ڈاکٹر شاہنواز چوہدری
فرانسس بیکن نے کہا تھا ،لوگ انقلاب کے معنی جنگ سمجھتے ہیں، یہ پرلے درجے کی Misunderstanig ہے۔ انقلاب کے معنی تبدیلی کے ہوتے ہیں جنگ کے نہیں ۔ان اقوال کے معنی اس وقت سمجھ آتے ہیں جب ہم معاشرے میں مصلح قوم یا رہنماؤں کی کی گئی بے مثال تبدیلوں کی کوئی بڑی تحریک یا ان کے رول کو دیکھتے ہیں ،جن کےFallout عوام کی بڑی تبدیلی کا باعث ہوں۔1857 کے انقلاب نے ہمارے سماج کےپراچین اتہاس کے کئی پنے اُلٹ پلٹ کے رکھ دیے تھے، انگریزوں کے جورو جبر نے ہماری سماجی خوبصورتی اور ہمارا باہمی بھائی چارہ تلپٹ کر دیا تھا، ہمارے وقار کی نہ کوئی آئینی حیثیت تھی اور نہ سماجی ۔یہی وہ رنج و الم و مصائب کے حالات ہیں ،جن میں اعلی شخصیات جنم لیتی ہیں جو قوموں کو کندھا دیتی ہیں۔ ہمارے ملک میں ایسی کئی شخصیات موجود تھیں جنہوں نے ہمارے پراچین اتہاس کی خوبصورتی کو جانوں کے نذرانے دے کربچایا، کچھ نےجیلوں کی سزائیں کاٹ کر اور کچھ نےوژن اور آئیڈیالوجی کے محاذ پر کام کر کے دِگرگوں حالات کو پلٹا کر اپنے قومی وقار کی بازیافت کی ۔ان میں تانتیا ٹوپے،جھانسی کی رانی، لکشمی بھائی،منگل پانڈے ،بیگم حضرت محل،بہادر شاہ ظفر کے علاوہ اور بھی کئی شخصیات تھیں جن کا تفصیلی پسِ منظر اور فہرست بہت طویل ہے، ان ہی نامور شخصیات کی فکری اور قومی قربانی کے جذبے کے نتیجے میں انیسویں صدی کے آخر میں ہمیں سرسید احمد خان ملے،جنہوں نے ملک کے لیے نئی تعلیم کاخواب دیکھا جس کا مقصد یہ تھا کہ ہم گوروں کامقابلہ علم کی سطح پر کریں۔ سیداحمد نے یورپ میں جاکر سٹڈی کی اور یہاں آکر آثار الصنادید کے پرانے نقشے کو تبدیل کردیا۔
سید احمد عمارتیں بنانے والاکوئی انجینئر یا کاروباری نہیں تھا، وہ ایک سوشل ریفارمر ،ماہرِ تعلیم اورمصلح قوم تھا، جس نے مشکل ترین حالات میں نئی تعلیم کے نہ صرف خواب دیکھا بلکہ اسکو عملی طور پر پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی ہمہ گیر جدوجہد بھی کی تاکہ ہندوستانی قوم جدید تعلیم سے بہرہ ور ہوکے یورپی اقوام کا مقابلہ علم کے میدان میں کرسکے۔درحقیقت جدید تعلیم جس میں سائنس اور ٹیکنالوجی شامل ہیں، کے سرسید زبردست حامی اور حمایتی تھے ،ان کی اس تحریک سے متاثر ہوکر آئندہ وقتوں میں بہت سی شخصیات نےتعلیمی بہتری کے لئے کام کئے، وہ سرسید تو نہیں کہلا سکتے لیکن علامتی سرسید بننے کا حق اُن سے کوئی نہیں چھین سکتا،مگر محنت میں خلوص اور وژن کی قربانی شرطِ اول ہے، یہ قیمتی فکر ایسی دولت ہے جو نہ تو کسی کے دینے سے ملتی ہے اور نہ ہی کہیں سے چرائی جاسکتی ہے۔
