احمد ایاز
صدیوں سے جموں و کشمیر کو اس کی دلکش وادیوں، جھیلوں، پہاڑوں اور رنگا رنگ تہذیب کے لیے جانا جاتا ہے، لیکن ان قدرتی نظاروں سے بھی بڑھ کر یہاں کی اصل میراث ایک اور ہے،ایک ایسی میراث جو ہمدردی، رواداری، مذہبی ہم آہنگی اور باہمی احترام پر بنی ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جہاں مذاہب صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ یوں گھل مل گئے ہیں کہ یہاں کی روزمرہ زندگی میں کوئی دیوار محسوس ہی نہیں ہوتی۔ خوشی ہو یا غم، تہوار ہوں یا مشکلات ،لوگ ہمیشہ ایک دوسرے کے سہارے بنے رہے ہیں۔
ایک ایسے وقت میں جب دنیا کے کئی خطے مذہبی و سماجی تقسیم کی لپیٹ میں ہیں، جموں سے سامنے آنے والے ایک واقعے نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ جب دل میں انسانیت ہو تو تمام سرحدیں مٹ جاتی ہیں۔ جموں کے رہائشی کلدیپ شرما کی طرف سے صحافی ارفاز ڈائینگ، جن کا گھر منہدم کر دیا گیا تھا، کے لیے اٹھایا گیا قدم نہ صرف ایک خاندان کے لیے امید بنا بلکہ وادی اور جموں بھر میں موجود اس صدیوں پرانی روایتِ انسانیت کو دوبارہ اجاگر کر گیا جو یہاں کے لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہے۔یہ واقعہ محض ایک ذاتی عمل نہیں تھا بلکہ اس گہری تہذیبی تاریخ کا تسلسل ہے جس میں انسانیت ہمیشہ مذہب پر غالب رہی ہے۔
وہ واقعہ جس نے دلوں کو چھو لیا:
جب صحافی ارفاز ڈائینگ کا گھر گرایا گیا تو ان کا خاندان بے گھر اور پریشان ہوگیا۔ یہ منظر سوشل میڈیا پر پھیلا تو لوگوں میں شدید ہمدردی پیدا ہوئی۔ مگر اس ہمدردی نے تب ایک اعلیٰ درسِ انسانیت کی شکل اختیار کی جب کلدیپ شرما نے صرف افسوس کا اظہار نہیں کیا،بلکہ عملی قدم اٹھایا۔انہوں نے اپنی ذاتی زمین سے پانچ مرلے کا ایک پلاٹ ارفاز ڈائینگ کے نام کردیا۔ باقاعدہ رجسٹری عمل میں آئی اور اس فیصلے کو محض جذباتی نہیں بلکہ ایک دیرپا اور حقیقی مدد بنا دیا گیا۔شرما نے کہا کہ انہوں نے یہ قدم انسانیت کی بنیاد پر اٹھایا ہے، کسی مذہبی یا سیاسی فائدے کے لیے نہیں۔ ان کے مطابق جموں و کشمیر کے باسیوں کا باہمی رشتہ ہر تقسیم سے زیادہ مضبوط ہے۔مگر کہانی یہیں ختم نہیں ہوئی۔
پانپور کے ایک تاجر نے کلدیپ شرما کے اس عظیم جذبے سے متاثر ہوکر انہیں ایک کنال (20 مرلے) قیمتی زمین تحفے میں دینے کی پیشکش کی۔ اس کے فوراً بعد شوپیاں کے محمد اقبال شاہ نے مزید 10مرلے زمین بطور تحفہ دینے کا اعلان کیا۔یوں یہ ایک عمل نہیں رہا بلکہ نیکی اور محبت کی لڑی میں پرویا گیا ایک سلسلہ بن گیا،وہ سلسلہ جس نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ جے اینڈ کے کی اصل شناخت انسانیت ہے۔
جموں و کشمیر کی صدیوں پرانی مشترکہ تہذیب
:
جموں و کشمیر کی تاریخ، چاہے مذہبی ہو، ثقافتی ہو یا سماجی ،اس میں ایک بات ہمیشہ نمایاں رہی ہے: محبت، برداشت اور باہمی احترام۔
۱۔ صوفی اور ریشی روایت—جڑوں میں بسا محبت کا پیغام :
شیخ نورالدین نورانی (نند ریشی) سے لے کر لل دید تک، صدیوں سے یہاں کا اجتماعی شعور اسی تعلیم سے تشکیل پایا،’’محبت تمام فاصلوں کو مٹا دیتی ہے۔‘‘ان درویشوں اور ریشیوں کی خانقاہوں اور آستانوں پر ہندو اور مسلمان یکساں عقیدت کے ساتھ جاتے تھے۔ یہ سلسلہ آج بھی کئی دیہاتوں اور وادیوں میں زندہ ہے۔
