شہباز رشید
قران مجید کے بیان کے مطابق عاد نے الاحقاف کے اس علاقہ میں ستونوں والا شہر تعمیر کیا تھا جس کا ذکر سورہ الفجر میں ارم ذادلعماد التی لم یخلق مثلھا فی البلاد میں آیا ہے۔اسی ستونوں والے شہر کو ‘شہرِ ارم کہا جاتا ہے۔ارم کو عبر بھی کہا جاتا تھا۔ شہر ارم کے کھنڈرات آج جزیرہ عرب کے جنوب میں عمان اور یمن کے درمیان موجود ‘الربع الخالی میں دریافت ہوئے ہیں۔الربع الخالی میں نہایت سخت ناقابلِ برداشت موسم ہوتا ہے، جس کے اندرونی حصوں میں کوئی بھی اندر جانے کی ہمت نہیں رکھتا۔مولانا سید سلیمان ندوی ارض القرآن میں اسی الربع الخالی کو احقاف کا علاقہ کہتے ہیں جس کا ذکر قرآن میں آیا ہے۔وہ لکھتے ہیں:احقاف وہ عظیم ریگستان ہے،جو سینکڑوں میل تک وسیع ہے اور اب اس کو الربع الخالی کہتے ہیں، اس میں جب تیز ہوا چلتی ہے زندگی دشوار ہو جاتی ہے،ریگ کے پہاڑ کے پہاڑ ہوا پر اڑتے پھرتے ہیں اور جہاں وہ تھمتے ہیں،اس کو دبا کر دفن کر دیتے ہیں،قافلہ کا قافلہ گاؤں کا گاؤں اس کے نیچے دب کر موت سے پہلے مدفون ہوجاتا ہے پھر اتفاق سے یہاں سے ریت ہٹتی ہے تو ہڈیوں کاقلعہ نظر آتا ہے۔ الربع الخالی کے متعلق بیسویں صدی میں کئی لوگوں نے اپنے سفرنامے لکھے جن میں آر ایچ کیرنان کی ‘دی انویلنگ آف عربیا،کیپٹن آر ایل پلے فئیر کی ‘اے ہسٹری آف عربیا فیلکس یا یمن ‘ فلبی کی ‘دی ایمپٹی کوارٹر ‘ کافی معروف ہیں۔محققین کے مطابق یہ صحرا ایک زمانے میں سرسبزو شاداب اور انسانوں کا مسکن رہا ہے ۔
1990کے اوائل میں دنیا بھر کے اخبارات میں یہ خبر شائع ہوتی ہے کہ عرب کا ‘فراموش شدہ شہر دریافت ،’’عرب کا داستانی شہر دریافت ‘‘ریت کا سمندر عبر دریافت ہوگیا۔ ‘ اس خبر نے دنیا کے تحقیقی حلقوں میں اس لئے ہلچل مچا دی کیونکہ اس تباہ شدہ شہر کا ذکر قرآن میں آیا ہے۔مغربی محققین کو اس فراموش شدہ شہر کی دریافت کے حوالے سے دلچسپی برٹرم تھامس کی کتاب عربیا فیلکس (Arabia Felix)کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی ۔برٹرام تھامس نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ الربع الخالی کو پار کرنے کے دوران میرے بدوی ساتھیوں نے کچھ خطرناک راستوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ یہ راستہ اوبار(Uber) کی طرف ہے ،جس کے بارے میں ہمیں اپنے آباواجداد نے بتایا ہے۔برٹرم تھامس کے الفاظ اسطرح سے ہیں :
“It was a great city,our fathers have told us,that existed of old,a city rich in treasure,with date gardens and a fort of red silver,.It now lies buried beneath the sands in the ramlat Shuait,some few days to the north.”