خورشید بسمل کے ساتھ پہلی ملاقات کب اور کہاں ہوئی معلوم نہیں ہے ،لیکن حقیقت دریافت ہونے کے بعد معلوم ہوا کہ خورشید بسمل خطہ ٔپیر پنچال میں واحد ایسا نرا اور خالص مصلح ٔ خطہ ہے، جس نے یکم نومبر 1976ء نظریاتی طور پر ماڈرن تعلیم کا پہلا ادارہ بابا غلام شاہ اکادمی قائم کیا۔ ان کی یہ کوشش بارآور ثابت ہوئی اور یوں خطۂ پیر پنچال میں خورشید بسمل ماڈرن تعلیم کے پہلے آرکیٹیکٹ اور جینون معلم بھی بن گئے۔ آج سے پچاس سال پہلے ایسے پہاڑی خطے میں جہاں گھراٹ کے چلنے کی آواز کے ساتھ بکری اور بھیڑ کے بچے کے ممیانے کی آوازوں سے کان پک جاتے ہوں،کسان کے بیل ہانکنے کی آواز دور تک سنائی دیتی ہو، وہاں کسی ماڈرن اکادمی کی خواب کو شرمندہ تعبیر کرنا اور خطے کے بچوں کو ماڈرن مستقبل کی شروعات کے لیے نئی تعلیم کے ساتھ تیار کرنا جوئے شیر نکالنے کے برابر تھا۔ اس مشکل ترین مرحلے کو کامیابی تک تعمیر کر کے لے جانے والے خورشیدبسمل راجوری پونچھ سے پہلے ماہر ِ تعلیم ہونے کے عملی ثبوت کی بنیاد سن ستر کی دھائی میں رکھ چکے ہیں۔ مذکورہ اکادمی میں اس وقت لوگوں کے گھروں سے compaign کر کے بچوں کو لایا گیا ،خود خورشید بسمل کا بیٹا ان تیرہ بچوں میں شامل ہے جن کا داخلہ سب سے پہلے اس اکادمی میں ہوا ۔اس جدید تعلیمی پہل کی وجہ سے پہلی بار خطے کے بچے ماڈرن تعلیم کی دوڑ میں شامل ہوئے۔خورشید بسمل بطورِ شاعر اور ادیب خطہ پیر پنچال کا ایک خوبصورت نام ہے جب بھی کسی علمی یا ادبی مجلس کا اہتمام ہوا، بسمل اس میں سر فہرست رہے ۔نئی اور جدید فکر کے ساتھ بسمل کو زبردست رغبت رہی ہے ،موصوف کو نئی تعلیم کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کا عمر بھر زبردست شوق رہا۔ ان کے نت نئے اور چھوٹے چھوٹے تجربے کب کسی بڑی نئی علمی تحریک کا روپ دھار لیں گے معلوم نہ تھا ۔
سن 80کی دہائی کے اوایل میں بسملؔ نے بابا غلام شاہ بادشاہ کے نام پر تعمیر کردہ اکادمی کو بابا غلام باشاہ یونی ورسٹی میں تبدیل کرنے کی زوردار آواز اٹھائی، جس کی پزیرائی خطے کے بڑے عوامی حلقے میں ہوئی نئی تعلیم اور جدید کورسس سے لیس یونی ورسٹی کے وژن کی مانگ پُرجوش طریقے سے اُبھر کرمنظرِعام پر آئی، بسمل کا یہ جدید مباحثہ اور نقطہ نظر بابا غلام شاہ بادشاہ یونی ورسٹی کو عملی صورت دینے کی تحریک میں بدل گیا اور خطہ پیر پنچال کے عوام کا ترجیحاتی مدعا بن گیا۔
