ڈاکٹر رافعیہ محی الدین
ڈاکٹر یاسمین اختر کا تعلق صوبہ بہار کے ایک شہر بھاگلپور سے ہے۔ ان کی ابتدائی تعلیم بھاگلپور سے ہی ہوئی ہے ۔ اعلیٰ تعلیم یونیورسٹی بھاگلپور سے حاصل کرکے آج وہ ایس۔ کے مہیلا کالج (بیگو سرائے) میں اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر اپنے فرائض انجام دے رہی ہیں۔ ڈاکٹر یاسمین اختر نے اپنے ادبی سفر کا آغاز طالب علمی کے زمانے سے ہی کیا ہے ۔ ان کی پہلی تحریر ’قومی یکجہتی‘ کے نام سے منظر عام پر آئی ہے۔ پہلا افسانہ ’ لوگ کیا کہیں گے‘ ۲۰۰۱ء میں ماہنامہ ’تعمیر ہریانہ‘ میں شائع ہواہے۔ اس کے بعد متعدد اخباروں اور رسالوں میں ان کی تحریریں شائع ہوتی رہی ۔یاسمین اختر کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’ گھرکی زینت‘‘ ۲۰۱۴ء میں منظر عام پر آیا ہے۔ صوبہ بہار میںناول نگاری کو پروان چڑھانے میں جو خواتین قلم کار کامیاب ہوگئی ہیں ان میں ڈاکٹر یاسمین اخترکا شمار بھی ہوتا ہے۔ انہوں نے ناول نگاری کی دنیا کو اپنے منفرد لب و لہجہ سے آباد کیا ہے ۔ عورتوں پر ہورہے ظلم و ستم ، ان کا دکھ درد ، استحصال ،بے بسی اور نسوانی مظلومیت جیسے موضوعات ان کی تحریروں میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔
’’سیندور‘‘ ڈاکٹر یاسمین اخترکا۱۲۸صفحات پر مشتمل ایک ناولٹ ہے جو ایجوکیشنل پبلیشنگ ہاؤس نئی دہلی سے ۲۰۲۴ء میںمنظر عام پر آیا ہے ۔
ناولٹ ’’سیندور‘‘ سماج کے نظریاتی پہلؤں کے کینوس پر کھینچی ہوئی ایک دلچسپ تصویر ہے جس کو معاشرے کے الگ الگ رنگوں سے رنگ کر مصنفہ نے قارئین کی سوچ کو الفاظ کی زنجیر میں ایسے باندھا ہے جہاں سے آزاد ہونا مشکل ہی نہیں لیکن ناممکن محسوس ہوتا ہے ۔ناول نگار نے ناولٹ کے ذریعے نسوانی جذبات اور احساسات کی بھرپور عکاسی کی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ عورت کی نفسیات پر ہورہے نظریاتی حملوں کا برملا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے انسانی نفسیات کی الگ الگ صورتوں کی بھی اپنی تحریروں میں بھرپور عکاسی کی ہے۔ بیٹی ، بہو،بہن اور ماں کے روپ میں عورت کے درپیش مشکلات کا بھی مصنفہ نے خوب ذکر کیا ہے۔ جس سے مصنفہ کا معاشرے کے تئیں واقفیت ظاہر ہونا عیاں ہوتا ہے۔ ناولٹ کے پلاٹ میں روانی ہے جو قارئین کو ناولٹ کا موضوع سمجھنے میں آسانی فراہم کرتا ہے۔مصنفہ نے پلاٹ کو ماہرانہ اندازمیں تشکیل دیاہے ۔ مکالمے میں اگرچہ طوالت ہے لیکن انداز بیان سے طوالت کا اثر دور ہوتا ہے۔ ناولٹ میں موجود منظر نگاری اور مکالمہ آرائی ناولٹ کے موضوع میں چار چاند لگاتے ہیں۔ ناولٹ کا موضوع کرداروں کے ذریعے آگے بڑھتا ہے۔ ’سیندور ‘ میں موجود تمام کردار اسی سماج کے باشندے ہیں جو ناولٹ کا موضوع سخن بنا ہے۔ اس میں موجود تقریباََ سبھی کردار فعال ہے۔ ناولٹ کی پوری کہانی ’مدھو‘ کے گرد گھومتی ہے ۔ جو اپنے والدین کی اکلوتی اولاد ہوتی ہے۔والدین اس کی شادی جیت نامی لڑکے سے اس کی مرضی کے بغیر طے کرتے ہیں ۔ جس سے وہ نفسیاتی تناؤ میں داخل ہوتی ہے ۔ اسی مایوسی اور پریشانی کی حالت میں نا چاہتے ہوئے بھی مدھوشادی کا منڈھپ چھوڑ کر اپنی پسند منوج کے ساتھ بھاگ جاتی ہے۔ جس کے باعث اس کے ماں باپ اور رشتہ داروں کو شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے اور گھر میں صف ماتم بچھ جاتا ہے۔’’مدھو کے جانے کے بعد گھر میں ماتم چھاگیا ۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی کی موت ہوگئی ہو۔
