عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/جموں و کشمیر کے محکمہ صحت و طبی تعلیم نے سپر اسپیشلٹی ہسپتال (ایس ایس ایچ) جموں میں کارڈیک آلات اور اسٹنٹس کی سپلائی اچانک بند کیے جانے کے سنگین معاملے پر فوری ایکشن لیا ہے۔ امِرت فارمیسی نیٹ ورک سے وابستہ چار سپلائرز نے 8 دسمبر سے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ضروری کارڈیک ڈیوائسز کی فراہمی روک دی تھی اور اس کی وجہ ادائیگیوں میں تاخیر بتائی تھی، جس سے ہسپتال کی اہم کارڈیالوجی خدمات شدید طور پر متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا تھا۔
محکمہ کے مطابق ایس ایس ایچ جموں میں انجیوانگرافی، انجیئوپلاسٹی، اسٹنٹنگ اور دیگر اہم کارڈیک مداخلتیں مکمل طور پر کیش لیس بنیادوں پر آیوشمان بھارت-پی ایم جے اے وائی صحت اسکیم کے تحت فراہم کی جاتی ہیں۔ سپلائی کی اچانک معطلی نے نہ صرف ان لازمی طبی خدمات میں خلل ڈالنے کا خطرہ پیدا کیا بلکہ مریضوں کی زندگیوں کو بھی غیر معمولی خطرے سے دوچار کیا۔حکومت نے معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے جی ایم سی جموں کو فوری ہدایات جاری کیں کہ وہ ضروری کارڈیک آلات اور اسٹنٹس کی فراہمی کے لیے متبادل سپلائرز اور ملک کے دیگر بڑے طبی اداروں—جیسے اے آئی آئی ایم ایس وجے پور، جی ایم سی سری نگر، ایس کے آئی ایم ایس صورہ اور پی جی آئی ایم ای آر چندی گڑھ—سے فوری طور پر سامان حاصل کریں۔ حکام کے مطابق ان اقدامات کے بعد ہسپتال کی کارڈیک خدمات بلا تاخیر بحال کر دی گئیں۔
اس کے ساتھ ہی حکومت نے سپلائی روکنے والے اداروں کے خلاف کارروائی بھی شروع کردی ہے۔ متعلقہ سپلائرز پر کارڈیک اسٹنٹس کو غیرقانونی طور پر ہسپتال سے باہر لے جانے کے الزام میں سی سی ٹی وی شواہد کی بنیاد پر فوجداری شکایت درج کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، پورے معاملے کی تفصیلی انکوائری کا حکم بھی دیا گیا ہے تاکہ ذمہ داروں کا تعین ہو سکے اور مستقبل میں اس طرح کی صورتحال سے بچنے کے لیے مضبوط انتظامی اقدامات کیے جا سکیں۔محکمہ صحت و طبی تعلیم نے کہا کہ عوام کو یقین دلایا جاتا ہے کہ حکومت مریضوں کی جان بچانے اور اہم طبی خدمات کو بلاخلل جاری رکھنے کے لیے پوری طرح سنجیدہ اور پرعزم ہے۔
سپر اسپیشلٹی ہسپتال جموں میں کارڈیک خدمات فوری بحال، سپلائی روکنے والے سپلائرز کے خلاف سخت کارروائی