میر شوکت
صبح کا آسمان دھیرے دھیرے کھل رہا تھا، جیسے کوئی سویا ہوا صفحہ بیدار ہو کر نئے جملوں کو جگہ دے رہا ہو۔ فضاؤں پر شبنم کی نمی پھیلی تھی اور گلیوں کے کونے کسی پرانی کتاب کے کناروں کی طرح خموش، مگر معانی سے بھرپور دکھائی دے رہے تھے۔ ایسے موسم میں انسان کی سوچ بھی تازہ ہوجاتی ہے۔لیکن افسوس کہ کچھ ذہن ایسے ہوتے ہیں جن میں تازگی نہیں اترتی، صرف شور اترتا ہے۔ایسے ہی شور کے بیچ ایک جملہ پھوٹا،’’شادی ضروری نہیں۔‘‘یہ جملہ ایسے ابھرا جیسے کسی قدیم آنگن میں اچانک ایسی آواز گونج جائے جو اس زمین کی فطرت سے میل ہی نہ کھاتی ہو، اور چونکہ اسے وہ کہہ رہی تھیں جن کی چمک کا سایہ کبھی اس ملک کی فلمی گلیاروں پر چھایا رہتا تھا، اس لیے بات یوں پھیلی جیسے کسی پرانی دیوار میں بےمحل کھڑکی کھول دی گئی ہو۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر کھڑکی روشنی ہی لاتی ہے؟کیا ہر آواز کو حقیقت کا درجہ دینا ہی سمجھ داری ہے؟کیا ہر وہ جملہ جسے اوچی آواز میں کہا جائے، انسانی تجربے کی ڈھائی ہزار سالہ گواہی کا مقابلہ کر سکتا ہے؟جیا کا یہ قول سن کر ایک لمحے کو یوں لگا جیسے کسی کمزور شاخ پر رکھے ہوئے پرندے نے اچانک آسمان کی حدود کا دعویٰ کر دیا ہو۔ آسمان بلند ہو تو جاتا ہے، مگر شاخ کا بوجھ اپنی جگہ موجود رہتا ہے۔سچ کہیے تو دنیا بھر میں بہت سے لوگ رشتوں کی ذمہ داریوں سے بھاگنے کے لیے بڑے بڑے دلائل تراشتے ہیں، مگر ان میں بھی اتنی جرأت نہیں کہ انسانی تجربے کو اس سادگی سے رد کر دیں، جس طرح یہ جملہ کر دیتا ہے۔ انسان اکیلا رہ جائے تو پہلا بوجھ اسی کے دل پر پڑتا ہے اور آخری بوجھ بھی،اسی پر۔
مگر جب شہرت کے پردے پر چلنے والی شخصیت کوئی ایک جملہ اچھال دیتی ہے تو نوجوان اسے کسی نئی حکمت کا عنوان سمجھ لیتے ہیں۔
کنگنا نے جب کہا تھا کہ آزادی 2014 میں ملی، تو سب جان گئے کہ لفظوں کو بھی کبھی کبھی اپنی عقل ہوتی ہے اور کبھی کبھی نہیں۔مگر وہ جملہ تاریخ کے دامن پر ایک بےوقعت خراش تھا۔جیا کا جملہ اس کے مقابلے میں زیادہ نرم، زیادہ خوش پوش، مگر اندر سے کہیں زیادہ کھوکھلا تھا۔کیونکہ یہ انسان کی داخلی عمارت پر حملہ کرتا ہے۔
