میر شوکت
کٹرا کی وادی میں اس دن کی صبح کچھ ایسی تھی جیسے پہاڑوں نے اپنے دامن میں سے دھوپ کی ایک نئی کرن نکال کر دنیا کے سامنے رکھ دی ہو،خاموش، روشن اور بے نیاز۔ مگر اسی خاموشی کے بیچ ایک فہرست نمودار ہوئی، جس نے پورے خطے کی ہوا بدل دی Shri Mata Vaishno Devi Institute of Medical Excellence کی پہلی MBBS فہرست، جس میں پچاس سیٹوں میں سے 42 مسلمان طلبہ کے نام جگمگا رہے تھے۔ پہاڑوں کی چوٹیوں نے چاہا تو بہت کہ معاملہ دھیرے سے گزر جائے، مگر انسان جب بحث کا شعلہ جلائے تو پہاڑوں کی خاموشی بھی پگھل جاتی ہے۔ فہرست جیسے ہی اخباروں اور سوشل میڈیا کے طوفان میں داخل ہوئی، ہر طرف سوال اٹھے، بیانات بنے اور جھاڑ جھنکار سے احتجاج کے بھاشن پھوٹ پڑے۔
عمارت دور سے یوں نظر آتی تھی جیسے چاندی کی تختی پر لکھا کوئی مقدس نسخہ۔ دیوی کے آستانے کے نیچے، بھگتوں کے قدموں کے بیچ، چندے کے پیسوں سے بنی اس عمارت نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ ایک دن اس کے اندر میرٹ اور مذہب کی ایسی لڑائی برپا ہوگی کہ در و دیوار بھی سُن ہو جائیں گے۔ انتظامیہ کی فہرست واضح تھی،NEET کے نمبر، میرٹ کی ترتیب اور سرکاری قانون کے مطابق داخلے۔ مگر انسان کا ذہن جب تعصب کی ماچس پکڑ لے تو قانون کی کتاب بھی خشک لکڑی محسوس ہونے لگتی ہے۔
کٹرا کی سڑکوں پر دائیں بازو کی مختلف ہندو تنظیموں نے وہ شور بپا کیا، جیسے کسی نے ان کے خاندانی ورثے پر قبضہ جما لیا ہو۔ Vishwa Hindu Parishad، Bajrang Dal، Yuva Rajput Sabha، Movement Kalki—سب کے سب لٹھ، بینر، نعرے اور غصّے کا پوٹلا سنبھالے اکٹھے ہوئے۔ ان کے چہروں پر ایسے تاثرات تھے جیسے کسی نے انہیں بتایا ہو کہ کالج میں MBBS نہیں بلکہ ان کے گھروں کے مندر بیچے جا رہے ہیں۔ ایک لیڈر کی آواز اونچی تھی، الفاظ تیز،’’یہ کالج بھگتوں کے چندے سے بنا ہے، یہاں مسلمان کیسے زیادہ ہو گئے؟ فہرست واپس لو، ورنہ سڑکیں دیکھ رہی ہیں!‘‘معاملہ جب سیاسی گوشوں تک پہنچا تو بیانات نے مزید تیل چھڑکا۔ کالج انتظامیہ نے جواب دیا،’’یہ ادارہ اقلیتی درجہ نہیں رکھتا۔ مذہب کی بنیاد پر نہ سیٹیں دی جا سکتی ہیں نہ روکی جا سکتی ہیں۔ داخلے مکمل طور پر میرٹ پر ہیں۔NEET کا پرچہ سب نے دیا، نمبر زیادہ لانے والوں کے نام اوپر آئے۔ ہم کیا کریں کہ محنت کی بھی کوئی عزت باقی رہ گئی ہے۔‘‘مگر احتجاجیوں نے شاید اس وضاحت کو بھی یوں سنا جیسے کوئی طوطے کو فلسفے کا لیکچر سنا رہا ہو۔
پہاڑوں کی ہوا اُس دن یونہی تیز نہیں تھی۔ جیسے کہہ رہی ہو:’’ڈاکٹر بننے والوں کو مذہب کے خانوں میں مت باندھو۔ زخم جب بہتا ہے تو خون کا رنگ سب کے یہاں ایک ہی نکلتا ہے۔‘‘مگر احتجاجیوں نے اس نصیحت کو بھی شاید سردی کی لہر سمجھ کر جیکٹ کا زِپ اوپر کھینچ لیا۔ کچھ نے کہا کہ بھگتوں کے چندے کی بے ادبی ہوئی ہے۔ کچھ نے کہا کہ ہندو طلبہ کا حق مارا گیا ہے۔ کچھ کو شک ہوا کہ’’یہ سازش ہے!‘‘ اور کچھ کو یقین کہ’’پہاڑ خاموش ہیں، مگر فیصلہ غلط ہے۔‘‘
