فہم و فراست
ندیم خان ، بارہمولہ
دراصل 1949ء میں جارج آرویل (George Orwell) نے ایک خاص افسانوی ناول شائع کیا تھا، جس کا نام تھا 1984 اس کتاب میں سرکاری آمریت کی بات کی جاتی ہے جس کو ایک انجان بڑے بھائی یعنی (Big Brother) کے زیر نگرانی میں رکھا جاتا ہے۔ پوسٹرز لگائے جاتے ہیں کہ (Big Brother is Watching You) یعنی بڑے بھائی آپ کو دیکھ رہے ہیں، اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ آمرانہ حکومت کی نظر ہمیشہ آپ پر ہے۔ 1999 میں نیدرلینڈ میں کچھ لڑکوں نے اسی افسانوی ناول سے متاثر ہو کر ایک ریلیٹی شو شروع کیا اور پھر اس کو ٹی وی شو میں بدل دیا، جس کا نام (Big Brother) رکھا گیا۔ اس شو کا تصور یہ تھا کہ کچھ لوگوں کو ایک گھر میں لگاتار بڑے بھائی کی نگرانی میں قید رکھا جائے گا۔ اس شو کو ترتیب دینے اور اس کا فارمیٹ بنانے کے لئے کچھ اور اس دور کے مشہور ٹی شوز سے بھی مدد حاصل کی گئی تھی۔ جیسے ایم ٹی وی ریلیٹی شو، دی ریل ورلڈ اور 1999 کا مشہور ٹی وی شو (Expedition Robinson) کچھ وقت کے بعد یہ ریلیٹی شو مشہور ہوگیا اور پوری دنیا میں اس شو کے چرچے عام ہونے لگے۔ اسی تصور کو نقل کر کے امریکہ، چین، روس، سوڈان، برازیل، انڈونیشیا، سری لنکا، ملیشیا، فرانس اور بھی دیگر ملکوں کے لوگوں نے بھی اپنے اپنے ٹی وی شوز ترتیب دینے شروع کر دئیے اور ان شوز کو بڑے بھائی یعنی (Big Brother) نام دینا شروع کر دیا، اور جب نقل کرنے کی بات آتی ہے تو بھارتی انٹرٹینمنٹ پیچھے نہیں رہ سکتا اور پھر ( Big Brother) کے اسی نام کو لےکر بھارت میں بنا دیا گیا (Big Boss) ،اور پھر کیا تھا مشہور ہونے کے بعد جلد ہی اسے کئی زبانوں میں بھی ٹی پر شروع کیا گیا۔ ہندی کے بعد تامل، مراٹھی، انگریزی، ملیالم، بنگالی، پنجابی وغیرہ اور پھر جب او ٹی ٹی پلیٹ فارمز آئے تو پھر اسے بنا دیا گیا (big Boss OTT) جارج آرویل نے اپنے افسانوی ناول میں (big Brother) کا نام انتباہ کے طور پر استعمال کیا تھا۔ دراصل وہ سٹیلن اور ہٹلر کے دور کی حکومتوں کو تنقید کررہے تھے کہ آمریت میں کس طرح کی چیزیں استعمال کی جاتی ہیں لوگوں کو بیوقوف بنانے کے لئے۔ ٹی وی سکرین پر کس طرح انٹرنیٹ کے نام پر پروپیگنڈا بنایا جاتا ہے اور کیمرے کی خوفیا ئی آنکھوں سے ہر ایک انسان پر کڑی نگرانی رکھی جاتی ہے۔ بگ باس میں صرف دوسروں کو چوٹ پہنچاکر کسی فرد کی رازداری کا بنا خیال رکھے ہوئے اور دوسروں کو ذلیل کر کے پھر مزہ لینا ہے۔ اس مشہور شو کی کہانی آپ کو شاید یہ غلط لگے لیکن اگر آپ اس شو کو بیٹھ کر دیکھتے ہیں تو آپ بھی اتنے ہی خطاکار ہیں جتنا کہ وہ اس شو کا انتظام کرنے والے۔ آپ نے اکثر ایسا دیکھا ہوگا کہ کسی جگہ دو لوگوں کے درمیان جھگڑا ہو رہا ہو، تو وہاں موجود آس پاس کے لوگ اس جھگڑے کو روکنے کے بجائے تماشا دیکھنے لگتے ہیں، اسی طرح جب کبھی دفتر میں مالک اور ملازم کے درمیان کسی بات پر نوک جھونک ہورہی ہو تو وہاں موجود بقیہ تمام ملازمین ان کے اس رویے کو ختم کرنے کے بجائے اسے ایک انٹرٹینمنٹ کی طرح سمجھنے لگتے ہیں اور خوب مزے لیتے ہیں۔ اسی طرح یوٹیوب اور فیسبک پر دوسرے لوگوں کا استعمال کر کے انہیں بیوقوف بنانے، گالیاں دینے، بے عزت کرکے خوش ہوکر اور مزے لینے والے لوگ بھی آج بھارت میں پوری طرح اپنا کام کررہے ہیں، اور اب بگ باس بھی کچھ اسی طرح لوگوں کو ایک گھر ایک جمع کرکے بے حیاء، بدبختی، گالی گلوج، تنقید، فحاشی اور دوسروں کوذلیل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے ہیں ،جس سے ہمارا سماج تباہ وبربادی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ بگ باس نے اب لوگوں خصوصاً نوجوانوں کے نبض کو پکڑ لیا ہے، ان کو پتہ ہے کہ لوگوں کو بکواس دیکھنے میں کتنا مزا آتا ہے، اور انہیں یہ چیزیں دکھاتے رہنے میں کتنا فائدہ ہے۔ بگ باس میں حصہ لینے والے اکثر باہمی لڑائیوں میں ایک دوسرے کے اوپر برتن پھینکتےرہتے ہیں اور فحش کلامی کے ساتھ ساتھ گالی گلوج کرتے رہتے ہیں۔ یہ چیزیں بگ باس میں حصہ لینے والے اُمیدوار خود نہیں کرتے بلکہ ایسا کرنے کے لئے اُنہیں اکسایا جاتا ہے، ایسا کرنے پر ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور جو اِن سب چیزوں کو کرنے میں ٹاپر بن جاتا ہے ، وہی بگ باس جیت جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بگ باس میں حصہ لینے والوں کو ایسے ایسے بیہودہ کام کرنے کو دئیے جاتے ہیں جیسے کہ گوبر میں نہانا، آنکھوں میں لال مرچ ڈالنا، کتے کے برتن سے پانی پینا، ایک دوسرے کے راز افشاں کئے جانا اور بھی نہ جانے کیا کیا جو شاید بولنے کے قابل نہیں ہے اور اِنہی سب بیہودہ چیزوں کو دیکھ کر بھارتی عوام اس سے محضوظ ہوتے ہیں۔ بگ باس 19 میں پچیس سے تیس سی سی ٹی کیمرے نصب کئے گئے ہیں، جن سے بگ باس کے گھر میں موجود لوگوں پر کڑی نظر رہتی ہے اور بگ باس میں حصہ لینے والے لوگوں کو بھی پتہ ہے کہ ہم پر کیمرے کی نظر ہر وقت رہتی ہے اور ہمیں اپنا رویہ تبدیل کرنا ہے تاکہ ہماری کارکردگی بڑھ جائے اور بگ باس میں بیہودہ اور ذلیل کام میں ماہر ہونے کا مطلب ہی اچھی کارکردگی ہے۔ ویسے تو بگ باس میں کوئی اچھا انسان نہیں جائے گا اور نہ ہی آپ نے کبھی دیکھا ہوگا اور اگر کوئی شریف اور اچھا انسان غلطی سے چلا بھی جائے تو اسے بھی ان بیہودہ کام کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور انہیں کرنے کے لئے اکسایا جاتا ہے۔ جو لوگ ایسی گندی اور شیطانی حرکات نہیں کرپاتے، انہیں بگ باس سے بہت جلدی نکال لیا جاتا ہے کیونکہ انہیں ٹی آر پی نہیں ملتی، اسی طرح بگ باس میں حصہ لینے والے ماڈل، گیت کار، ایکٹر، سوشانت دیوچکر اور بوج پوری ایکٹر کیسری لال یادو کو بگ باس سے بہت جلدی نکال لیا گیا تھا، بنا کوئی وجہ بتائے اور پھر اِن دونوں نے ہی ایک انٹرویو میں کہا کہ بگ باس میں کام کرنے والوں کے پاس دماغ نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ وہاں صرف شیطانی کام کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس شو میں اگر آگے بڑھنا ہے تو لوگوں کو گالیاں دینی ہیں، لوگوں سے مار پٹائی کرنی ہے، گندے کام کرنے ہیں، ایسا ہم نہیں کرسکے، جس کی وجہ سے ہمیں اس شو سے بہت جلدی نکال دیا گیا۔ کیونکہ ان کو ٹی آر پی ایسے نہیں ملتی۔ آپ جسے ہنستے ہوئے اس شو کو اپنے پریوار کے ساتھ دیکھتے ہیں ،وہ دراصل بگ باس نہیں بلکہ جارج آرویل نے اسے سیاست کے لیے خوفیہ نگرانی کا نام دیا تھا۔ کیونکہ آپ کی ٹی وی سکرین پر جو کچھ بھی چل رہا ہے ،وہ انٹرٹینمنٹ نہیں بلکہ آئینہ ہے۔ بگ باس کی ٹی آر پی اتنی زیادہ ہے کہ آپ حیران رہ جائیں گے ۔آج ہم ایسی سچائی کی بات کررہے ہیں جسے غور سے پڑھنا آپ کے لئےضروری ہے۔ دی اکنامک ٹائمز کے ڈیٹا کے مطابق 2018 کے سیزن میں بگ باس کو 112 بلین ویوز آئے تھے اور 205 ملین لوگوں نے اس شو کو دیکھا ہے۔ جب دی اکنامک ٹائمز نے یہ ڈیٹا لوگوں کے سامنے رکھا تو لوگ حیران رہ گئے۔ حالانکہ اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں،بگ باس کو 2025 کے سیزن میں کچھ دنوں میں ہر ہفتے 7.5 ملین لوگ دیکھ رہیں ہیں۔ اس کا مطلب کیا ہے اتنے ویوز کیوں بٹور رہا ہے بگ باس۔ بس وجہ یہی ہے لوگ بیہودہ چیزوں کو دیکھنے میں اپنا وقت زیادہ صرف کررہے ہیں، لڑائی جھگڑا اور شیطانی کام دیکھنے میں اُنہیں مزا آتا ہے۔ لیکن اب میرا سوال یہ ہے کہ آخر آپ یہ بیہودہ شو کیوں دیکھتے ہیں؟ یہ ٹی وی شو کا وائرس آپ کو اپنے جال میں کیسے پھنسا گیا؟ کہیں ایسا تو نہیں ہم اپنی زندگی سے دور بھاگنے کی کوشش کررہے ہیں۔ آپ جذباتی طور یہ شو دیکھنے پر کیوں تیار ہوتے ہیں؟ دوستو آپ ذرا سوچئے !اس شو میں وہ چیزیں دکھائی جاتیں جو سماج میں آئے روز چل رہی ہیں اور جو بھی ریلیٹی شوز میں دکھایا جاتا ہے وہ سب پہلے سے ہی طے شدہ ہوتا ہے۔ بھارت کے سب سے بڑے یوٹیوبر دھرو راٹھی جو ہمیشہ سے ہی سماج کو فائدہ دینے والے ویڈیوز پر ہی زیادہ توجہ دیتے ہیں، جیسے تعلیم، سیاست، ادب، اخلاقیات، کھیل، دانشورانہ،تاریخ، شخصیات، سماجیات وغیرہ پر ویڈیوز بناتے ہیں، ہر کوئی دیکھنا پسند کرتا ہے۔ دھرو راٹھی سے ایک انٹرویو کے دوران پوچھا گیا کہ آپ بگ باس میں جانا پسند کریں گے؟ انہوں نے جواب میں کہا کہ بالکل نہیں۔ اگر مجھے کروڑوں روپے بھی اس کے لئے دیے جائیں تو بھی میں ان بیہودہ شوز میں کبھی نہیں جاؤں گا۔ واقعی میں ایسے ریلیٹی شوز سماج کے لئے بہت بڑا خطرہ ہے ،وہ اس لیے کیوں کہ ہم نے ان شوز کو دو دو ہاتھوں سے قبول کیا ہے اور یہی قبولیت اس کی سب سے بڑی پریشانی ہے۔ اس لیے اس شو کو بالکل ایسے ہی دیکھیں، جیسے 1984 میں دکھایا گیا ہے۔ کیونکہ قید میں صرف وہ لوگ بند نہیں جو اس شو میں حصہ لے رہے ہیں بلکہ قید میں کروڑوں لوگ بند ہیں جو اس میں حصہ لے رہے ہیں۔ اسی لیے آپ سب سے گزارش ہے کہ آپ اپنے دماغ کا صحیح استعمال کریں، آپ کا دماغ کوئی کوڑا دان نہیں کہ کوئی بھی آکر آپ کے دماغ میں کچھ بھی ڈال کر چلا جائے۔ جو بھی چیز آپ دیکھنے والے ہیں ،اس کو غور سے سمجھیںکہ کیا یہ میرے دیکھنے لائق ہے یا پھر نہیں، اور اس کو دیکھنے سے آپ کی زندگی پر مثبت اثر پڑتا ہے یا منفی۔ اب یہ آپ کو سوچنا ہے بگ باس شو دیکھنے سے آپ کی زندگی میں کیا بدلاؤ آیا ہے؟
(رابطہ۔ 9596571542)
[email protected]