انسان صدیوں سے رشتوں میں بندھتا آیا ہے۔رشتہ صرف کاغذ نہیں، دو دلوں کے بیچ ایک ایسا پل ہے جس پر وقت کی گرد تو جمتی رہتی ہے، مگر پل گرتا نہیں۔ اور جب کبھی گرتا ہے تو انسان ٹوٹ کر سمجھتا ہے کہ تنہائی کی گونج کتنی لمبی ہوتی ہے۔یہ کہنا کہ شادی ضروری نہیں، ایسا ہے جیسے کوئی مسافر سفر کے بیچ میں اچانک فیصلہ کر لے کہ راستہ نامعقول ہے۔مگر وہ یہ بھول جائے کہ منزل بھی اسی راستے سے پیدا ہوتی ہے۔دنیا کی ساری تہذیبوں میں یہ رشتہ انسان کو وہ سہارا دیتا ہے جو تنہائی کبھی نہیں دے سکتی۔یہ رشتہ کبھی کبھی بوجھ بنتا ضرور ہے، لیکن کون سا قیمتی سامان ایسا ہے جو وزن سے خالی ہو؟مٹی کا وہ چراغ بھی تو وزن رکھتا ہے جس سے رات کی تاریکی چھٹتی ہے،اور محبت کے وہ دکھ بھی تو وزن رکھتے ہیں جن کے بغیر جذبات کی گہرائی پیدا ہی نہیں ہوتی۔
جیا کا جملہ کسی باغ میں پھینکا ہوا وہ مصنوعی پھول معلوم ہوتا ہے جس کا رنگ تو چمکتا ہے مگر خوشبو کہیں نہیں،اور افسوس یہ کہ نوجوان نسل اکثر خوشبو اور رنگ میں فرق نہیں کر پاتی۔
کچھ لوگ اس جملے کو آزادی کا اعلان سمجھ بیٹھے۔مگر آزادی کیا ہے؟وہ ذمہ داری سے بھاگنے کا نام نہیں۔وہ اپنی مرضی کے ساتھ اپنی غلطیوں کے نتائج قبول کرنے کا ہنر ہےاور شادی، اپنی اصل میں، اسی نتائج کی تربیت ہے۔
ہاں، شادی کبھی کبھی ناخوش کن بھی ہوتی ہے۔ لیکن دنیا کا کون سا مقدس عمل ایسا ہے جس میں آزمائش نہ ہو؟مادرِ وطن کی حفاظت ہو یا اولاد کی پرورش،ہر مقدس چیز قیمت مانگتی ہےاور رشتہ اگر قیمت نہ مانگے تو تعلق نہیں رہتا، صرف عادت رہ جاتی ہے۔اس کے برعکس تنہائی کی قیمت وہی جانتا ہے جو شام کے وقت خالی گھر میں قدم رکھتا ہے۔ جہاں دیواریں کچھ نہیں کہتیں، مگر ان کا خاموش رہنا بھی زخم بن جاتا ہے۔ایک انسان کی عقل جتنی بھی روشن کیوں نہ ہو، وہ اپنے دل کے دھڑکنے کو کبھی دھوکا نہیں دے سکتا۔
اور دل جب دھڑکتا ہے تو کسی کی موجودگی چاہتا ہے۔ایک ایسا ساتھ جس کی چھاؤں میں انسان اپنے ٹوٹے دن سنبھال سکے۔
جیا کا یہ کہنا کہ رشتہ ضروری نہیں۔۔۔گویا انسان سے یہ کہنا کہ آسمان کی وسعت کا کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ زمین پر بیٹھ کر بھی سانس لیا جا سکتا ہے۔سانس ضرور لیا جا سکتا ہے—مگر جینا، وہ کچھ اور بات ہے۔اس جملے کی سادگی کے پیچھے ایک گہری خامی چھپی ہے۔اگر رشتے نہ ہوں، تو نسلیں کیسے پلیں؟اگر ذمہ داری نہ ہو، تو انسان کے اندر شعور کیسے پکے؟
اگر کسی کے دکھ میں شریک نہ ہونا ہو، تو محبت کا تاج پہننے کا حق کس کو ملے؟
