عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/سری نگر کے حضرت بل اور اس سے ملحقہ رہائشی علاقوں میں گزشتہ کئی دنوں کے دوران ریچھ کی بار بار موجودگی نے مقامی آبادی کو شدید خوف و ہراس میں مبتلا کر رکھا ہے۔ مختلف محلوں، گلیوں اور سڑکوں پر جنگلی جانوروں کے دیکھے جانے کی اطلاعات کے بعد لوگ شام کے بعد گھروں میں محصور ہو رہے ہیں جبکہ علی الصبح باہر نکلنے سے بھی گریز کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال نے علاقے میں عدم تحفظ کا ماحول پیدا کر دیا ہے اور معمولاتِ زندگی پر گہرا اثر پڑا ہے۔مقامی باشندوں کے مطابق پچھلے چار دنوں کے دوران ریچھ کو کئی بار رہائشی علاقوں کے قریب دیکھا گیا۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ بچے اسکول جانے سے خوفزدہ ہیں اور شام ہوتے ہی اکثر مرد حضرات بھی گھروں سے باہر نکلنے سے اجتناب کرتے ہیں جبکہ متعدد علاقوں میں رات کے وقت گلیاں سنسان دکھائی دیتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق شہری علاقوں میں ریچھوں کی آمد نئی بات نہیں، تاہم اس سال یہ سرگرمی غیر معمولی طور پر بڑھ گئی ہے۔ حکام کے مطابق بے ہنگم تعمیرات، جنگلات میں انسانی مداخلت، جنگلی جانوروں کی رہائش گاہوں کا سکڑ جانا اور کھانے پینے کی اشیاء کا غیر ذمہ دارانہ انداز میں ٹھکانے لگایا جانا اس مسئلے کی بنیادی وجوہات ہیں۔ وائلڈ لائف ماہرین کا کہنا ہے کہ کچرے کے ڈھیروں سے اٹھنے والی بدبو ریچھوں کو اپنی طرف راغب کرتی ہے کیونکہ ریچھ کی حسِ شامہ بہت تیز ہوتی ہے اور وہ دور سے خوراک محسوس کر لیتا ہے۔وائلڈ لائف محکمہ کے ایک افسر نے یو این آئی کو بتایا کہ گزشتہ چند دنوں میں حضرت بل اور نواحی علاقوں سے ریچھ دیکھنے کی کئی فون کالیں موصول ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق ٹیمیں دن رات گشت پر مامور ہیں اور ریچھ کو قابو کرنے کے لیے مختلف حساس مقامات پر پھندے نصب کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریچھ دن کے وقت عموماً جھاڑیوں یا سنسان مقامات پر چھپ کر بیٹھتا ہے، جبکہ شام کے بعد خوراک کی تلاش میں رہائشی علاقوں کا رخ کرتا ہے، اسی لیے شام کے اوقات سب سے زیادہ خطرناک سمجھے جاتے ہیں۔
افسر نے مزید کہا کہ حضرت بل اور اس کے ملحقہ علاقوں میں ریچھ کو پکڑنے کی خاطر جگہ جگہ پھندے نصب کئے گئے ہیں تاکہ جلد از جلد جنگلی جانور کو پکڑ کر وائلڈ لائف سنچری منتقل کیا جاسکے۔عوامی حلقوں نے انتظامیہ اور محکمہ وائلڈ لائف سے مطالبہ کیا ہے کہ اسکولوں، مساجد اور بازاروں کے قریب گشت میں اضافہ کیا جائے تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے کا امکان ختم ہو سکے۔ لوگوں نے یہ بھی کہا کہ رات کے وقت سٹریٹ لائٹس کی تعداد بڑھائی جائے اور کچرے کے انتظام کو بہتر کیا جائے تاکہ جنگلی جانوروں کو خوراک کی جانب راغب ہونے سے روکا جا سکے۔ماہرین ماحولیات اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال انسان اور جنگلی حیات کے درمیان بڑھتے ہوئے تصادم کی واضح مثال ہے۔ ان کے مطابق منصوبہ بندی کے بغیر بڑھتی ہوئی تعمیرات، جنگلات کے سکڑنے، اور قدرتی ماحول کی بربادی کی وجہ سے ایسے واقعات میں اضافہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ جنگلی حیات کی بقاء اور رہائش گاہوں کے تحفظ کے لیے طویل مدتی پالیسی اپنائی جائے، ورنہ مستقبل میں ایسے واقعات مزید بڑھ سکتے ہیں۔
حضرت بل کے ملحقہ علاقوں میں ریچھ کو پکڑنے کی خاطر آپریشن تیسرے روز بھی جاری