حال و احوال
حافظ افتخاراحمدقادری
ملک کا المیہ اب یہ بنتا جا رہا ہے کہ کوئی معمولی سی لغزش، انتظامی بے احتیاطی یا کوئی چھوٹا سا تکنیکی مسئلہ پلک جھپکتے ہی ایک بڑے بحران کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ ریاستی مشینری کا رد عمل ہمیشہ دیر، ادھورا، بادل ناخواستہ سا دکھائی دیتا ہے۔ حالات ہمارے سامنے کھڑے ہوکر پوچھتے ہیں کہ آخر کیوں ہم ہر واقعے کا انتظار کرتے ہیں؟ کیوں ہم منصوبہ بندی کے بجائے حادثوں کا راستہ ہموار کرتے ہیں؟ اور کیوں ہماری انتظامیہ ہمیشہ اسی وقت جاگتی ہے جب عوام کی سانسیں تیز ہوچکی ہوتی ہیں، جب سفر کرنے والوں کے خواب ٹوٹ چکے ہوتے ہیں اور جب ملک کی ساکھ دنیا کے سامنے سوالیہ نشان بن چکی ہوتی ہے؟ یہی پس منظر ہے جس میں انڈیگو کا حالیہ بحران ایک پورا قومی سبق بن کر سامنے آیا ہے۔ گزشتہ چند دنوں سے ملک کے ہوائی اڈوں پر جو منظر دیکھنے میں آیا وہ کسی قومی ایمرجنسی سے کم نہیں تھا۔ انڈیگو کی جانب سے ہزاروں پروازوں کی اچانک منسوخی نے لاکھوں قدموں کو روک دیا، ہزاروں منصوبوں کو تہہ و بالا کر دیا، بچوں سے لے کر بزرگوں تک سب کو بے بسی اور اضطراب کے ایسے دائرے میں دھکیل دیا جس کی مثال شاید ہمارے ہوا بازی کے حالیہ دور میں نہیں ملتی۔ وہ مسافر جنہوں نے کئی دن پہلے اپنی ٹکٹس بک کرائی تھیں، اپنی تاریخیں مقرر کی تھیں، ہوٹل، میٹنگز، شادی بیاہ یا علاج کے سلسلے میں اپنے انتظامات مکمل کر لیے تھے جب 5 دسمبر کی صبح مختلف طیرگاہوں پر پہنچے تو انہیں معلوم ہوا کہ انڈیگو نے نہ صرف درجنوں بلکہ ہزاروں پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔ اسی اعلان کے ساتھ 16 دسمبر کی منسوخیاں بھی آ گئیں یوں لگنے لگا تھا جیسے پورا فضائی نظام ایک ساتھ بیٹھ گیا ہو۔
ایئرپورٹس پر جو منظر تھا وہ کسی بین الاقوامی طیرگاہ کا منظر نہیں لگتا تھا بلکہ وہ کسی مرکزی بس اسٹینڈ یا ہجوم زدہ ریلوے پلیٹ فارم کی صورت اختیار کر گیا تھا۔ لوگ بھوکے پیاسے گھنٹوں بیٹھے رہے، کئی مسافروں نے اپنی دوائیں وقت پر نہ لیں، کئی بچے تھکن سے رو پڑے، کئی بزرگ راستوں میں لیٹ گئے۔ کسی کے پاس واضح معلومات نہیں تھیں، کسی کے سوالوں کا کوئی جواب نہیں دے رہا تھا۔ یہ محض ایک ایئر لائن کی بدانتظامی نہیں تھی بلکہ شہری ہوا بازی کے پورے ڈھانچے کی خامیوں کی سنگین علامت تھی۔ یہ بات کسی سے چھپی نہیں کہ DGCA نے جنوری 2024 میں نئے FDTL قوانین جاری کیے تھے، جن کا تعلق پائلٹس کے ڈیوٹی اوقات، نیند، آرام اور پروازوں کے درمیان وقفوں سے ہے۔ دنیا بھر کی ایوی ایشن اس بات پر متفق ہے کہ تھکا ہوا پائلٹ خاموش قاتل ہوتا ہے اس کی ذرا سی غفلت درجنوں انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ لہٰذا! رات کی پروازوں میں کمی، ہفتہ وار آرام میں اضافہ اور مجموعی ڈیوٹی پر سخت نگرانی جیسے ضوابط ناگزیر تھے لیکن ضابطے بنانا ایک الگ چیز ہے اور ان کے نفاذ کے لیے بنیادی تیاری کرنا بالکل الگ۔
