ڈاکٹر مبین نذیر
ایک ایسی کتاب جو تبصروں پر مشتمل ہو، اس کتاب پر تبصرہ کرنا یقیناً ایک انوکھا تجربہ ہے اور اس پر لکھا گیا تبصرہ بھی انوکھا تبصرہ ہی ہوگا۔ـ بہرحال ہم اس نرالے تجربے سے بھی گزرے ہیں اور آپ کو بھی اس میں شریک کرنا چاہتے ہیں۔ ـ اس کتاب میں 30 تبصراتی مضامین ہیں، جن کو ایس معشوق احمد نے سپرد قلم کیا ہے۔ـ کتاب کے آخر میں تین تبصرے ایسے ہیں جو خود مصنف کی اپنی تصانیف پر کیے گئے ہیں، ـ جہاں تک بات کتابیں جھانکتی ہیں، کی ہے اس میں تبصرہ نگار کو قارئین کی کمی اور مطالعے کے فقدان کا شدید احساس ہے ،وہ ’’اپنی بات‘‘ کی ابتدائی سطور سے ظاہر ہوتا ہے ـ ،لکھتے ہیں، ’’ کتابیں بے چین کیوں رہتی ہیں؟ شاید اس لیے کہ سنجیدہ قارئین ناپید ہوتے جا رہے ہیں اور کتابی کیڑے ٹیکنالوجی کے چھڑکاؤ سے کتابوں میں ہی مر گئے ہیں۔‘‘
اس جملے سے مبصر کے اسلوب اور طرز تحریر کا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ایک سنجیدہ مسئلے کو بھی اپنے مزاحیہ اسلوب میں کس طریقے سے بیان کر سکتے ہیں، ـ یہ تمام تبصرے وہ ہیں جو تبصرہ نگار نے کتابوں کے مطالعے کے بعد قلم بند کیے ہیں، ـ حالانکہ کمال یہ ہے کہ کتاب پڑھے بغیر تبصرے کیے جائیں اور کیے بھی جاتے ہیں، ـ کتاب پڑھ کر تو کوئی بھی لکھ سکتا ہے ـ۔ قیاس یہ ہے کہ کتاب کے مطالعے کے بغیر کیا گیا تبصرہ صاحب ِ کتاب اور قارئین کو زیادہ پسند آتا ہے۔ـ بہرحال کتابوں کا مطالعہ تو بہت سارے لوگ کرتے ہیں ـ ،پڑھ کر یا بغیر پڑھے کتابوں پر تبصرہ بھی کرتے ہیں، لیکن یہ تبصرہ یا تو زبانی ہوتا ہے یا سوشل میڈیا کی نذر ہو جاتا ہے، ـ محفوظ نہیں رہ پاتا۔ زیر مطالعہ کتابوں پر تبصرہ کرنا اور انہیں محفوظ رکھنے کی خاطر کتاب کی شکل میں شائع کرنا، اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ مبصر اگرچہ انشائیہ نگار ہے لیکن مطالعے،اپنی تخلیقات اور کتابوں کے تئیں سنجیدہ ہے ـ ۔
آپ اس ایک کتاب کے مطالعے سے 33 کتابوں کے حسن و قبح سے واقف ہو جائیں گے، یعنی ایک پنتھ اور 33 کاج اور وہ بھی تخلیقی، تنقیدی اور تحقیقی نوعیت کے ـ ساتھ میں آپ تبصرہ لکھنے کا فن مفت میں سیکھ سکتے ہیں ـ۔ کتابیں جھانکتی ہیں کو پڑھنے کے بعد آپ کو ادھر ادھر تانک جھانک کی ضرورت نہیں پڑے گی ـ ۔آپ بھی مصنف کی تقلید کیجئے کاغذ قلم لے کر بیٹھیے اور مصنف کے تبصروں پر ایک تبصرہ لکھ ماریے اور مصنف کو روانہ کر دیجیے ـ ،امید واثق ہے کہ ایس معشوق احمد تبصروں کی اس کتاب پر کیے گئے تبصروں کو بھی اپنے تبصرے سے نوازتے ہوئے کتابی شکل میں شائع کریں گے ـ۔ مبصر نے جہاں دوسروں کی کتابوں پر تبصرے اس کتاب میں درج کیے ہیں، وہیں اپنی گزشتہ کتابوں پر دوسروں کے ذریعے کیے گئے تبصروں کو بھی اس کتاب کا حصہ بنایا ہے۔ یعنی سارے جہاں کی فکر اور اپنے جہاں سے بے خبر والا معاملہ نہیں ہے ـ ،تبصرہ نگار کو اپنا اور اپنی کتابوں کا بھی خیال ہے اور وہ اسے بھی قارئین تک پہنچانا چاہتا ہے ،ـ ساتھ ہی اپنی کتابوں کی کمیوں اور کوتاہیوں کو جاننے کا خواہاں بھی ہے۔ ـ خامیوں کی نشاندہی کرنے والے کو اپنا خیر خواہ کہہ رہا ہے، ایسے شخص کے لیے تو کہنا ہی پڑے گا کہ اب انہیں دھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر۔
یہ نرے تبصرے نہیں ہیں بلکہ تبصرہ نگار نے انھیں مقالے کی طرح حوالوں اور مثالوں سے مزین بھی کیا ہے، جو ان کی تحقیقی خو کی غمازی کرتا ہے ـ۔ تبصرہ نگار نے کتابوں کے مشمولات کے ساتھ مصنف ،صنف ادب اور متعلقہ صنف کے فن پر بھی سیر حاصل گفتگو کی ہے ـ اور اپنی بے لاگ آرا کو تبصرے کا حصہ بنایا ہے۔ ـ تبصروں میں ایس معشوق احمد پوری کتاب کو کھول کر بیان کر دیتے ہیں، انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے ـ کتاب کے مشمولات، خوبیوں اور خامیوں کی طرف ہلکا سا اشارہ کر کے آگے بڑھ جانا چاہیے تاکہ قاری خود کتاب کا مطالعہ کرے۔ ـ اگر اسے تبصرے ہی میں سب معلوم ہو جائے گا تو وہ کتاب کیوں کر پڑھے گا؟ اس بات کو فلموں کے ٹیزر کی مدد سے سمجھا جا سکتا ہے کہ چند منٹوں میں ایک ایسا دل پذیر خاکہ پیش کر دیا جاتا ہے کہ نہیں دیکھنے والا بھی ٹیزر دیکھ کر فلم دیکھنے پہنچ جاتا ہے۔ ـ اسی طرح اگر کچھ لوگوں کو فلموں کی اسٹوری بتائی جائے تو وہ منع کر دیتے ہیں کہ اسٹوری سن لینے کے بعد فلم دیکھنے کا مزہ نہیں آئے گا، ـ یہی حال تبصرے کا بھی ہے کہ اگر سب کچھ تبصرے میں ہی آجائے تو پھر کتاب پڑھنے کا کیا فائدہ؟ انہیں تبصرہ کرتے وقت اس امر کو ملحوظ رکھنا چاہیے ـ، اگر وہ تخلیقات کے متن کو قاری پر چھوڑ دیں گے تو ان کے تبصرے مختصر اور جامع ہو جائیں گے۔ ـ اس تیز رفتار دور میں ہر کسی کو اختصار عزیز ہے، اس لیے میں بھی یہاں قلم روکتا ہوں ـ۔
رابطہ۔ 8983152574
[email protected]