عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/مرکزی جامع مسجد سری نگر میں نماز جمعہ کے موقع پرعوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظِ مولوی محمد عمر فاروق نے ریاست میں گزشتہ کچھ دنوں سے دہائیوں پرانے مقدمات کی بنیاد پر کی جانے والی گرفتاریوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات سے عوام میں بے چینی، اضطراب اور عدم تحفظ کا ماحول گہرا ہوتا جا رہا ہے، خاص طور پر اُن خاندانوں میں جن کے افراد برسوں پہلے اپنے ماضی سے مکمل طور پر دور ہو چکے ہیں اور پرامن زندگی گزار رہے ہیں۔میرواعظ نے کہا کہ پہلے ہی ہزاروں کشمیری قیدی جموں و کشمیر کے اندر اور بیرونِ ریاست مختلف جیلوں میں برسوں سے محبوس ہیں، جن میں سے کئی دہائیوں سے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔ اس صورتِ حال نے اُن کے اہلِ خانہ کو شدید ذہنی، مالی اور سماجی مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تازہ گرفتاریوں کا سلسلہ کشمیری عوام کے زخموں پر مزید نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے بیرونِ جموں و کشمیر جیلوں میں کشمیریوں کی مسلسل حراست سے جنم لینے والے سنگین انسانی، سماجی اور قانونی مسائل پر بھی توجہ دلائی۔ میرواعظ کا کہنا تھا کہ دور دراز کی جیلوں میں منتقلی کے باعث اکثر مقدمات کی سماعت میں تاخیر ہوتی ہے، جبکہ قیدیوں کے اہلِ خانہ کی ملاقاتیں بھی انتہائی محدود ہو جاتی ہیں، جو نہ صرف انسانی بنیادوں کے خلاف ہے بلکہ فطری انصاف کے اصولوں سے بھی متصادم ہے۔ریاستی حکومت سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے میرواعظ نے مطالبہ کیا کہ دہائیوں پرانے مقدمات کے طریقہ کار کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اور کشمیری قیدیوں کو واپس جموں و کشمیر کی جیلوں میں منتقل کیا جائے، تاکہ انصاف کا عمل زیادہ شفاف، تیز اور منصفانہ انداز میں آگے بڑھ سکے۔انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اُن افراد کی گرفتاریوں کے جاری سلسلے کو روکے جو گزشتہ کئی برسوں سے کسی بھی قسم کی تشدد آمیز سرگرمیوں سے وابستہ نہیں رہے اور ایک پُرامن، معمول کی زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات کشمیری معاشرے میں غیر یقینی کیفیت کو مزید بڑھا رہے ہیں، جس پر فوری توجہ اور سنجیدہ پالیسی اقدامات کی ضرورت ہے۔
کشمیری قیدیوں کی جموں و کشمیر منتقلی ناگزیر: میرواعظ