افسوس کہ ہندوستانی ہوا بازی کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ یہاں قوانین تو بن جاتے ہیں مگر ان پر عمل درآمد کی زمینی حقیقت نہ پرکھی جاتی ہے اور نہ سمجھنے کی کوئی سنجیدہ کوشش ہوتی ہے۔ انڈیگو کے اندر پائلٹس اور کیبن عملے کی شدید قلت تھی۔ یہ قلت ایک دن یا ایک مہینے میں پیدا نہیں ہوئی۔ برسوں سے پروازوں کی تعداد بڑھتی گئی مگر عملے کی بھرتی، تربیت، تنخواہیں، آرام اور بین الاقوامی معیارات کے مطابق سہولتیں پیچھے رہتی گئیں۔ کم لاگت والے ماڈلز، انتہائی مصروف شیڈولز، کم آرام کے اوقات اور منافع کے اندھے تعاقب نے پائلٹس کو مسلسل ذہنی اور جسمانی تھکن میں مبتلا کر دیا تھا۔ ایسے میں جب نئے ضوابط کا دوسرا مرحلہ نافذ ہوا تو پورا نظام دھڑام سے گر گیا۔
سوال یہ ہے کہ DGCA نے ضوابط نافذ کرنے سے پہلے انڈیگو سمیت بڑی ایئر لائنز کی تیاری کیوں نہ جانچی؟ کیوں یہ نہیں دیکھا گیا کہ قوانین کے نفاذ کے بعد کہیں پورا نظام بیٹھ تو نہیں جائے گا؟ کیوں پیشگی ہنگامی منصوبہ نہیں بنایا گیا؟ یہ غفلت صرف کمپنی کی نہیں، حکومت کی بھی ذمہ داری ہے۔
اپوزیشن کانگریس نے جو الزام عائد کیا ہے کہ ہوا بازی کے شعبے میں حکومت جان بوجھ کر ایک duopoly کو فروغ دے رہی ہے یہ بات سراسر بے بنیاد بھی نہیں لگتی۔ جب مقابلہ ختم ہو جاتا ہے تو معیار بھی گر جاتا ہے، خدمت بھی بے روح ہو جاتی ہے، صارفین کی اہمیت بھی کم ہو جاتی ہے اور ایسی کمپنیاں من مانی کرنے لگتی ہیں جنہیں معلوم ہوتا ہے کہ مسافر کے پاس متبادل کم ہیں۔ یہی صورتحال آج ملک کے پائلٹوں، ایئر لائنز اور مسافروں، تینوں کے درمیان عدم توازن پیدا کر چکی ہے۔ حکومت نے دو دن کی ہڑبونگ کے بعد انڈیگو کو چند سخت احکامات جاری کیے، کچھ ملاقاتیں کیں، کچھ وقتی رعایتیں دیں مگر یہ علاج نہیں بلکہ ایک مرہم ہے۔ یہ بحران اس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ ہمارا فضائی نظام مضبوط ڈھانچے سے محروم ہے اور یہاں منصوبہ بندی کے بجائے ردعمل کی سیاست چلتی ہے۔ جب تک مسافر کو نظام کا مرکز نہیں بنایا جائے گا، جب تک ایئر لائنز کو جواب دہ نہیں بنایا جائے گا، جب تک قوانین بناتے ہوئے ان کے اثرات اور نفاذ کی حقیقی صورتحال کا جائزہ نہیں لیا جائے گا تب تک ہر چند ماہ بعد کوئی نہ کوئی بحران مسافروں کو یرغمال بناتا رہے گا۔ ہندوستان کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ دنیا جدت، رفتار اور شفافیت کی طرف بڑھ رہی ہے جبکہ ہمارا ہوا بازی کا سیکٹر بدانتظامی، بے احتیاطی اور ناتجربہ کاری کے بوجھ تلے دبا جا رہا ہے۔ ملک کو ایک ایسا فضائی نظام چاہیے جو مسافروں کی بنیادی ضرورتوں، پائلٹس کی صحت اور ایئر لائنز کی جوابدہی کو متوازن رکھ سکے۔
حکومت کو چاہیے کہ یہ بحران محض ایک واقعہ سمجھ کر بھلا نہ دے بلکہ اسے ایک قومی انتباہ سمجھے۔ مسافروں کا اعتماد کسی بھی ملک کے ایوی ایشن سیکٹر کی جان ہوتا ہے۔ یہ اعتماد ٹوٹ جائے تو طیارے چاہے کتنے ہی جدید کیوں نہ ہوں، ائیرپورٹ چاہے کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں، کوئی نظام ترقی یافتہ کہلانے کے قابل نہیں رہتا۔ ہندوستان اپنی ہوا بازی کی پالیسیوں کو ازسرِنو ترتیب دے، شفافیت اور منصوبہ بندی کو بنیادی حیثیت دے اور فضائی سفر کو وہ وقار دے جس کے مسافر حقیقی معنوں میں مستحق ہیں۔
[email protected]