عریبیا فلیکس نام کی اس کتاب میں تھامس نے جزیرہ نماعرب کے جنوبی حصوں کی تفصیلات کے ساتھ ساتھ اوبارکے ان خوش نصیب قبائل کے حالات بھی تفصیل سے بیان کئے ہیں ۔بدؤں کی فراہم کردہ معلومات اور خود اس علاقے کا سفر کرنے کے بعد تھامس نے دعوٰ ی کیا شہرِ اوبار یہیں کہیں ریت کے نیچے دفن ہے ۔ تھامس کی 1932کی الربع الخالی کی مہم کے بعد1933 میں ایچ ایس جے بی فلبی H.S.J.B Phillbyعرب بدویوں کے ہمراہ اس داستانی شہر کی تلاش میں نکلا لیکن یہ شہر دریافت نہ ہوسکا ۔26 مارچ 1988 کو نکولس کلیپ ،جارج ہیجس اور جیورس زیرنس نے کنگ فہد یونیورسٹی آف پٹرولیم اینڈ مینرلس سے اس شہر کی دریافت کی لئے مدد طلب کی لیکن انہوں نے کسی بھی قسم کی مدد فراہم کرنےسے انکار کردیا۔ لیکن بعدازاں انہیں عمان کی حکومت سے امداد ملی (ایچ ۔سٹیوارٹ ایڈجل کا عرب کا فراموش شدہ شہر کی حقیقت )۔نکولس کلیپ نے کیلیفورنیا کی ہنٹنگٹن لائبریری سے ایک پرانہ نقشہ جو یونانی مصری ماہر جغرافیہ بطلیموس نے بنایا تھا دریافت کیا اور ان پرانے مسودات اور نقشوں سے یہ تعین کرلیا کہ واقعی یہ شہر عمان ملک میں ریت کے نیچے کہیں مدفون ہے ۔اس کتابی اور دستاویزی ثبوت کے ملنے پر اس نے ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری پاسادینا کیلی فورنیا کے سائنس دانوں کو اس بات پر امادہ کیا عمان کے مخصوص علاقہ کی خلائی جہاز چیلنجر کے ریڈارا یمیجنگ سے تصاویر لیں ۔چناچہ ان تصاویر کے لینے کے بعد جب ان تصاویر کو غور سے دیکھا گیا توریت کے نیچے مدفون ایسے راستے ملے جو اوبار شہر کی طرف جاتے تھے ۔ بطلیموس کے نقشے اور سیٹلائٹ کے ذریعے لی گئی تصاویر دونوں کے مطابق اس شہر کا اصل مقام شسر کے نخلستان میں بنتا ہے ۔(ہارون یحٰی تباہ شدہ اقوام)۔اس تحقیقاتی ٹیم نے دہوفر Dhofarصوبہ میں شئشرShisurکے مقام پر کھدائی کروائی ۔5فروری 1992 کو John Noble Wilford کا مضمون بعنوانOn the trail from the sky ;roads point to a lost city نیویارک ٹائمز میں شائع ہوتا ہے جس میں مضمون نگار John Noble Wilford اس تحقیقاتی ٹیم کی دریافت کی بنیاد پریہ انکشاف کرتا ہے کہ عبر یا ارم دریافت ہوچکا ہے ۔
” After weeks of digging, Dr. Zarins said: “The site, the structure of the thing, is quite remarkable. It is octagonal in shape with eight identifiable towers, each of which can be estimated to have once been some 30 feet high, with adjoining walls and interior rooms. Nicely plastered facing has been found on one of the towers.”
‘’’ ایک ہفتہ کی کھدائی کے بعد ڈاکٹر ذرین نے کہا :کھدائی کے مقام پر دریافت ہونے والی چیزیں نہایت اہم ہیں ۔کھدائی کامقام آٹھ سمتی (Octagonal) ہے جہاں سے آٹھ مینار یاستون دریافت ہوئے جو اندازاً ایک زمانے میں تیس فٹ لمبے رہے ہیں ۔ستون کے ساتھ ملحق کمرے اور دیواریں بھی ہیں ۔ایک ستون پر اچھا پلستر بھی دریافت ہوا ہے ۔‘‘
چونکہ میناروں کی تعمیر عبار یاارم کی اہم خصوصیت تھی سو یہ اس بات کا قوی ثبوت تھا کہ کھدائی سے دریافت ہونے والا اجڑا شہر قرآن حکیم میں مذکور عاد کا شہرِ ارم ہی تھا۔شہر ارم کا تذکرہ شام میں کھدائی کے ذریعے دریافت ہونے والے شہر ایلبا سے ملنے والے کتبے میں بھی موجود ہے ۔ڈاکتر غاری میلر Dr Gary Millerاپنی کتاب “دی ایمیزنگ قرآن “The Amazing Quranمیں لکھتا ہے “1978 میں نیشنل جیوگرافک میگزین نے ایک اہم خبر دی کہ 1973 میں شام میں کھدائی سے ایلباشہر کو دریافت کیا گیا ۔یہ شہر تقریباً 4300 سال پرانا ہے لیکن یہ زیادہ حیران کن بات نہیں ہے بلکہ محققین کو اس شہر سے ایک کتب خانہ ملا ہے۔ جس میں ان تمام شہروں کا ریکارڈ موجود ہے جن کے ساتھ ایلبا کا کوئی تجارتی تعلق رہا تھا ۔آپ یقین کریں یا نہ کریں اس فہرست میں شہرِ ارم کا نام بھی ہے جس کے ساتھ Elba کے لوگوں نے تجارت کی تھی “وہ مزید لکھتا ہے کہ میں آپ کو مشورہ دیتا ہوں کی قرآن مجید کی سورۃالفجر کی آیات پڑھیں اور غور کریں ۔
مذکورہ بالا سطروں میں ممکنہ حد تک دستیاب شدہ معلومات کی مدد سے ارم کے شہر کے متعلق جو کچھ لکھا گیا ہے وہ مزید تحقیق کا متقاضی ہے۔لیکن ایک بات جو قابلِ غور ہے وہ یہ کہ قرآن مجید میں لفظ ’’ارم ‘‘جس کا ذکر شام کے دریافت شدہ شہر ایلبا کے کھنڈرات سے ملنے والے کتب خانہ میں موجود ہے جو شہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے پہلے کا ہے ۔