ان سب کے شور کے بیچ اصل منظر نہایت شاندار تھا،کالج کے اندر 42 نوجوان مسلمان طلبہ، اپنے کاندھوں پر کتابیں، آنکھوں میں امیداور دل میں وہ سکون لئے جو صرف میرٹ کے ثبوت کے ساتھ آتا ہے۔ وہ ڈرے نہیں، گھبرائے نہیں،بس ایک ہلکی مسکراہٹ لئے کلاس کی قطاروں کے کیے کھڑے تھے ،جیسے کہہ رہے ہوں:’’ہمارے نمبر لکھے ہوئے ہیں— شور کرنے والوں کے نعرے نہیں۔‘‘ان کی آنکھوں میں ایک عجیب سا وقار تھا، وہی وقار جسے ایک طالب علم نے یوں بیان کیا:’’ڈاکٹر کے ہاتھ کا معیار زبان سے نہیں، انسان کی جان سے ماپا جاتا ہے۔‘‘اس ایک جملے نے سچائی کا وہ چراغ جلایا، جسے احتجاجی جلوس کی آندھیاں بھی بجھا نہ سکیں۔کالج کی سفید دیواریں اُس دن عجیب دکھائی دیتی تھیں، یوں لگتا تھا جیسے وہ خود انسانوں کے فیصلوں کو پڑھ رہی ہوں اور پوچھ رہی ہوں:’’کیا علم کی عبادت بھی مذہبی مرکز کے نام سے مشروط ہوگی؟ کیا خدمتِ خلق بھی چندے کے خانے میں بند ہو جائے گی؟ یا پھر انسانیت کی وہ ندی جو وادی میں بہتی ہے، آج پھر اپنا راستہ خود بنا لے گی؟‘‘
اس سارے شوروغل میں کچھ سیاسی جماعتوں کے لیڈروں نے موقعِ غنیمت جانا، میڈیا کے کیمروں میں چہرے جما کر مطالبے داغ دیے،’’فہرست کا جائزہ لو!‘‘،’’نیا کوٹہ بناؤ!‘‘،
’’سیٹوں کی تقسیم پر مذہبی تناسب رکھو!‘‘جیسے MBBS کی نشستیں نہیں، پرشاد کے لڈو تقسیم ہو رہے ہوں۔لیکن میرٹ تو وہ چیز ہے جو لاڈلے اور نافرمان دونوں کی آنکھ میں ایک جیسی چبھتی ہے۔
یہ کہانی اصل میں ایک فہرست کی نہیں،ایک سماج کے خفیہ امتحان کی تھی اور اس امتحان میں کامیاب وہی ہوا ،جو روایتی خانے توڑ کر آگے بڑھا۔ 42 مسلمان طلبہ کا منتخب ہونا صرف ایک تعلیمی کامیابی نہیں،یہ اس وادی کا فیصلہ تھا کہ علم پر مذہب کی دیوار نہیں کھینچی جائے گی۔ میرٹ کا چراغ بجھانے والوں سے بڑا کوئی اندھیرا نہیں اور سچائی کی روشنی روکنے والوں سے کامیاب کوئی سورج نہیں۔ان مظاہروں میں کچھ چہرے یوں لگ رہے تھے جیسے اپنی ہی سوچ کے قیدی ہوں۔ ان کے نعروں میں غصہ کم، حیرت زیادہ تھی، جیسے وہ خود بھی یقین نہیں کر پا رہے کہ محنت مذہب سے آگے نکل گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ جس دن ہم نے تعلیم کا دروازہ مذہب کے کنڈے سے باندھ دیا، اسی دن علم کے کمرے کی تازہ ہوا مر جائے گی۔آخر میں جب غبار بیٹھا تو وادی کے درختوں نے جیسے سر ہلا کر کہا:’’محنت کا راستہ کبھی غلط نہیں جاتا—بس شور کرنے والوں کو دیر سے سمجھ آتی ہے۔‘‘کالج کی وہ خاموش عمارت آج بھی سورج کی روشنی میں یونہی چمکتی ہے،لیکن اب اس کے اندر ایک نئی روشنی ہے۔وہ روشنی جو میرٹ کی ہے، حق کی ہے اور انسانیت کی ہے۔
علم کا دِیا کبھی مذہب کی دیواروں کے سائے میں کم نہیں ہوتا، یہی وہ درس ہے جو کٹرا کی وادی نے اس دن ہمیں دیا۔ اس صبح نے بتایا کہ روشنی کو فرقوں سے نہیں روکا جا سکتا اور محنت کے ثمر کو نعروں سے چھینا نہیں جا سکتا۔یہ کہانی ختم نہیں،یہ نئی شروعات ہے، جہاں علم کی فتح اور تعصب کی شکست کا پرچم ہوا میں بلند ہے۔