معصوم مراد آبادی
بلقیس بانو کیس کے مجرموں کی رہائی نے ملک میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔اس بحث کا محور وہ مظلوم خواتین ہیں جنھیں اس ملک میں رات دن جنسی درندگی کا شکار بنایا جاتا ہے۔ملک میںایک طرف خواتین کی عزت وعصمت کی حفاظت کے حق میں بڑی بڑی باتیں کی جاتی ہیں اور دوسری طرف ان بھوکے بھیڑیوں کو رحم کا مستحق بھی گردانا جاتا ہے جو اس قسم کی گھناؤنی حرکتوں میں ملوث ہوتے ہیں۔ اس ملک کی تاریخ میں اب تک اجتماعی آبروریزی کے دو ہی مقدمات ایسے ہیں ،جنھوں نے اپنی وحشت اور درندگی کی وجہ سے عالمگیر شہرت حاصل کی ہے۔ ان میں پہلا مقدمہ گجرات کی رہنے والی بلقیس بانو کا ہے اور دوسرا دہلی کی نربھیا کا ۔ نربھیا کے قاتلوں کو پھانسی پر چڑھایاجاچکا ہے ، لیکن بلقیس بیس سال بعد بھی انصاف کی تلاش میں در دربھٹک رہی ہے۔2008 میں بلقیس اجتماعی آبروریزی اور قتل عام کے مجرموں کوبڑی مشکلوں کے بعد عمر قید کی جو سزا ہوئی تھی ، اسے حال ہی میں گجرات سرکار نے معاف کردیا ہے اور وہ گیارہ وحشی درندے آزاد کردئیے گئے ہیں ، جنھوں نے 2002کی نسل کشی کے دوران بلقیس اور اس کے اہل خانہ کو درندگی اور بربریت کا شکار بنایا تھا۔جس وقت بلقیس کو وحشت و درندگی کا نشانہ بنایا گیا ، وہ پانچ ماہ کی حاملہ تھا۔بلقیس پر حملہ آور ہونے والے بھیڑیوں نے اس کے خاندان کے آٹھ لوگوں سمیت 14؍مزید لوگوںکی جانیں لی تھیں۔ ان انسان نما بھیڑیوں کا جرم اپنی نوعیت کے اعتبار سے اتنا سنگین تھا کہ انھیں کم سے کم سزائے موت دی جانی چاہئے تھی ، لیکن سرکاری مشنری نے انصاف کی راہ میں اتنی رکاوٹیں کھڑی کیں کہ ان کو عمرقید کی سزا بھی اس وقت ہوئی جب بلقیس کیس کی سماعت گجرات سے مہاراشٹر منتقل ہوئی۔
درحقیقت بلقیس بانومذہبی منافرت ، درندگی اور بربریت کی ایسی چلتی پھرتی داستان ہے، جس کی کوئی نظیرملک میں موجود نہیں ہے۔2002میںگجرات نسل کشی کے دوران بلقیس کے پڑوسیوں نے ہی اس کی اجتماعی آبروریزی کی تھی ۔ گجرات نسل کشی کا یہ ایسا سانحہ تھا جس کی گونج پوری دنیا میں سنائی دی تھی۔بلقیس اور اس کے خاندان والوں کا قصور یہ تھا کہ وہ سب کے سب مسلمان تھے ۔ اس کیس کے جن14؍ مجرموں کو عمر قید ہوئی تھی، ان میں سے تین کی موت واقع ہوگئی اور باقی گیارہ جیلوں میں قید تھے ، جنھیں ’آزادی کے امرت مہوتسو ‘کی آڑ میں معافی دے کر رہا کردیا گیاہے۔ ان درندوں کی رہائی سے بلقیس کے سارے زخم ایک بار پھر ہرے ہوگئے ہیں اور وہ بیس سال پہلے کے اس دور میں پہنچ گئی ہے جہاں اس کے ساتھ درندگی اوروحشت کی تمام حدیں پارکرلی گئیں تھیںاور اس کی نظروں کے سامنے اس کی تین سال کی بیٹی کو زمین پر پٹخ کر بے دردی سے ہلاک کردیا گیا تھا۔
