلاقی کام ہے مگر کسی کو بھی اس برائی کا احساس ہوتا ہے اور نہ ہی شرمندگی ہوتی ہے۔بہر حال اب ضروری ہوگیا ہے کہ عوام کرپشن اور بد عنوانی کے خلاف اجتماعی جنگ کریں، عوام کو چاہئے کہ وہ ملک سے کرپشن کا خاتمہ کرنے کیلئے ایمانداری اور دیانتداری کا مظاہرہ کرے۔ کرپشن کے خاتمے کیلئے کرپٹ عناصر کو سخت سزائیں دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یاد رکھیں! زندگی کا حقیقی مقصد اور عنوان بندگی ہے، جب اصل عنوان ہٹ جائیں گے تو بدعنوانی آگے بڑھ کر اپنی آغوش میں لے لے گی، اس لئے آج یہ عہد کریںکہ ملک میں سے کرپشن اور ناانصافی کے خاتمہ اور میرٹ کے بول بالا کیلئے سب اپنی اپنی ذمہ داریاں نبھائیں گے تاکہ عوام میں پھیلی مایوسی اور ناامیدی کا خاتمہ ہوسکے۔ کرپشن نے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کردیا ہے اس عام شہریوں، اساتذہ ، سول سوسائٹی اور میڈیا کو اس سے آگاہی اور اس کے انسداد کیلئے بھرپور مہم چلانے کی ضروری ہے۔
رابطہ۔:6291697668