’سیندور‘ عام فہم زبان میںلکھاگیا ایک دلچسپ ناولٹ ہے ۔پوری کہانی ایک سسکتی اوربلکتی لڑکی مدھو کی زندگی پر مبنی ہے جو اپنی مانگ میںمنوج کے نام کا سیندور بھرنا چاہتی تھی ۔ مصنفہ نے معاشرے کی نظریاتی بیماری کو مدھو کے درپیش حالات میں ایسے بُنا ہے کہ قاری دھنگ رہ جاتا ہے۔ انہوں نے سماج کی ان درپردہ بیماریوں کا پردہ فاش کیا ہے جو اندر ہی اندر نسوانی حیات کو جہنم میں تبدیل کرتی ہیں۔ناول نگار نے مدھو کے کردار کو ایسی توانائی بخشی ہے جس کی بدولت انسانی فکر و خیال میں سنسنی پھیل جاتی ہے۔ ناول میں عورت ذات کے آپسی تضاد کی ایک عیاں تصویر ملتی ہے ۔ ایک طرف صنفِ نازک کی معصومیت کے چیتھڑے اُڑتے ہیں تو دوسری جانب اسی صنف نازک کی خونخوار تصویر مالتی دیوی کے روپ میں ملتی ہے۔ایک طرف مدھو جو معصوم اور سیدھی سادی ہے تو دوسری جانب منوج کی ماں’ مالتی دیوی‘ ایک مکار،چالاک اور تیز تر ار عورت ہے۔ وہ اپنی بیٹی کویتا کے ساتھ مل کر مدھوکے بھاری بھر کم کپڑوں اور زیورات پر پہلے ہی اپنا قبضہ جماتی ہے اور مدھو کے ساتھ نوکرانی جیسا برتاؤ کرتی ہے۔ دن ہفتے اور ہفتے مہینوں میں گذرجاتے ہیں مگر مدھو بنا سیندور کے اس گھر میں خادم بن کر رہتی ہے۔ایک مرد کا معصوم سمجھ کر ایک دوشیزہ کو سیندور کی آڑ میں رکھیل بنانا ہو یا ایک لاچار عورت کی مجبوری کو اس کی کمزوری سمجھنا، ناولٹ میں تفصیلاََ بیان ہوا ہے۔مدھو کو حیرت کا شدید جھٹکا اس وقت لگتا ہے جب منوج کا اصلی روپ اس کے سامنے آتا ہے اور وہ بھلک بھلک کر رو تی ہے۔
ناولٹ’ سیندور ‘ ان عورتوں کے لئے نصیحت کا کام کرتا ہے جو اپنے جذبات پر قابو نہیں کر پاتی اور جلد بازی میں زندگی کے بڑے بڑے فیصلے لے لیتی ہیں۔ مصنفہ ان عورتوں کو جگانے کی کوشش کرتی ہے جو ان دیکھی اور غیر ممکن رنگینیوں کی آڑ میں اپنی زندگیوں کا دیوالیہ نکالتی ہیں۔ناولٹ میں یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ کوئی بھی فیصلہ جلد بازی میں نہیںلینا چاہیے اور نہ ہی کوئی ایسے اقدام جو بعد میں پچھتاوے ،مایوسی اور شرمندگی کے اسباب بنیں۔
ناولٹ ’سندور‘ میں انسانی نفسیات اور موجودہ معاشرتی نظام کی رنگینیاں ملتی ہیں۔ مصنفہ نے اپنے آس پاس کے ماحول سے موضوع اٹھا کر ان کو ناولٹ کے کینوس میں فنکارانہ انداز میں ڈالا ہے۔جس سے قارئین بے حد متاثر ہوکر لطیف الاحساس میں ڈوب جاتے ہیں۔ ناولٹ کے ذریعے مصنفہ اس پیغام کو بھی عام کرانا چاہتی ہے کہ معاشرہ جہاں ترقی کی منزلیں چھو رہا ہے تو وہی دوسری جانب انسانیت ،شرافت ،دردمندی اور اخلاص کے جوہر سے عاری ہوتا بھی دکھائی دے رہا ہے ۔ناولٹ میں موجود کردار ’مالتی دیوی ‘اس امر کی تصدیق کرتی ہے کہ مالتی کس طرح مدھوکو ظلم و تشدد کی زنجیروں میں جھکڑتی ہے اور اپنی وحشیانہ حرکتوں سے کبھی باز نہیں آتی ۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ناولٹ ’’سیندور‘‘ عورت کے تئیں سماجی نقطئہ نظر ، سماجی بدحالی، انسانی نفسیات اور نظریات کی باریکی سے عکاسی کرتا ہے۔لہٰذا اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ ڈاکٹر یاسمین اختر کا ناولٹ اردو ادب میں ایک سود مند اضافہ ہے جس کی بدولت سماجی و معاشرتی معاملات اور حالات و واقعات کی نشاندہی ہوتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ سیندور ناولٹ ڈاکٹر یاسمین اختر کے فنِ ناول نگاری کو بھی احسن طریقے سے اجاگر کرتا ہے۔ جس سے واضح ہوجاتا ہے کہ ڈاکٹر یاسمین اختر ادبی میدان میں ایک اچھا مقام حاصل کرچکی ہیں۔