گزشتہ پیر کی شام عین یوم آزادی کے دن جب بلقیس کو میڈیا کے ذریعہ معلوم ہے کہ اس کے تما م مجرموں کو معافی دے دی گئی ہے تو وہ سکتہ کے عالم میں تھی ، کیونکہ اس کے ذہن میں 3؍مارچ2002کے وہ واقعات ایک فلم کی طرح چلنے شروع ہوگئے ، جنھوں نے آج بھی اس کا جینا حرام کررکھاہے۔ اپنے مجرموں کی رہائی کے بعد اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سمندر رواں ہوگیا اورسکوت نے اس کو اپنی گرفت میں لے لیا ۔بڑی مشکل سے دوروز بعد وہ کچھ کہنے کی حالت میں ہوئی تو اس نے اپنی وکیل کی معرفت کہا کہ ’’ میں پوچھنا چاہتی ہوں کہ کسی بھی خاتون کے لیے انصاف اس طرح کیسے ختم ہوسکتا ہے ؟ مجھے عدالتوں پر بھروسہ تھا اور میں آہستہ آہستہ اپنے زخموں کے ساتھ جینا سیکھ رہی تھی ۔ ان مجرموں کی رہائی نے ایک بار پھر مجھ سے میرا سکون چھین لیا ہے ۔ انصاف پر میرے یقین کو مترلزل کردیا ہے۔‘‘
بلقیس کے شوہر یعقوب رسول کا کہنا ہے کہ ’’ہم اس وقت شدید صدمہ کی حالت میں ہیں۔ہمارے پاس اپنادردبیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔ مجرموں کی رہائی نے ہمارے اندر ایک عجیب خوف پیدا کردیا ہے ۔‘‘بلقیس اور اس کے شوہرکو سب سے زیادہ فکر اپنے بچوں کے مستقبل کی ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم پر انھیں پچاس لاکھ کاجو معاوضہ ملا تھا ،اسے انھوں نے بچوں کی اعلیٰ تعلیم کے لئے بینک میں جمع کرادیاہے۔ بلقیس کی سب سے بڑی بیٹی بیس سال کی ہے، جسے وہ وکیل بنانا چاہتی ہے ۔ سپریم کورٹ نے اسے سرکاری ملازمت اور مکان دینے کا جو حکم سرکار کو دیا تھا اس پر ابھی تک عمل نہیںہواہے۔ صوبائی حکومت بلقیس کو ایک دفتر میں چپراسی کی نوکری دینا چاہتی تھی مگراس نے اسے ٹھکرادیا اور اپنے شوہر کو ملازمت دینے کے لیے کہا ، مگر ابھی تک کچھ نہیں ہوا۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بلقیس اجتماعی آبروریزی کے مجرموں کی رہائی لال قلعہ سے وزیراعظم کے اس خطاب کے چند گھنٹوں کے بعد عمل میں آئی ہے جس میں انھوں نے خواتین کی عزت وعصمت اور وقار کی بحالی کا عہد کیا تھا اور عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ ایسا کچھ نہ کرنے کا عہدکریں جس سے خواتین کا وقار مجروح ہوتا ہو۔ انھوں نے اس بات کوتسلیم کیا تھا کہ ہمارے عمل میں کھوٹ پیدا ہوگئی ہے اور ہم کبھی کبھی خواتین کی بے عزتی کرتے ہیں ۔کیا ہم اپنے عمل اور قدروں سے اس سے چھٹکارا پانے کا عزم کرسکتے ہیں۔؟ ‘‘ وزیراعظم کے اس بیان کی گونج ابھی ختم بھی نہیں ہوئی تھی کہ خود ان کی اپنی ریاست گجرات میں ان ہی کی پارٹی کی حکومت نے ایک ایسا کام کردکھایا جس نے پورے ملک کی خواتین میں خوف وہراس پھیلادیا۔ بلاشبہ یوم آزادی کے موقع پر گجرات حکومت کے اس قدم نے یہ ثابت کردیا کہ اس ملک میں اب مجرموں ، قاتلوں ،زانیوں اور وحشی درندوں کو ہی جینے کاحق ہے۔المیہ یہ ہے کہ حکومت کے جس پینل نے ان درندوں کی رہائی کی سفارش کی تھی ، اس میں حکومتی پارٹی کے ہی لوگ شامل تھے ۔ اس پینل میں شامل ایک بی جے پی ممبراسمبلی کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کو اس لیے رہا کیا گیا ہے ، کیونکہ یہ اعلیٰ ذات سے تعلق رکھتے ہیں اور اعلیٰ ذات کے لوگ بہت’ مہذب ‘ہوتے ہیں۔
