ہارون ابن رشید، ہندوارہ
جموں و کشمیر میںمنشیات کے بڑے پیمانے پر خرید وفروخت اور استعمال کے اعدادو شمار اور نوجوان نسل پر پڑنے والے منفی اثرات کے حوالے سے کہا جاسکتا ہے کہ جموں وکشمیر میں منشیات کا استعمال نوجوانوں کو خاص طور پر وادی میں طلباء اور بے روزگار نوجوان طبقےکو بہت زیادہ نقصان پہنچا رہا ہے۔
منشیات کے استعمال سے جہاں نوجوان نسل کی صحت بُر ی طرح تباہ و بُرباد ہورہی ہے وہیںمنشیات کا استعمال نوجوانوں میں نشے اور جرائم کی زندگی کوہَوا دیتی ہے۔اب یہ حقیقت بھی سامنے آرہی ہے کہ نوسال سے بارہ سال عمر کے کمسن بچے بھی اب تمباکو کا استعمال شروع کر چکے ہیں جبکہ تیرہ چودہ سال عمر کے بچے دیگر منشیات کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ظاہر ہے کہ یہ بچے ابتدا میںایک تجرباتی چیز کے طوران منشیات کا استعمال شروع کرتے ہیں،جو زیادہ تر معاملات ایک خطرناک عادت کی صورت میں بدل جاتے ہیں ۔کسی کو شاید ابتدائی مرحلے میں یہ احساس نہ ہو کہ منشیات کا استعمال کب نشے میں بدل سکتا ہے مگر جس لمحے یہ نشے کی لت میں بدل جاتا ہےتب تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہےکیونکہ یہ نوجوان نسل نوجوان منشیات فروشوں کا نشانہ بن چکے ہوتے ہیں۔منشیات فروخت کرنے والےبے ضمیر اور بد بخت کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ دولت کمانے کے چکر میںاس دھندے کو فروغ دینے میں ہر وہ طریقہ استعما ل کرتے ہیں،جن کے جھانسوں میں آکر نوجوان نسل اپنا حال اور مستقبل تلف کرتا ہے۔بعض منشیات فروش اِن کی منشیات کی پیکنگ اس انداز سے کرتے ہیں جیسے کوئی اطمینان پہنچانے والی اور تازگی دلانے والی مفید چیز ہوتی ہے۔اس طرح نوجوان نسل کی زندگیوں کو تباہ کرکے انسانیت کو بہت بڑا نقصان پہنچانے والے ان بے ضمیر اور بد کار لوگوں کو نہ اپنے ان اعمال کے نتائج کی کوئی پرواہ ہے اور نہ ہی آخرت کا کوئی خوف ہے۔روزمرہ پیش آنے والے واقعات اور حادثات سے یہ باتیں بھی سامنے آرہی ہیںکہ جو نوجوان منشیات کا سہارا لیتے ہیں، اُن میں منشیات کے مضر اثرات کے باعث خودکشی کرنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ منشیات کے استعمال بارے میں غلط معلومات بھی ان کےاموات کی وجہ بنتے ہیں۔ کئی معاملات میں دیکھا جاچکا ہےکہ منشیات کا استعمال کرنے والے نے زیادہ مقدار میں اس کا ڈوز لیا تھا ، جس سےاس کی موت واقع ہو ئی ہے۔
وادی کشمیر میں منشیات کا برے پیمانے پر خرید وفرخت کا مسئلہ عرصۂ دراز سے انتہائی سنگین ہوتا جا رہا ہےاور وادی کشمیر کے ہر حصے کے کھدرے کونے تک اس کا جال بچھایا گیا ہے۔جس کے نتیجے میں صورتحال سنگین سے سنگین تر ہوتی جارہی ہے۔
منشیات کی لت کسی بھی شخص کے لیے ایک لعنت ہے کیونکہ یہ نہ صرف زندگی کو خراب کرتی ہے بلکہ انسان کا دین و دنیابھی تباہ کر دیتی ہے۔ نوجوان معصوم ہوتے ہیں اور انہیں اپنے گھروں، اسکولوں اور کام کی جگہ پر صحیح رہنمائی، اخلاقی تعلیم اور صحت مند ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔ والدین، اساتذہ، مذہبی سربراہان اور بزرگوں کو ہمیشہ نوجوانوں کے ساتھ ہمدردی،محبت و مؤدت کے سا تھ پیش آنے کی ضرورت ہے۔تاکہ وہ اپنے مسائل اور احساسات کو آسانی سے بیان کر سکیں، انہیں صرف ایک اچھے سُننے والے اُس رہنما کی ضرورت ہے جو ان کا ہاتھ تھامے اور انہیں صحیح راستہ دکھا سکے۔
جو نوجوان محفوظ ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ ان کی زندگی میں کچھ قابل اعتماد لوگ ہیں، جن کے ساتھ وہ اپنے جذبات اور مسائل کا آزادانہ اظہار کر سکتے ہیں تو پھر ان کے ذہنوں اور زندگی میں کسی غلط طریقے کی مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ورنہ جس طرح ہمارا معاشرہ اس سنگین معاملے میں غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کررہا ہے ،اُس سے یہی اخز کیا جاسکتا ہےکہ آج کی نوجوان نسل کے ایک بڑے حصے کے مستقبل شدید خطرے میں پڑسکتا ہے۔اور نوجوان نسل کا بیشتر حصہ منشیات کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کا عاشق بن جائے گا ۔ منشیات کی لت کا مسئلہ بہت اہم اور سنگین ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔جموں و کشمیر کی انتظامیہ کو منشیات کی خرید وفروخت اور اس کے استعمال سےجُڑے تمام خطرات کو سنجیدگی کے ساتھ سمجھنا ہوگا اور اں خطرات کو اُجاگر کرنے میں کمیونٹیز، میڈیا اور مذہبی سربراہان، این جی اوز، سول سوسائٹی کو شامل کرنے پر پوری توجہ دینا ہوگا ۔ میڈیا اور مذہبی سربراہان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے مسائل کوہر سطح پر اُجاگر کرتے رہیںاور اُن کو ایسے صلاح و مشوروں اور تجویزوں سے آگاہ کیا جا سکے تاکہ اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لئے اُن میں اتفاق رائے پیدا ہوسکے،تبھی اس طرح کی لعنتوں کے خلاف کوئی موثرلائحہ عمل تیار ہوسکتا ہے،ورنہ آج تک جو مشقیں اس بابت ہوئی تا ایں دم وہ بے کار ہی ثابت ہوچکی ہیں۔عذاب اور اُداسی پھیلانےوالی جرائم کے مرتکب عناصر، طاقت کے ڈھانچے میں اچھی طرح سے جمے ہوئے ہیں اور انہوں نے اپنے مذموم مقاصد کے لیے بین الاقوامی شراکتیں قائم کر رکھی ہیں۔ اس طرح کے منظم خطرے سے نمٹنے کے لیے ردعمل کو بھی موثر طریقے پر مربوط ہونا چاہیے۔انفرادی کوششیں مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتیں۔طویل عرصے سے ہم نے ایسے نازک مسائل پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی آنکھیں کھولیں اوراپنے ذمہ داری نبھائیں۔ورنہ یہ کہاوت ہم پر بالکل صحیح ثابت ہوتی ہے کہ بُرائیاں ،بُرے سماج کی ہی پیداوار ہوتی ہیں۔
(مضمون نگار ، پی جی کے طالب علم ہیـں)
<[email protected]>