یہ کہنا کہ شادی ضروری نہیں، ایسے ہی ہے جیسے کوئی شاعر کہہ دے کہ الفاظ کی ضرورت نہیں، جذبات کافی ہیں۔کیا جذبات کبھی بغیر الفاظ کے نمایاں ہو پاتے ہیں؟کیا روغن کے بغیر رنگوں کی شان قائم رہتی ہے؟کیا
دریا بغیر کنارے کے بہہ سکتا ہے؟انسان بھی دریا ہے۔اور رشتے، اس کے کنارے۔بغیر کناروں کے پانی جذب ہو جاتا ہے، بہتا نہیں۔جیا نے یہ جملہ کہہ کر شاید اپنی ذاتی سوچ کو بیان کیا ہو، مگر شخصیت جتنی بڑی ہو، ذمہ داری بھی اتنی ہی بڑی ہوجاتی ہے۔شخصیت کا ہر لفظ چراغ کی طرح ہوتا ہے۔اگر تیل کم ہو تو دھواں چھوڑتا ہے، اگر تیل مناسب ہو تو روشنی۔یہ جملہ روشنی کے بجائے دھواں چھوڑ گیا۔اور سچ پوچھئے تو دھواں ہمیشہ چھوٹے کمروں میں زیادہ تکلیف دیتا ہےاور ہمارا سماج ابھی بھی بڑا کمرہ نہیں بنا۔یہاں لوگ اپنی غلطیوں کو اپنے پاس رکھتے ہیں اور اپنی خواہشوں کو آسمان پر لکھ دیتے ہیں۔جیا کا یہ خیال بھی شاید انہی خواہشوں میں سے ایک ہے۔جو خیال کی حد تک خوشنما ہے، مگر انجام کے معاملے میں بچکانہ۔دنیا نے بہت سے ایسے خیالات آزمائے ہیں جو بظاہر روشن تھے، مگر انسانوں نے انہیں جینے کی کوشش کی تو وہ تلوار بن گئے،اور رشتوں سے انکار کرنے والا فلسفہ ہمیشہ انسان کو اس مقام پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں گھر،گھر نہیں رہتا، صرف کمرہ رہ جاتا ہے۔اور کمرہ ہو بھی تو خالی۔
دن ڈھلنے لگا تھا، فضا میں شام کا سونا گھل رہا تھا۔رشتوں کی اہمیت شاید اسی وقت سب سے زیادہ سمجھ آتی ہے،جب دن بھر کی تھکن کسی کے سامنے رکھی جائے اور وہ بنا کچھ کہے تھکن کا وزن بانٹ لے۔انسان کو قوت صرف کامیابی نہیں دیتی،کسی کا کندھا بھی دیتا ہے،اور یہی وہ حقیقت ہے جسے جیا کے جملے نے نظر انداز کیا۔
شاید اس لیے کہ کچھ لوگ اپنے وقت سے بہت آگے نکل جاتے ہیں۔لیکن آگے نکل جانا ہمیشہ سمجھ داری کی دلیل نہیں ہوتا۔بہت دفعہ آگے نکل جانے والا شخص راستے کا نشان بھی کھو بیٹھتا ہے۔انسان کی فطرت میں تنہائی کی خواہش نہیں،تسکین کی خواہش ہےاور یہ تسکین کسی اکیلے پن سے نہیں،کسی شریکِ راہ سے جنم لیتی ہے۔اس لیے جیا کا جملہ، اپنی چمک کے باوجود، حقیقت کے سامنے کمزور پڑ جاتا ہے۔دلوں کی دنیا میں یہ جملہ سچ نہیں۔صرف ایک خیال ہے، جو ذہنوں تک تو پہنچتا ہے،مگر دلوں پر اثر نہیں چھوڑ پاتا۔دنیا کے بڑے سچ نرم ہوتے ہیں، مگر کمزور نہیںاور بڑا سچ یہی ہے کہ انسان اکیلا پیدا ضرور ہوتا ہے،مگر جینا اکیلے نہیں سیکھ پاتا۔