غلام قادر جیلانی
کشمیر جو کبھی اپنے بے پناہ آبی ذخائر،خوبصورت دریاؤں،جھیلوں،چشموں اور آبشاروں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور تھا۔آج پانی کی شدید قلت کی وجہ سے سنگین صورتحال سے دوچار ہے۔پانی کی قلت کا مسلہ محض ایک علاقائی شکایت نہیں بلکہ یہ ایک وسیع اور بحرانی صورتحال اختیار کرچکا ہے ۔
یہ نہایت تشویشناک ہے کہ آئے روز مختلف علاقوں سے پینے کے پانی کی سنگین شکایات سامنے آرہی ہیں یہاں تک کہ لوگ اس بحران سے تنگ آکر سڑکوں پر احتجاج کرنے کے لئے مجبور ہو رہے ہیں۔ حال ہی میں ماگام گلمرگ روڑ پر مازہامہ بڈگام کے باشندوں، جن میں عورتوں کی کثیر تعداد موجود تھی ،نے شدید احتجاج کیا جس کے باعث کئی گھنٹوں تک آمدورفت میں خلل پڑا۔
پانی زندگی کا بنیادی اور اٹوٹ جزو ہے، بدقسمتی سے آج وہ بستیاں بھی پانی کی قلت محسوس کر رہی ہیں جو روایتی طور پر پانی کے ذخائر کے قریب واقع ہیں ۔
پانی کا یہ بحران محض قدرتی نہیں بلکہ بنیادی طور پر انسانی غفلت اور لاپرواہی کا نتیجہ ہے۔پانی کی شدید قلت بڑھتے درجہ حرارت، کم بارشیں اور زیرزمین پانی کی تیزی سے گرتی سطح کی وجہ سے زور پکڑ رہی ہے۔ پچھلے کئ عرصے سے کشمیر میں درجہ حرارت معمول سے آٹھ ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ درج کیا گیا، جس سے دریاؤں، چشموں اور جھیلوں میں پانی کے بہاؤ میں کمی واقع ہوئی ہے ۔اسکے علاوہ پچھلے کئی سال سے برف اور بارش کی مقدار میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، یہاں تک کہ جنوری اور فروری 2025 میں برفباری میں 80فیصد کمی درج کی گئ ،جس سے پانی کی دستیابی میں تشویشناک حد تک کمی پیدا ہوئی ہے اور پانی کے کئی چشمے سوکھ گئے۔ اچھ بل باغ میں واقع چشمہ جو کبھی پندرہ گاؤں کو سیراب کرتا تھا، بھی اس سال کچھ عرصے کے لئے سوکھ گیا ۔اسی طرح ویری ناگ میں بھی چالیس فیصد پانی کی قلت ریکاڈ کی گئی، جس سے دریائے جہلم میں پانی کا بہاؤ کم ہوا ۔
جنگلات کا بے دریغ کٹاؤ نے آبی چکر( Water Cycle) کو بری طرح متاثر کیا ہے۔درختوں کی غیر موجودگی میں پانی سطح زمین سے تیزی سے بہہ جاتا ہے جس سے سیلاب کے واقعات میں اضافہ اور زیرزمین پانی کی سطح میں کمی آجاتی ہے، اس کے علاوہ درخت بارش کا پانی جذب کرتے ہیں اور بخارات کی شکل میں نمی کو ماحول میں خارج کرتے ہیں جو بادل بنے میں مدد دیتا ہے۔
کشمیر کی آبی پناہ گاہیں (Wetlands) جن میں ہوکر سر، ولر، شالہ بگ، ہائی گام وغیرہ شامل ہیں، ماحولیاتی بقا کے لئے انتہائی ضروری ہیں۔ یہ نہ صرف اضافی بارشوں اور اور پانی کا ذخیرہ کر کے زیر زمین پانی کے ذخائر کو تقویت دیتے ہیں بلکہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے قدرتی تحفظ کا اہم ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ اگر ان حیات بخش آبی پناہ گاہوں کی تحفظ کے لئے فوری اور ٹھوس اقدامات نہ کئے گئے تو یہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو سکتے ہیں، جس سے وادی کو نہ صرف ماحولیاتی تباہی کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے بلکہ پانی کا بحران تشویشناک حد تک بڑھ سکتا ہے۔
کشمیر کے آبی ذخائر غیر قانونی تجاوزات، بے دریغ کوڑا کرکٹ اور فضلے سے شدید آلودگی کا سامنا کر رہے ہیں۔وہ ندیاں اور دریا جن کا پانی آج سے تیس سال پہلے تک پینے کے لیے استعمال ہوتا تھا اور جن میں ہم شوق سے ڈبکیاں لگا کر نہایا کرتے تھے، آج ایک انتہائی افسوسناک منظر پیش کر رہے ہیں۔کوڑا کرکٹ اور بے تحاشا فضلے کی نذر ہو کر یہ نہ صرف سکڑ چکے ہیں، بلکہ ان میں اتنی بدبو اور گندگی پھیل چکی ہے کہ اب اس پانی کو ہاتھ لگانا بھی صحت کے لیے خطرے سے خالی نہیں رہا۔