سبھی جانتے ہیں کہ2002 کی گجرات نسل کشی کی جن دلخراش داستانوں کو اپنی وحشت و درندگی کی وجہ سے سب سے زیادہ شہرت ملی تھی ، ان میں سب سے نمایاں بلقیس بانو اجتماعی آبروریزی اور قتل کا مقدمہ تھا۔ اس لیے بلقیس گجرات کی نسل کشی میں مظلومیت کی سب سے بڑی علامت بن کر ابھری تھی۔ اس وقت گجرات کی سرکاری مشنری اور پولیس کیونکہ قتل وغارتگری کرنے والوں کی سب سے بڑی نگہبان تھی ، اس لیے بلقیس کیس کے ثبوت مٹانے سے لے کر مجرموں کو بچانے تک وہ سارے کالے کارنامے انجام دئیے گئے جن پر کسی مہذب سماج کو ہزار بار شرمندہ ہونا چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کیس کو ممبئی ہائی کورٹ منتقل کیا گیا اور وہاں سے مجرموں کو عمر قید کی سزا ملی۔وہی درندے آج آزاد ہوکر ایک دوسرے کو مٹھائیاں کھلارہے ہیںاور ان کا پھولوں سے استقبال کیا جارہا ہے۔
قابل غور بات یہ ہے کہ ایک طرف تو گجرات سرکاربدترین مجرموں کے ساتھ رحم دلی کا مظاہرہ کررہی ہے اور دوسری طرف ان لوگوں پر شکنجہ سخت ہوتا جارہا ہے جن کی انتھک کوششوں کی وجہ سے گجرات نسل کشی کے مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچایا جاسکا۔ ان میں سب سے اہم نام بہادر سماجی کارکن ٹیسٹا سیتلواڑ کا ہے ، جو اس وقت سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ مقتول احسان جعفری کی بیوہ ذکیہ جعفری کی اپیل سپریم کورٹ سے خارج ہونے کے بعد گجرات حکومت نے ٹیسٹا اور اعلیٰ پولیس افسر آربی سری کمار کو گرفتارکرکے ان کے خلاف مجرمانہ سازش کا مقدمہ قایم کردیا ہے۔ ظلم کی مخالفت کرنے والے ایک اور پولیس افسر سنجیو بھٹ بھی عرصہ سے جیل میں ہیں۔ قصور یہ ہے کہ انھوں نے2002کی نسل کشی میںسرکاری مشنری کی شمولیت کے ثبوت پیش کئے تھے۔
گجرات سرکار نے بلقیس کیس کے مجرموںکو اپنی معافی پالیسی کے تحت رہاکیا ہے۔ واضح رہے کہ جون کے مہینے میں مرکزی حکومت نے آزادی کے امرت مہوتسو کے پیش نظر قیدیوں کی رہائی سے متعلق خصوصی ہدایات جاری کی تھیں۔مگر اس میں آبرویزی کے مجرموں کو رہا کرنے کی گنجائش نہیں تھی، لیکن اس کے باوجود انھیں ’اعلیٰ کردار ‘کا حامل قرار دے کر رہا کردیا گیا۔اس واقعہ پر پورے ملک میں شدید ردعمل ہوا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ انسانی حقوق کے چھ ہزار سے زیادہ کارکنوں نے سپریم کورٹ سے رجوع ہوکر ان مجرموں کی سزا میں دی گئی چھوٹ کو رد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سپریم کورٹ اس پر کیا موقف اختیار کرتا ہے۔
[email protected]