خطے کی قیادت سے عوام تک ہر ایک آدمی یونی ورسٹی کے خواب کو عملی طور پر شرمندہ تعبیر کرنے کی دوڑ میں منہمک ہوگیا، بسمل اس اعتبار سے نظریاتی طور پر یونی ورسٹی کے بنیاد گزاروں میں خطہ پیر پنچال کے پہلے نظریہ ساز ہیں۔خورشیدبسمل نے گھر گھر جا کر یونی ورسٹی کے قائم ہونے کے عملی منصوبے کی Compaign کی اور جگہ جگہ عوامی مجالس اور اجتماعات میں اس منصوبے کو عملی شکل دینے کی ضرورت پر زور دیا۔عوامی مطالبات کی اس پر زور مانگ نے حکومت کے دروازے کھٹکھٹائے،وقتی سرکارنے اس معاملے پرسنجیدگی سےغور کر لیا لیکن معاملہ زیرِ التوا ہی رہا ۔بسمل نے کئی بار ڈیپوٹیشنز کے ہمراہ اس تعلیمی دانشگاہ کے مطالبے کو وقتی حکمومت کے ساتھ اٹھایا۔حکومت نے مانگ کو پورا کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی تاکہ یونی ورسٹی کا ناک نقشہ تیار ہو،لیکن نتائج کی صورتِ حال کسی خاص وجہ سے نہیں بلکہ Conventional ractices کی طرح یوں ہی زیرِ التوا ہوتی رہی۔ 1996کے بعد اس مدعے کی مانگ نے بہت زور پکڑا، اس عرصے میں فاروق عبداللہ صاحب وزیر اعلی جموں کشمیر تھے محمد شفیع اوڑی وزیر تعلیم تھے ۔پروفیسر ظہورالدین کا نام وائس چانسلر کی تقرری کے لیے وزیر اعلی کو منظوری کے لیے پیش کیاجانا لگ بھگ طے تھا، پروفیسر ظہورالدین صاحب کا وائس چانسلر بننا بھی یقینی لیکن التواہی معاملہ بھی اپنی معیاد کھینچتا رہا۔
بہرکیف ہوتے نہ ہوتے کی معیاد میں سن 2003کےانتخاب کا دورانیہ نزدیک آن پہنچا ،اب کی بار انتخابات میں نئی حکومت معرض وجود میں آگئی ۔اس بارمفتی محمد سید کانگرس کے اشتراک سے جموں کشمیر کے نئے وزیرِ اعلی تھے ،مفتی صاحب بڑے منجھے ہوئے سیاست دان اور ایک ویثنری رہنما تھے جن کے سیاسی حالات کی ایک لمبی تفصیل ہے جس کے unfold کرنے کا یہاں محل نہیں۔وزیرِ اعلی کا آفس سنبھالتے ہی یونی ورسٹی کے قیام کا معاملہ مفتی صاحب کے لئے اولین ترجیحات میں شامل ہوگیا، مفتی صاحب ظہور صاحب کی علمیت اور انتظامی امور کی اہلیت سے ناواقف تھے، ظہور صاحب کے علمی کارنامے بھی اس قدر آفاقی نہیں تھے کہ انہیں جموں و کشمیر کا ہر خاص عام جانتا ۔ان کا نام اردو دنیا کے ایک محدود حلقے تک ہی تھابلکہ انتظامی دیکھ ریکھ کی بھی ان میں بہت کم صلاحیتیں تھیں۔ لہٰذا ظہور صاحب کے معقولات کی فہرست اس قدر توانا نہیں تھی کہ وہ کسی یونی ورسٹی کے انتظامی اور علمی ڈھانچے پر تعینات بانی مبانی وائس چانسلر کی حیثیت سے اس بڑے کام کو تکمیل تک پہنچا پاتے۔
