عظمیٰ ویب ڈیسک
نئی دہلی/جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے رکنِ پارلیمان سجاد احمد کچلو نے منگل کو راجیہ سبھا میں الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں ہائیڈرو پاور پراجیکٹ ڈیولپر زطے شدہ شرائط کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور مقامی افراد کو روزگار فراہم نہیں کر رہے۔ انہوں نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے خصوصی کمیٹی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔زیرو آور کے دوران کچلو نے کہا کہ جموں و کشمیر میں بجلی کا بنیادی ذریعہ ہائیڈرو پاور ہے، جہاں کچھ منصوبے سرکاری کمپنی این ایچ پی سی تیار کر رہی ہے جبکہ دیگر جموں و کشمیر پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ کے تحت ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ منصوبہ ساز ادارے مقامی روزگار کی ذمہ داری پوری نہیں کر رہے اور ریاست کے ساتھ طے شدہ معاہدوں کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔انہوں نے منصوبوں سے متاثرہ لوگوں کی نامناسب باز آبادکاری کا معاملہ بھی اٹھایا اور کہا کہ آواز اٹھانے والوں کے خلاف پولیس شکایات درج کی جا رہی ہیں، جو قابلِ تشویش ہے۔ کچلو نے چناب دریا پر بننے والے چار بڑے ہائیڈرو پراجیکٹسپکل ڈول ، ریٹلے، کیرو اور کُوَرکا خاص طور پر ذکر کیا۔