منظور احمد وانگنو چیرمین NLCO نے آبی ذخائر کے بچاؤ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آبی ذخائر کو بچانا اور ان کی بحالی ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ انھوں نے خوشحال سر کی بحالی کی مثال دے کر کہا کہ آبی ذخائر کے بحالی سے آس پاس کے سارے علاقے مستفید ہوتے ہیں اور آبی ذخائر کی بحالی مقامی زندگی کو ایک نئی اور مثبت پہچان عطا کرتی ہیں ،ان کے مطابق اس مسلے کا حل فرد کی اصلاح اور نیک نیتی پر مبنی عمل میں مضمر ہے یعنی ایک اور نیک بنے میں ہی مسائل کا حل چھپا ہے۔
ڈاکٹر راجہ مظفر بٹ معروف سماجی اور ماحولیاتی کارکن کے مطابق بڑھتی ماحولیاتی آلودگی اور غیر قانونی کان کنی ہمارے آبی ذخائر کو تیزی سے ختم کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو مستقبل قریب میں سنگین اور ناقابل تلافی مسائل پیدا ہو جائیں گے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہر سال ماحولیاتی بچاؤ کی تقریبات منعقد تو ہوتی ہیں، لیکن یہ محض رسمی کاروائیاں بن کر رہ جاتی ہیں اور زمینی سطح پر ان کے اثرات بہت کم دیکھنے کو ملتے ہیں ،اس ضمن میں بحیثیت ذمہ دار شہریوں کے یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم پانی کی شدید قلت کو کم کرنے کے لئے ٹھوس اور پیدار اقدامات اٹھائیں ۔
اگر چہ موسمیاتی تبدیلی ایک عالمی مسلہ ہے لیکن اس کا حل مقامی سطح پر ہمارے گھروں سے شروع ہوتا ہے۔ پانی کے تحفظ کے لیے جو عملی اصلاحات ناگزیر بن گئےہیں ،ان میں پالتھین اور پلاسٹک کا استعمال ترک کرنا،آرگینک فارمنگ پر زیادہ زور دینا، آبی ذخائر کو آلودہ ہونے سے بچانا، زیر زمین پانی کے ذخائر سے حد سے زیادہ پانی نکالنے سے گریز کرنا، زیادہ سے زیادہ درخت لگانا، خاص طور پر شامل ہیں۔ اسکے علاوہ آبپاشی کے موثر اور جدید طریقے جیسے ڈرپ ایریگیشن (Drip Irrigation) پھوار چھڑکائو (Sprinkler Systems) وغیرہ بھی پانی کے بچاؤ کے لئے موثر ثابت ہوسکتے ہیں۔ پانی کا منصفانہ اور ذمہ دارانہ استعمال پانی کی بڑھتی قلت پر قابو پانے میں انتہائی ضروری ہے۔ انتظامیہ کو پانی کو آلودگی سے بچانے کے قوانین سختی سے نافذ کرنے چاہیے تاکہ کارخانوں اور گھروں سے نکلنے والا کوڑا کرکٹ اور گندے مواد سے پانی کے ذخائر کو آلودہ ہونے سے بچایا جاسکے ۔
معقول اور صاف پانی کی دستیابی سے نہ صرف پینے کے پانی کا مسلہ حل ہو سکتا ہے بلکہ یہ کشمیر کی سیاحت اور زراعت کو درپیش مسائل کو بھی حل کر سکتی ہے۔ ذی شعور لوگوں کے ساتھ ساتھ مذہبی رہنماوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے تبلیغی خطبوں میں پانی کی قدر اور اسکی اہمیت پر لوگوں کی مثبت انداز میں ذہن سازی کریں۔ اسکے علاوہ انتظامیہ اور ذمہ دار عوامی حلقوں کو مشترکہ طور پر اس بحران پر قابو پانے کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ان مجموعی اور مشترکہ کوششوں سے پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے ساتھ ساتھ زراعت کے لئے درکار سنچائی اور باقی اہم ضروریات کے لئے پانی کی معقول فراہمی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے ۔
[email protected]