حال و احوال
ڈاکٹر سید تابش امام
امریکہ کی معاشی تاریخ کا ورقِ حال اس وقت جس تذبذب، بے یقینی اور انجانی گتھی میں الجھا نظر آتا ہے، وہ محض عددی اتار چڑھاؤ کا معاملہ نہیں بلکہ عالمی اقتصادیات کے اس نئے عہد کا اشاریہ ہے جس میں طاقت کا توازن ٹیکنالوجی کے غیر معمولی ارتقا کے سبب یکسر بدلتا جا رہا ہے۔گزشتہ دنوں منعقدہ تھینکس گِونگ ڈے جیسے مسرت آمیز قومی تہوار کے دوران جب امریکی معاشرہ اپنی روایتی دلکشی اور رفاقتی فضا میں مسرورتھا، ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں کی طرف سے اچانک شروع ہوئی وسیع پیمانہ کی چھٹنیوں نے بین الاقوامی منڈیوں میں ایک غیر معمولی لرزش پیدا کر دی۔ یہ لرزش صرف مالیاتی سرمائے کی نہیں بلکہ انسانی سرمایہ کے مستقبل سے متعلق خدشات کی بھی تھی۔
اسی دوران مائیکروسافٹ، گوگل، ایمیزون، میٹا، انٹیل، آئی بی ایم، یوپی ایس، ٹارگٹ اور دیگر بڑی کمپنیوں کے ہزاروں ملازمین کی برطرفیاں کے سبب عالمی سرمایہ کاری ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں مشین اور انسان کی ترجیحات ازسرِنو طے کی جا رہی ہیں۔ یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دنیا نئے صنعتی انقلاب AI Industrial Phase— کی دہلیز پر کھڑی ہے اور انسانیت کے لیے آنے والے برسوں کا معاشی منظرنامہ پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو چکا ہے۔
کووِڈ۔19 نے دنیا کے معاشی ڈھانچہ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ دفاتر، جامعات، عدالتیں، دفتری میٹنگیں، خرید و فروخت، سماجی روابط، ہر چیز اچانک ایک اسکرین کی سرد اور بے چہرہ روشنی میں سمٹ کر رہ گئی۔ امریکی ٹیک کمپنیاں اس عبوری وقتی کیفیت کو ایک ہمیشہ کے لئے مستقبل سمجھ بیٹھیں۔ انہوں نے فرض کر لیا کہ انسان اب مستقل ڈیجیٹل حدود میں زندہ رہے گا، کام کرے گا اور اسی ماحول میں اپنے معاشرتی رویہ تشکیل دے گا۔اسی خوش فہمی کے زیرِ اثر کمپنیوں نے ریکارڈ بھرتیاں کیں۔ لاکھوں انجینئرز، پروگرامرز، ڈیٹا اینالسٹ، ڈیزائنر، کنٹینٹ کریئیٹرز اور مارکیٹنگ نیٹ ورکس کو مستقبل کی ’’ڈیجیٹل دنیا‘‘ کی تعمیر میں شامل کیا گیا۔ لیکن جیسے ہی وبا کا دباؤ کم ہوا، زندگی اپنا اصل مطالبہ لے کر واپس آئی۔نتیجہ یہ ہوا کہ کمپنیوں کے پاس افرادی قوت ضرورت سے کہیں زیادہ تھی۔ سستے سرمایہ کاری سودوں کے خاتمہ صارفین کے بدلتے رویّوں اور منڈی کے سکڑتے دائرے نے مالی بوجھ میں اضافہ کیا۔ ایسےمیں کارپوریٹ حکمتِ عملی میں اب صرف ایک ہی ’’حل‘‘ باقی رہ گیا تھا چھنٹنی۔یہ اس غلط معاشی تصور کی شکست تھی جو وبا کے دوران حد سے زیادہ پھیلایا گیا تھا۔
