کے ڈی مینی ،پونچھ
حضرت میاں بشیر احمد لاروی کو گجر بکروال قبائل ،پہا ڑی طبقے اور جموں کشمیر کے دونوں حصوں کے لوگوں کا بے تاج بادشاہ کہا جاتاتھا ،جہاں اُن کی سیاسی بصیرت عوام کے لئے راحت بخش ہوتی تھی،روحانی شخصیت ،دلوں کو سکون اور تسکین دیتی تھی،وہیں تبلیغ کے وقت آپ کا جلال دیکھنے کو بنتا تھا ۔آپ میں خلوص ایسا تھا کہ غیروں کو اپنا بنانے میں ذرا دیر نہیں لگاتے تھے۔انکساری ایسی کہ غریب سے غریب شخص کو بھی گلے لگالیتے تھے۔رسوخ ایسا کہ برصغیر کے گنے چُنے لوگوں میں شمار ہوتے تھے۔شخصیت ایسی کہ سب کو گرویدہ بنالیتے تھے ۔شاہ دِلی ایسی کہ تن کے کپڑے بھی مستحق لوگوں میں بانٹ دیتے تھے۔حلیمی ایسی کہ گجر بکروال قبائل کے گھر،کوٹھوں اور خاندانوں کے بیچ رہ کر اُنہیں دینی اور دنیاوی مشوروں سے نوازتے اور عزت و غیرت کی زندگی گزارنے کا درس دیا کرتے تھے ۔یہی وجہ تھی کہ جب اس باوقار ،با اخلاق اور باسلیقہ شخصیت نے ۱۴؍اگست ۲۰۲۱کو اس جہاں فانی سے کوچ کیا تو جموں کشمیر کے کونے کونےسے لاکھوں کی تعداد میں سوگوار بسوں ،گاڑیوں ،گھوڑوں پر اور پیدل دربار لار شریف پہنچے اور حضرت موصوف کی آخری رسومات میں شرکت کی۔
آج حضرت موصوف ہمارے درمیان موجود تو نہیں لیکن خانقاہ شریف میں حضرت بابا جی صاحب اور حضرت میاں نظام الدین لاروی صاحب کے پہلو میں آپ کا آستان بھی ہر روز سیکڑوں مریدوں ،چاہنے والوں اور مرادیں مانگنے والوں سے بھرا رہتا ،جہاں وہ روحانی تسکین حاصل کرتے ہیں۔
حضرت میاں بشیر احمد لاروی جموں کشمیر کے ایسے ولیوں میں شمار ہوتے تھے جو فرقوں ،حدوں اور سرحدوں سے بالا تر ہوکر اپنے روحانی فیض سے لوگوں کو ذہنی سکون اور تسکینِ قلب مہیا کرتے تھے ۔آج کے دور کے اولیائے کرام میں آپ کو کو بلند مرتبہ حاصل تھا جو سلسلہ نقشبندیہ محمدیہ کے سالار ،شریعت کے پاس دار تھےاور رووحانیت کے اُس مقام پر تھے جہاں سے ذات ِ الٰہی کی طرف راہیں روشن ہوتی ہیں ۔آپ کا جسمانی قد اگرچہ درمیانہ تھا لیکن روحانیت کی نسبت سے آپ ملک اور جموں و کشمیرکی سب سے قد آور شخصیت مانے جاتے تھے۔دراصل آپ کا روحانی قد کشمیر کے پہاڑوں سے بھی اونچا تھا اور برصغیر کے جس بھی حصے سے کشمیر کی طرف نظر دوڑائیں،ہر ایک کی نظر اس قد آور شخصیت پر جا پڑتی تھی۔آپ کے چہرے پر جچی ہوئی ستواں ناک اپنے لوگوں اور قبائل کی ناک مانی جاتی تھی ۔کھلے ماتھے تلے گول گول عقابی آنکھیں روحانی کشش کے باعث اپنے بے گانے سب کو گرویدہ بنا لیتی تھیں۔