۲۔ مشترکہ تہوار،مشترکہ دل:عید ہو یا شیو راتری، نوروز ہو یا دیوالی ،یہاں کے لوگ ہمیشہ ایک دوسرے کے گھروں میں شریک ہوتے رہے ہیں۔ وازوان، ترامی، قہوہ، کانگڑی اورفیرن،یہ سب مشترکہ تہذیب کی نشانیاں ہیں۔جموں میں بھی یہی ماحول ہے۔ ڈوگرہ، سکھ، مسلمان، پنڈت، راجپوت، گوجر، پہاڑی ،سب ایک ساتھ جیتے ہیں، ایک دوسرے کی خوشیوں میں شریک اور غموں میں سہارے بنتے ہیں۔
۳۔ مصیبت میں اکٹھا ہوناکشمیر کی پہچان:چاہے 2014کا سیلاب ہو یا کوئی سیاسی یا سماجی بحران ،ہر مشکل وقت میں یہاں کے لوگ مذہبی شناخت سے اوپر اٹھ کر ایک دوسرے کی مدد کرتے آئے ہیں۔یہ ہے وہ جے اینڈ کے جو میڈیا کی نظروں سے اوجھل رہتا ہے مگر دلوں میں زندہ ہے۔کلدیپ شرما اور ارفاز ڈائینگ ،یہ کہانی کیوں دل میں اتر گئی؟
(۱) گھر گرا، مگر انسانیت نے سہارا دیا۔شرما کی جانب سے زمین دینا محض مدد نہیں تھی ،یہ ایک پیغام تھا کہ جموں و کشمیر کی روح آج بھی زندہ ہے۔(۲) وادی کا ردعمل—محبت کا جواب محبت۔پانپور اور شوپیاں سے زمین کی پیشکشیں صرف تحائف نہیں تھے،وہ دلوں کی آواز تھے۔(۳) نفرت کے بیچ محبت کی آواز زیادہ بلنداس واقعے نے ثابت کیا کہ چاہے کتنی بھی کوششیں ہوجائیں، جموں و کشمیر کے لوگ نفرت کے بیانیے کو قبول نہیں کرتے۔
روزمرہ کی زندگی میں روایتِ بھائی چارہ :
اگرچہ یہ واقعہ خبروں میں آیا، مگر روز مرہ کی زندگی میں ہزاروں ایسے واقعات ہوتے ہیں جو اخبارات تک نہیں پہنچتے۔جموں کے دیہات میں مسلمان شادیوں میں ہندو پڑوسیوں کی مدد کرتے ہیں۔کشمیر میں کشمیری پنڈتوں کی ہرَتھ (شیو راتری) آج بھی مسلمان پڑوسیوں کے تعاون سے منائی جاتی ہے۔عید پر ہندو اور سکھ خاندان مسلمانوں کے گھروں میں مبارکباد دینے جاتے ہیں۔محرم میں ہندو اور سکھ افراد بھی لنگر اور اجتماعات میں شامل ہوتے ہیں۔گاندربل کی کھیر بھوانی مندر کی حفاظت کے لیے مقامی مسلمان ہمیشہ سب سے آگے رہے ہیں۔یہ وہ عمل ہیں جو جے اینڈ کے کی اصل شناخت کو قائم رکھتے ہیں۔
آج کے دور میں بھائی چارہ کیوں ضروری ہے؟ :
۱۔ کیونکہ جے اینڈ کے کی طاقت اس کی تنوع میں ہے یہاں کی مختلف قومیتیں، زبانیں، مذاہب ،سب مل کر اس خطے کی خوبصورتی بناتے ہیں۔
۲۔ کیونکہ نفرت تباہ کرتی ہے، انسانیت بناتی ہے ایک منفی پیغام چند لمحوں میں پھیل سکتا ہے مگر ایک مثبت عمل نسلوں تک یاد رہتا ہے۔
۳۔ کیونکہ نوجوانوں کو ایسی مثالوں کی ضرورت ہے یہ کہانی آنے والی نسلوں کو اصل کشمیر اور اصل جموں کی پہچان کرواتی ہے۔یہ کہانی مستقبل کا چراغ ہے۔انتظامی اور سیاسی پیچیدگیاں اپنی جگہ، مگر عوام کے دلوں میں محبت اور احترام آج بھی قائم ہے۔ کلدیپ شرما،پانپور کے تاجر اور شوپیاں کے محمد اقبال شاہ نے ثابت کیا ہے کہ یہاں نفرت نہیں،انسانیت جیتتی ہے۔یہ واقعہ سکھاتا ہے:(۱) انسانیت ہر شناخت سے بلند ہے۔(۲) ایک شخص کا اچھا عمل پورے معاشرے میں روشنی پھیلا سکتا ہے۔(۳) جے اینڈ کے کا بھائی چارہ مضبوط، گہرا اور زندہ ہے۔
اختتامیہ:جموں و کشمیر کی اصل روح آج بھی روشن ہے۔ایک ہندو شخص کا ایک مسلمان صحافی کو زمین دینا اور پھر کشمیری مسلمانوں کا اس کے جواب میں اسے زمین پیش کرنا،یہ محض خبریں نہیں بلکہ جے اینڈ کے کی اجتماعی روح کی جھلک ہے۔یہ زمین صرف پہاڑوں، ندیوں اور وادیوں کی نہیں،یہ محبت، ہمدردی اور بھائی چارے کی زمین ہے۔جب تک ایسے لوگ موجود ہیں، اس خطے کی اصل پہچان کبھی ماند نہیں پڑے گی۔
[email protected]