مصنوعی ذہانت (AI) گذشتہ دو دہائیوں کی سب سے انقلابی پیش رفت ہے، مگر اسی رفتار سے یہ انسانی محنت کے لیے سب سے بڑا چیلنج بھی بنتی جا رہی ہے۔ جہاں کبھی رپورٹس تیار کرنے، کوڈ لکھنے، ڈیزائن بنانے، تحقیق ترتیب دینے اور مواد تشکیل دینے کے لیے بڑے پیمانے پر انسانی افرادی قوت درکار ہوتی تھی، وہاں اب ایک الگورتھم چند لمحوں میں وہی کام انجام دے دیتا ہے۔امریکی کارپوریشنوں نے AI کو محض جدت کے طور پر نہیں اپنایا بلکہ اسے ’’اخراجات کم کرنے‘‘ کے سب سے زیادہ مؤثر آلے کے طور پر اختیار کیا۔ متوسط طبقہ کی ملازمتیں تیزی سے محدود ہو رہی ہیں، جب کہ اعلیٰ مہارت کے حامل افراد کے مطالبہ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس عدم توازن نے روزگار کی بنیادی مساوات کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔مسئلہ یہ نہیں کہ AI آرہا ہے،مسئلہ یہ ہے کہ اس ارتقائی لہر کے سامنے انسانی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے کوئی جامع حکمت عملی وضع نہیں کی گئی۔یہی وہ نکتہ ہے جو معاشی مستقبل کی سب سے تشویشناک علامت ہے۔ ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال، سری لنکا، ان ممالک کے ہزاروں ماہرین نے اپنی قابلیت، محنت اور تخلیقی سوچ سے امریکہ کو ٹیکنالوجی کی عالمی قیادت عطا کی۔ مگر آج انہی ذہانتوں کے لیے امریکہ کا ماحول سب سے زیادہ غیر یقینی ہو چکا ہے۔H-1B ویزا کی پالیسیوں کے مطابق ملازمت ختم ہونے کی صورت میں ایک غیر ملکی ماہر کے پاس صرف 60 دن ہوتے ہیں کہ وہ نئی نوکری تلاش کر لے، ورنہ اسے امریکہ چھوڑنا پڑتا ہے۔ یہ مدت اس قدر کم ہے کہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ، تجربہ کار انجینئر بھی شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس مختصر مدت میں گھر کی پیکنگ، بچوں کی تعلیم، قرضوں کی اقساط، مستقبل کے منصوبہ ،سب کچھ سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔یہ بحران صرف معاشی نہیں، انسانی اور جذباتی بھی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں امریکہ نے عالمی تجارت کے جن نئے تصورات کو متعارف کرایا، وہ محض سیاسی جذباتیت اور قومی انا پر مبنی تھے۔ چین کے ساتھ تجارتی جنگ، بھارت اور میکسیکو پر درآمدی رکاوٹیں، ویزا فیس میں انتہائی اضافہ، کمپنیوں پر غیر ملکی ماہرین کی بھرتی میں قدغن— یہ سب ایسے اقدامات تھے جنہوں نے معیشت کو غیر یقینی کی فضا میں دھکیل دیا۔یہ پالیسیاں نتائج سے خالی نہیں رہیں۔
امریکی کمپنیوں کا اعتماد مجروح ہوا، عالمی سرمایہ کاروں میں بے چینی پیدا ہوئی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دنیا بھر کے ٹیک ماہرین کے لیے امریکہ کی کشش کم ہوتی چلی گئی۔یہ امر ثابت شدہ ہے کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب بین الاقوامی تعاون کے بغیر کبھی مکمل نہیں ہوا۔ جب دماغوں پر سرحدیں تنگ کر دی جائیں تو ترقی کا عمل سست پڑ جاتا ہے۔
موجودہ بحران اپنی ساخت میں 2008 کے مالیاتی انہدام کا نہیں بلکہ 2000ء کے ڈاٹ کام ببل کا عکس معلوم ہوتا ہے۔ اس وقت بھی کمپنیوں نے ’’مستقبل‘‘ کے نام پر غیر حقیقی بھرتیاں کیں، غیر حقیقی توقعات قائم کیں اور پھر ایک دن سرمایہ کاری کی بنیادیں بیٹھ گئیں۔آج کا بحران مگر ایک نیا زاویہ رکھتا ہے۔ اس مرتبہ سرمایہ کاری نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کا انتہا پسندانہ ارتقا بنیادی مسئلہ ہے۔مصنوعی ذہانت نے انسانی محنت کی معنویت کو نئی تعریف دی ہے اور یہی تعریف آئندہ برسوں کے معاشی خاکے کو بدلنے والی ہے۔