چہرے پر سجی ہوئی سفید ریش سنت رسول ؐ آپ کی بزرگی اور بڑے پن کی علامت کے طور پر دیکھی جاتی تھی۔ہونٹوں پر ہمہ وقت پھیلی ہوئی مسکراہٹ انجانی خوشی اور روحانی تقدس کا عندیہ دیتی تھی۔فراخ ماتھے والے حضرت موصوف جب فراخ دِلی کے ساتھ مریدوں اور عقیدت مندوں سے مخاطب ہوتے تو اُن کے سارے غم،دُکھ اور مسائل کو خود سمیٹ لیتے اور مریدوں کی جھولیاںایسی خوشیوں،محبتوں اور اُمیدوں بھری سوغات سے بھر دیتے،جو اُنکی زندگی کو آسان اور آسودہ کردیتی تھی۔مریدوں اور عام لوگوں سے بات کرنے کا ڈھنگ ایسا تھا جیسے بچوں کو زندگی کے آداب سکھا رہے ہوں۔آپ کا لوگوں کے تئیں مہر و محبت بھرا برتائو،شفقت میں دُھلی ہوئی باتیں ،سوال و جواب میں پختگی اور برجستگی سے مہکے ہوئے الفاظ ،تصوف سے لبریز صوفیانہ انداز ِ گفتار ،لوگوں کے دِلوں سے کینہ اور بغُض کو نچوڑ کر اُسے دُھلے ہوئے کپڑے کی طرح صاف کردیتا تھا ۔جب آپ مریدوں کے درمیان ہوتے تو اکثر آپ پر روحانی کیفیت طاری ہوجاتی تھی اور چہرے پر روحانی چاند چمکنے لگتا تھا ۔آپ کے پاس حالات کے مارے ہوئے ایسے لوگ بھی روحانی علاج کے لئے آتے تھے جن کی روح اُجاڑ اور ویران ہوچکی ہوتی تھی ،ایسے لوگوں کے لئے آپ آخری سہارا ثابت ہوتے تھے۔حضرت موصوف روحانی قوت ،محبت اور مہربانی سے اُن کی ویران روح کو آباد کرتے اور اُجڑے ہوئے نفس کو نفسیاتی طریقے سے باغ باغ کرکے انہیں نئی زندگی عطا کرتے تھے۔زندگی کے آخری دنوں تک بھی آپ نے عصا کا سہارا نہیں لیا۔کیونکہ جو زندگی بھر دوسروں کو سہارا دیتا رہا اُسے اپنے لئے سہارا ڈھوندنے کی عادت ہی نہ تھی۔ہر رروز بلا ناغہ مریدوں سے ملاقات کی خاطر پھیرن پہنے،سفید گرم ٹوپی سَر پر رکھے ،چہرے پر خوشی اور اطمینان سجا ئے باوقار انداز میں ،دھیرے دھیرے،غلام گردش سے ہوتے ہوئے بنگلے کے سبزہ زار کی طرف بڑھتے ہوئے خوبصورت پھولوں اور قدرتی بیلوں کے درمیان آبیٹھتے ۔جہاں سے الڈورہ کی برفانی چوٹی اور شاڑی کی ڈھوک کا منظر دربار عالیہ کے روحانی ماحول میں فطرت کی گُلکاریاں بھی گھول دیتا تھا ،انہیں دیکھ کر مریدوں اور چاہنے والوں کے چہروں پر خوشی اور امید جھلکنےلگتی تھی۔پھر حضرت موصوف ایک ایک کرکے ہر ایک کی جھولیاں مرادوں سے بھر دیا کرتے تھے۔دربار عالیہ میں یہ اُن کا روز کا معمول ہوتا تھا ۔
