فکر انگیز
ڈاکٹر آزاد احمد شاہ
وادیٔ کشمیر ، جو حیا، شرافت اور دینی اقدار کے لئے پہچانی جاتی تھی، آج وہاں کے اسکولوں اور کوچنگ مراکز میں ایسا ماحول پنپنے لگا ہے جو روح کو لرزا دیتا ہے۔ مختلف تعلیمی مراکز خصوصاً زیادہ تر کوچنگ سینٹروں میں جو مناظر اب دیکھنے کو مل رہے ہیں، وہ کسی ایک ادارے کا قصہ نہیں بلکہ ایک پوری نسل کی سمت بگڑنے کا اشارہ ہیں۔ بعض مراکز میں طلبہ و طالبات کے درمیان غیر ضروری میل جول، آزاد روی اور فیشن پرستی اس قدر عام ہو گئی ہے کہ محسوس ہی نہیں ہوتا کہ یہ تعلیمی ادارے ہیں یا تفریح کے اڈے۔ اُستاد کا وقار مٹ چکا ہے، شاگرد کا ادب ختم ہو گیا ہے اور تعلیم کا مقصد محض نمبروں اور نمائش تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ یہ انحطاط یکایک نہیں آیا بلکہ برسوں کی غفلت نے اسے جنم دیا۔ سب سے پہلی خرابی ہمارے تعلیمی نظام میں ہے، جس نے علم کو عبادت کے بجائے تجارت بنا دیا۔ہماری نئی نسل کو ایسی تعلیم دی جا رہی ہے جو انہیں خودی، غیرت اور مقصدِ حیات سے محروم کر رہی ہے۔ وہ علم تو حاصل کر رہے ہیں مگر اس علم سے کردار نہیں بن رہا۔ تعلیم کے نام پر انہیں وہ آزادی دی جا رہی ہے جو دراصل بگاڑ کی جڑ ہے۔
دوسری بڑی خرابی والدین کی غفلت ہے۔ اکثر والدین مطمئن ہیں کہ ان کے بچے ’’پڑھنے‘‘ جا رہے ہیں، مگر یہ نہیں جانتے کہ وہ کس ماحول میں وقت گزار رہے ہیں۔ نہ ان کے دوستوں کی خبر ہے، نہ ان کے ادارے کے مزاج کی۔ یہی غفلت وہ خاموش جرم ہے جس کا نتیجہ بعد میں ندامت کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ایک اور دکھ دینے والی حقیقت یہ ہے کہ ہمارے اسکول اور کوچنگ مراکز میں اخلاقی تربیت کو بالکل نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ تعلیم کا مطلب صرف ڈگری اور روزگار بن گیا ہے۔ اساتذہ میں وہ روحانی مقام باقی نہیں رہا جو کبھی ایک مشعلِ راہ ہوتا تھا۔ شاگرد اب ان کے سامنے احترام سے نہیں بلکہ بے فکری سے پیش آتے ہیں۔ بعض اداروں میں تو حالات اس حد تک بگڑ گئے ہیں کہ اساتذہ خود غیر سنجیدہ رویوں کے عادی بن چکے ہیں۔ یہ سب ایک اجتماعی زوال کی علامات ہیں۔
سوشل میڈیا نے اس آگ پر تیل کا کام کیا ہے۔ انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز نے نوجوانوں کے ذہنوں کو اس قدر مسخ کر دیا ہے کہ تعلیم کے نام پر بے حیائی، ویڈیوز، سیلفیاں اور غیر اخلاقی حرکات کو’’کلاس ایکٹیویٹی‘‘ کہا جانے لگا ہے۔ لڑکیاں اپنی ویڈیوز اپ لوڈ کرتی ہیں، لڑکے تبصرے کرتے ہیں اور اس سب کو ’’جدید تعلیم ‘‘یا ’’اوپن کلچر‘‘کے نام پر جائز سمجھا جاتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب حیا مر جاتی ہے اور ایمان کمزور پڑ جاتا ہے۔ اسلام میں حیا کی جو اہمیت ہے، اسے بھلا دینا تباہی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ آج ہمارا معاشرہ اس مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں حیا کو دقیانوسیت اور پردے کو پسماندگی سمجھا جا رہا ہے۔ کشمیر کے نوجوانوں میں یہ دوہرا پن واضح نظر آ رہا ہے۔ زبان پر مذہب کے نعرے، لیکن عمل میں مغرب کی تقلید۔ حجاب محض رسمی رہ گیا ہے، لباس میں فیشن غالب ہے، نظریں آزاد ہیں اور دل دنیا کے میلے میں کھو گئے ہیں۔ یہ بگاڑ صرف فرد کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کے وجود کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ وہ نسل جو حیا سے محروم ہو جائے، وہ اپنے والدین کی عزت نہیں کرتی، اپنے استاد کی بات نہیں سنتی اور اپنے خالق کو بھول جاتی ہے۔ یہی وہ نسل ہے جو کل ہمارے اداروں، ہمارے گھروں اور ہمارے معاشرے کی قیادت کرے گی۔
اب بھی وقت ہے کہ ہم جاگ جائیں۔ والدین اپنی ذمہ داری سنبھالیں، اپنی اولاد کے دوستوں اور ماحول پر نظر رکھیں اور دینی تربیت کو تعلیم کے ساتھ لازم کریں۔ اداروں کو اپنے اندر نظم و ضبط پیدا کرنا ہوگا۔ اگر کسی سینٹر یا اسکول میں فحاشی یا غیر اخلاقی طرزِ عمل پایا جا رہا ہے تو اس پر فوری کارروائی ہونی چاہیے۔ یہ کام صرف حکومت یا انتظامیہ کا نہیں، معاشرے کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔ سب سے اہم کردار خود نوجوانوں کا ہے۔ انہیں سمجھنا ہوگا کہ عزت، حیا اور وقار ہی حقیقی دولت ہیں۔ جس نے حیا کھو دی، اس نے ایمان کھو دیا۔ وادیِ کشمیر کی اصل خوبصورتی اس کے برف پوش پہاڑوں میں نہیں بلکہ اس کے لوگوں کے کردار میں تھی۔ اگر وہ کردار مٹ گیا تو یہ وادی بھی ویران ہو جائے گی چاہے سب کچھ باقی رہے۔ اب وقت ہے کہ ہم اپنے علمی اداروں سے بے حیائی کے اندھیرے مٹائیں، علم کو تربیت سے جوڑیں اور دلوں میں حیا کا وہ چراغ پھر سے روشن کریں، جس سے ایمان زندہ ہوتا ہے اور قومیں سرخرو ہوتی ہیں۔
(مضمون نگار ایک معروف اسلامی اسکالر، سماجی کارکن اور روحانی معالج ہیں)
[email protected]