امریکی ٹیک سیکٹر کی چھنٹنیوں کا براہِ راست اثر بھارت، بنگلہ دیش، فلپائن اور مشرقی ایشیا پر پڑا ہے۔بھارت کی بڑی IT کمپنیاں— TCS، Infosys، Wipro، HCL— امریکی آرڈرز پر انحصار کرتی ہیں۔ جب امریکہ میں بھرتیاں کم ہوتی ہیں تو آؤٹ سورسنگ خود بخود سکڑنے لگتی ہے۔کرناٹک، تلنگانہ، تمل ناڈو اور کیرالہ— جہاں سے لاکھوں ٹیک پروفیشنلز بیرون ملک جاتے ہیں، اب معاشی دباؤ کا سامنا کر رہی ہیں۔ریمیٹیینسRemittances میں کمی، روزگار کی اندرونی منڈی پر دباؤ اور بیرون ملک مواقع کے سکڑنے کا نتیجہ ایک وسیع سماجی اضطراب کی صورت میں بھی سامنے آ سکتا ہے۔یہ بحران جنوب ایشیا کی نوجوان آبادی کے لیے ایک بڑا سوال بن چکا ہے۔کیا ٹیکنالوجی ترقی کا دروازہ کھولے گی یا روزگار کے دروازے بند کر دے گی؟
انسانی تاریخ کا ہر صنعتی دور ایک طبقہ کو ترقی کی بلندیوں تک لے گیا اور دوسرے طبقہ کو زوال کی اندھیری راہوں میں دھکیل گیا۔اٹھارہویں صدی کے صنعتی انقلاب نے دستکاروں کو متاثر کیا، بیسویں صدی کی مشینی خودکاری نے لاکھوں دفتری ملازمین کی ضرورت کم کر دی اور اب اکیسویں صدی کی مصنوعی ذہانت علمی و فکری پیشوں کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ترقی کا پہیہ نہ کبھی رکا ہے اور نہ رکے گا۔لیکن ترقی کا رخ کس کے حق میں موڑنا ہے، یہ فیصلہ انسان کو خود کرنا ہوگا۔ اگر عالمی کمپنیاں Re-Skilling اور انسانی تربیت پر سرمایہ کاری کریں تو AI انسانیت کے لیے نئی صبح بن سکتی ہے۔ اگر یہی راستہ اختیار نہ کیا گیا تو دنیا ایک نئے Digital Inequality دور میں داخل ہو جائے گی، جس کے اثرات صدیوں تک قائم رہ سکتے ہیں۔
دنیا کی ہر بڑی ایجاد انسان نے کی ہے— اور وہی انسان اس ایجاد کی کرنوں میں اپنا وجود تلاش کرتا ہے۔بدقسمتی سے امریکی کمپنیوں نے اپنے تجربہ کار، محنتی اور تخلیقی انسانی سرمائے کو محض ایک ’’اخراجات‘‘ کے خانہ میں رکھ کر نکالنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ یہ فیصلہ بظاہر منافع میں اضافہ کرتا ہے، لیکن طویل مدت میں اداروں کی تخلیقی قوت، قیادت سازی اور اخلاقی بنیادوں کو کمزور کر دیتا ہے۔نظریات، ایجادات، ثقافت، ادارہ سازی، یہ سب انسانوں کی ذہنی کاوشوں کے مرہونِ منت ہیں۔اگر انسان ہی غیر محفوظ اور مایوس ہو جائے تو کوئی بھی ٹیکنالوجی مضبوط ادارہ جاتی مستقبل تشکیل نہیں دے سکتی۔امریکہ کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ وہ AI کے عہد میں داخل ہو سکتا ہے یا نہیں،اصل سوال یہ ہے کہ وہ اس عہد میں انسانیت اور منافع کے درمیان توازن کو کس طرح برقرار رکھے گا۔دنیا ایک جڑی ہوئی معاشی زنجیر ہے۔امریکہ کا ایک فیصلہ بھارت، ایشیا، یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ تک لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل پر اثر انداز ہوتا ہے۔لہٰذا وقت کا تقاضہ ہے کہ ٹیکنالوجی کو انسانی قدروں کے تابع رکھا جائے، روزگار کے نئے اصول بنائے جائیں، مہارتی تربیت کو بنیادی اہمیت دی جائے اور معاشی انصاف کو پالیسیوں کے مرکز میں رکھا جائے۔
رابطہ۔9934933992