قرعۂ فال مسعود چودھری کےنام پڑ گیا،مفتی صاحب مسعود صاحب کو جانتے تھے اور پھر دونوں کے علیگ ہونے کی وجہ بھی خاص تھی، اس سے پہلےمسعود بطور ڈائریکٹر ادھم پور پولیس اکادمی میں اچھا کام انجام دے چکے تھے ۔دوسری صورت میں ان ہی دنوں مفتی حکومت میں ایک مخلص اور فہیم بیوروکریٹ کی حیثیت سے نعیم اختر وزیر اعلیٰ کے دستِ راست سمجھے جاتے تھے، مسعود کی حمایت کر رہے تھے گویا مسعود کے انتخاب کا مرحلہ اور بھی آسان ہوگیا،مسعود کو پہلے پہل یونی ورسٹی کا پروجیکٹ ڈائریکٹر تعنات کیا گیا اور 2004 میں بابا غلام شاہ بادشاہ یونی ورسٹی کا پہلا وائس چانسلر بنادیا گیا۔پھر اس میں کوئی شک نہیں مسعود نے دانست بھر کام کیا یونی ورسٹی کا ابتدائی ڈھانچہ جس کامنصوبہ جاتی پروجیکٹ بہت بڑا تھا،کو دنوں اور مہینوں میں تیار کر دیا گیا۔ اولین صورت میں حکومت نے کوئی بیس کروڑ روپیہ دیا لیکن یہ فنڈ اس قدر ناکافی تھا کہ مشکل سے Pre-Febric ڈھانچہ بھی تیار نہ ہوپایا۔ اسی اثنا میں ڈاکٹر ایاز رسول نازکی کی تعیناتی رجسٹرار کی حیثیت سے یونی ورسٹی میں ہوئی، ڈاکٹر ایاز رسول کی شاندار علمی بیک گرونڈ ہے ۔ایاز رسول کے آنے تک یونی ورسٹی میں کوئی بھی اکیڈیمک اور ایڈمنسٹریٹو سٹرکچرکے رولز ریگولیشنز موجود نہیں تھے، نازکی صاحب نے دن رات محنت کر کے یونی ورسٹی کی تمام کونسلز اور کمیٹیز کا ڈھانچہ تیار کیا اور سنٹرل گورنمنٹ سے فنڈنگ کے لیے communications کا سلسلہ شروع کیا تاکہ یونی ورسٹی کی اکیڈیمک اور Administrative Sustainabilty میں رکاوٹ نہ آئے۔ اس علمی چیلینج والے دور میں ایک دانش گاہ کاایک ایسے علاقے میں تیار کرنا جہاں کے عوام کسی بڑے علمی Challange کے لیے تیار نہ ہوں، ایک آزمائشی مرحلہ ہوتا ہے،مسعود نے یونی ورسٹی کا فیبرک ڈھانچہ سرعت کے ساتھ تیار کردیا اور پھر اسی رفتار سے بھرتی کے انبار بھی لگا دئیے، سلیکشن کے انتخاب کے مرحلے میں علاقائی نمائندگی تو ہوئی لیکن یونی ورسٹی کو جو چیلنجز درپیش تھے، ان کا سدِباب نہیں ہوسکا۔کوئی بڑا پروفیسر جس میں ایکڈیمک اور انتظامی دونوں صلاحیتیں موجود ہوں علاقے سے ابھر کر سامنے نہیں آسکا۔جیسے ڈاکڑ ذاکرحسین نے کرائسس کے حالات میں علی گڑھ کو کاندھا دیا تھا بلکہ یونی ورسٹی کے انتظامی امورات میں کئی نئی تبدیلیاں کرکے ایک شاندار دانش گاہ کے طورپر کھڑا کر دیا۔ ذاکر صاحب نےاساتذہ اور اسٹاف کے انتخاب اور تقرری میں ایسے قابل اور ذہین لوگوں کو یونی ورسٹی میں لایا جنہوں نے علی گڑھ کی تاریخ رقم کر کے رکھ دی، ڈاکٹر ذاکر حسین کی ان خدمات کو علی گڑھ کی تاریخ کبھی بھلا نہیں سکتی۔