حضرت بابا میاں بشیر احمد لاروی صاحب کی ولادت ۲۱؍ اکتوبر ۱۹۲۲عیسوی کو دربار لار شریف میں ہوئی تھی ۔روایت ہے کہ اُس وقت حضرت باباجی صاحب نے آپ کو گلد ستہ دے کر روحانی اقدار کو اپنے پوتے میں منتقل کردیا تھا ۔مشہور تاریخ دان محمد دین فوق تاریخ اقوام پونچھ میں لکھتے ہیں کہ ۱۹۲۲ تک تمام پہاڑی اور گجر بکروال قبائل دربار لار شریف سے وابستہ ہوچکے تھے ۔اُس زمانے میں میاں صاحب کا خاندان سردیوں کے موسم میںدربار موہڑہ پچھانی پونچھ میں قیام کرتا تھا ،یہاں ہی میاں بشیر احمد لاروی صاحب نے سکول میں داخلہ لیا اور آگے بڑھ کر ۔۔۔ لسانہ کے رئیس چوہدری غلام حسین صاحب کی بیٹی سے ہوئی۔اُدھر ۱۹۳۲میں پرڑی گجراںمیں پہلی گجر جٹ کانفرنس ہوئی تو میاں بشیر صاحب جب اپنے والد محترم حضرت میاں نظام الدین لاروی صاحب کے ساتھ موجود تھے ۔۱۶۳۷میں جب پونچھ میں گجر جٹ کانفرنس منعقد ہوئی تو سارا انتظام میاں بشیر صاحب کے سپرد تھا۔۱۹۳۹سے۱۹۴۶تک حفیظ جالندھری حضرت میاں نظام الدین کی دعوت پر وانگت آتے رہتے تھےتو میاں بشیر صاحب جالندھری صاحب کی صحبت میں رہا کرتے تھے۔۱۹۴۶ اور ۱۹۴۹ میں پنڈت جواہر لعل نہرو حضرت میاں نظام الدین لاروی صاحب کی دعوت پر سونہ مرگ آتے رہے اور وانگت بھی گئے تو اس دورے میں میاں بشیر احمد کا اہم رول رہا ۔۱۹۷۵ میں میاں صاحب کی کوششوں سے ریڈیوکشمیر سرینگر سے گوجری پروگرام شروع ہوا جبکہ ۱۹۶۷ میں چنائو لڑکے آپ ممبراسمبلی بن چکے تھے۔۱۹۷۱ میں آپ وزیر مملکت بنے۔پھر ۱۹۷۵ میں جب شیخ صاحب وزیر اعلیٰ بنے تو آپ نے نیشنل کانفرنس میں شمولیت اختیار کی اور شیخ صاحب کی حکومت میں وزیر بنے۔۱۹۷۵ میں آپ نے جموں میں گجر بکروال ہوسٹل کا سنگ بنیاد رکھا اور ۱۹۷۸ میں آپ کی کوششوں سے ریاستی کلچرل اکیڈیمی میں گوجری اور پہاڑی زبان کا شعبہ کھولا گیا، لیکن ۱۴؍جون ۱۹۸۰ کو میاں صاحب نے شیخ کابینہ سے اختلاف کی بنا پر استعفیٰ دے دیا ۔۱۹۸۳ میں میاں صاحب نے کانگریس کی ٹکٹ پر راجوری سے چنائو لڑا اور جیت حاصل کی،تو آپ نے اُسی دن اعلان کردیا کہ آیندہ وہ چنائو نہیں لڑیں گےاور اپنے آپ کو دین کے فروغ ،عوام کی بھلائی اور اپنے آپ کو روحانی جذبوں کے لئے وقف کردیں گے۔چنانچہ ۱۹۸۵ میں آپ حج بیت اللہ کے لئے روانہ ہوگئے پھر دربار عالیہ میںدینی اور روحانی کتابوں کی اشاعت میں لگ گئے،جو سلسلہ آج تک جاری ہے۔زندگی کے آخری دوڑ میں آپ مریدوں سے گھِرے رہتے تھے ،دُور د’ور سے لوگ آپ سے دعا کروانے کے لئے آتے تھے ۔آپ کے مریدوں کو حضرت موصوف پر اتنا اعتماد اور بھروسہ تھا کہ وہ آپ کی ایک جھلک دیکھ کر ہی تسکین حاصل کرلیا کرتے تھے،وہ جب تک زندہ رہے گجر بکروال قبائل اور پہاڑی لوگوں کے دِلوں میں دھڑکن کی مانند دھڑکتے رہے۔