عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعے کے روز ایک سنگین دعویٰ کرتے ہوئے ملک بھر میں تین لاکھ پچپن ہزار سے زائد وقف جائیدادوں کے غائب ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ کمی اُس وقت سامنے آئی جب وقف املاک کا نیا امید ڈیٹا بیس متعارف کرایا گیا۔محبوبہ مفتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ نئے ڈیٹا میں ملک کی مختلف ریاستوں میں وقف جائیدادوں کی تعداد میں غیر معمولی کمی نظر آرہی ہے، جس میں جموں و کشمیر میں سات ہزار دو سو چالیس وقف جائیدادیں کم درج کی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ تضادات نہ صرف وقف املاک کے تحفظ بلکہ شفافیت پر بھی سنگین سوال کھڑے کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی ریاستوں میں وقف جائیدادوں کے ریکارڈ میں ہزاروں کی تعداد میں کمی سامنے آئی ہے، جو کہ پورے ملک میں وقف انتظام کے طریقۂ کار پر تشویش کو جنم دیتا ہے۔
محبوبہ مفتی نے الزام لگایا کہ مسلم کمیونٹی پہلے ہی تشدد، انہدام اور حق رائے دہی سے محرومی جیسے مسائل کا سامنا کر رہی ہے، اور اب وقف املاک کے ریکارڈ میں یہ مبینہ کمی اس کمیونٹی کے لیے ایک اور بڑا جھٹکا محسوس ہوتی ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر یہ سلسلہ کہاں جا کر رکے گا؟محبوبہ کے مطابق، ملک بھر میں وقف جائیدادوں کی تعداد دسمبر 2024 میں آٹھ لاکھ بہتر ہزار تین سو باون 8,72,352 درج تھی جو دسمبر 2025 میں کم ہو کر پانچ لاکھ سترہ ہزار چالیس 5,17,040) رہ گئی ہے، جو ایک بڑی اور حیران کن کمی ہے۔
محبوبہ مفتی کا بڑا دعویٰ: ملک بھر میں 3.55 لاکھ وقف جائیدادیں ریکارڈ سے غائب