بالفعل یہ موقع نہیں ہے کہ میں علی گڑھ کے تئیں ان کی خدمات کو مزید تفصیل کے ساتھ لکھوں۔بہرحال عمارات کے فیبرک ڈھانچے ،کلاسس ،کورسس، ,Committees اور کونسلز کے قیام کے بعدازاں بابا غلام شاہ یونی ورسٹی اپنے پہلے مرحلے میں داخل ہوچکی تھی۔ وائس چانسلر نے اسی اولین دورانیے میں یونی ورسٹی کے ترانے کے لیے کئی شعرا اور دانشوروں کو مطلع کیا۔ ترانے کے بہت سارے شعری ڈرافٹ تیار ہوے جن میں خورشید بسمل کا لکھا ترانہ بھی شامل تھا۔ یونی ورسٹی کے زعماءحل وعقد کی کمیٹی نے بہت چھان پھٹک کے بعد جس ترانے کا انتخاب کیا ،وہ خورشید بسمل کا تھا۔یہاں بھی اس دانشور اور تحریک ساز شخصیت کو امتیاز حاصل رہا کہ یونی ورسٹی کا پہلا ترانہ انہی کا تحریر کردہ ٬کوہ ہمالیائی پہاڑوں کی ہواوں اور فضاؤں میں گونجا ۔خورشید بسمل نے ایک شاعر اور دانشور کی حیثیت سے پیر پنچال کے خطے میں زبردست ادبی خدمات انجام دیں ہیں۔خورشید بسمل ابر نیساں اور ضؤفشاں دو شعری مجموعوں کے خالق ہیں اور آج تک تھانہ منڈی کے پہاڑوں کےزیر دامن تعلیمی نور کو پھیلانے کے لیے چراغ جلاے بیٹھے ہیں۔ گو کہ ان کے چراغ پر تیز ہوائیں اور آندھیاں بھی چلیں لیکن بسمل کے چراغ کی لوکبھی مدھم نہ ہوئی یہ چراغ آج تک مسلسل علمی نور کی روشنی پھیلا رہا ہے۔موصوف نے بہت سارے غر یب بچوں کی پرورش کی ہے،جنہیں تعلیم حاصل کرنے کے لیے مالی دشواریاں پیش آرہی ہیں۔ اسطرح بسمل نے کروفر کی زندگی کو تیاگ کر اپنی پوری عمر غریب بچوں کی علمی کفالت کے لیے صرف کردی ہے۔خورشید بسمل کے حوالے سے کچھ بنیادی قسم کے سوالات ابھر کر سامنے آتے ہیں ۔
۱۔خطہ پیر پنچال میں ماڈرن پبلک آکادمی کی پہل سب سے پہلے کس نے کی؟جواب ہے خورشید بسمل ۔
۲)بابا غلام باشاہ یونی ورسٹی کے قیام کے لیے سب سے پہلے تحریک کس نے شروع کی؟جواب ہے خورشید بسمل ۔
۳) اگر یہ سوال بھی قائم کیا جاے کہ یونی ورسٹی کا پہلا ترانہ کس نے لکھا؟جواب ہے خورشید بسمل ۔
لہٰذا اس ضمن میں یہ کہنا بالکل بجا ہوگا کہ علاقے کی تعلیمی فلاح و بہبود کے لیے بسمل صاحب نے ایک علمی معمار اور سلجھے ہوئے دانشور کی طرح مقررہ وقت پر مناسب تحریکیں شروع کیںاور ان کے نتائج بھی بارآور ثابت ہوئے ۔ہمیں بسمل کی پون صدی پر محیط تعلیمی خدمات پر پانی نہیں پھیرنا چاہیے اور نہ ہی اس ضمن میں ان کی تسلیم شدہ قاعدانہ صلاحیتوں کو ان سے چھین کر کسی دوسرے کے حصے میں ڈالنا چاہیے۔ میرے نزدیک یہ ادبی بددیانتی اور Visionary حقوق تلفی ہوگی ۔ہم اکیسویں صدی کے سایئنٹیفک دور میں رہ رہے ہیں، ہمارے خطے کی تاریخ ہمارے سامنے ہے اور اگر ہم صداقت کو دیکھ کر بھی آنکھیں موندھ لیں یا محض سینہ زوری کی بنیاد پرکسی خطاب یا ا
عزاز کی دوڑ میں لگ جائیں تو بقول جین پال سارتر جھوٹ کے پرکھنے کی اصل بات یہ ہوتی ہے کہ اس کو بولنے والاوہ سچ کہنے کے قابل نہیں تھا۔
رابطہ7006127508: