ہارون ابن رشید
حسد دراصل دل و جان کی بیماری ہے۔ ایک حسد کرنے والا یا حسد کرنے والا شخص اکثر غیبت اور جھوٹ بولتا ہے تاکہ اس شخص کے خلاف زہر تھوک دے ،جس سے وہ حسد کر رہا ہے۔حسد رکھنے والےکو حاسد بھی کہا جاتا ہے جو خود کو تباہ کرنے کا ایک ناگزیر طریقہ ہے، جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث سے بھی ظاہر کیا جا سکتا ہے آپ ؐنے فرمایا: ’’حسد سے بچو، کیونکہ یہ نیکیوں کو تباہ کر دیتا ہے، جس طرح آگ لکڑی کو تباہ کر دیتی ہے۔‘‘ایک شخص دوسرے شخص سے حسد کرتا ہے کیونکہ وہ اس شخص پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو برداشت نہیں کرسکتا، خواہ وہ دولت، علم، شہرت یا معاشرے میں عزت کی صورت میں ہو۔ حسد دراصل دل و جان کی بیماری ہے۔ حسد کرنے والا یا حسد کرنے والا شخص اکثر غیبت اور جھوٹ بولتا ہے تاکہ اُس شخص کے ساتھ دوسرے لوگ بھی نفرت کرنے لگیں،جس سے وہ حسد کرتا ہے۔حسد ہر عمر کی ٹیموں اور جنسوں میں دیکھا جاتا ہے اور یہ مختلف اقسام کا ہوتا ہے جس میں عقلی حسد، خاندانی حسد، رومانوی حسد، طاقتوری حسد اور جنسی حسد بھی شامل ہیں۔ اسلام میں حسد قطعی طور پر ناقابل قبول اور حرام ہے۔ یہ صرف ایک گناہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک شخص کو بُرائی میں بدل سکتا ہے جیسا کہ شیطان کے ساتھ ہوا تھا جو کبھی اللہ تعالیٰ کے ممتاز فرشتوں میں سے تھا۔دنیا بھر کے مطالعے نے بتایا ہے کہ ’’مرد جذباتی بے وفائی سے زیادہ جنسی بے وفائی پر حسد کرتے ہیں اور خواتین اس کے برعکس ہیں، وہ جنسی دھوکہ دہی سے زیادہ جذباتی دھوکہ دہی سے زیادہ حسد کرتی ہیں۔‘‘ سائنسی طور پر یہ ثابت ہوا ہے کہ حسد نہ صرف روح کے لیے نقصان دہ ہےبلکہ دل اور صحت کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ڈاکٹر گونزالیز بیریوس کے مطابق حسد پیدا ہونے پر درج ذیل علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ جن میں پیٹ میں درد، سر درد، سینے میں درد، ہائی بلڈ پریشر، انتہائی بے چینی میں دھڑکن، بے خوابی، کمزوری، بھوک اور قوت مدافعت کا کمزور ہونا شامل ہیں۔
حسد کرنے والے لوگ اکثر اُن لوگوں کی تنقید کرتے ہیں، غلطی ڈھونڈتے ہیں، الزام تراشی کرتے ہیں یا بعض اوقات زبانی طور پر گالی بھی دیتے ہیں، جن سے وہ حسد کرتے ہیں۔ حسد ہمیشہ سے ہی قتل سمیت دیگرجرائم کا محرک رہا ہے۔ حسد کرنے کا کوئی طریقہ نہیں سوائے دو شرائط کے، جن کا ذکر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خوبصورت اور مناسب انداز میں فرمایا: دو صورتوں کے علاوہ کوئی حسد نہیں کیا جا سکتا: (اس شخص سے) جسے اللہ نے عقل عطا کی ہو۔ اور جو اس کے ذریعے حکومت کرتا ہے اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیتا ہے، اور (اس شخص کی طرف) جسے اللہ تعالیٰ نے مال و دولت کے ساتھ ساتھ حق کی راہ میں خرچ کرنے کی طاقت بھی دی ہو۔[بخاری ومسلم]حسد کا کوئی علاج نہیں، اللہ کے سوا کوئی ڈاکٹر حسد کا علاج نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ بھی آپ کو دیا ہے ،اس میں ہمیشہ اس کا شکر ادا کریں۔ ہمیشہ دوسرے لوگوں کے لیے خوش رہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں بھی اس طرح برداشت کرے، جس طرح اس نے دوسرے لوگوں کی حفاظت کی ہے جن سے ہم حسد کرتے ہیں۔ غیرت مند انسان کو زندگی میں کبھی کامیابی نہیں ملتی۔وہ اپنا مقصد حاصل نہیں کر سکتا۔ اگر آپ اپنے شریک عملے یا ساتھی سے حسد کر رہے ہیں تو مقابلہ کا ایک غیر صحت بخش عنصر ہے ،جسے ختم کر دیا جائے گا۔ ہمیشہ اپنے کام کے لیے وقف رہیں اور ساتھی کارکنوں کی طرف سے عدم تحفظ کے بغیر اپنے مقاصد کو پورا کرنے کی کوشش کریں کہ کوئی آپ کا حق حاصل کرے گا۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا: ’’کیا وہ دوسروں سے حسد کرتے ہیں اُس فضل پر، جو اللہ نے انہیں عطا کیا ہے؟‘‘ (القرآن 4:54)۔اللہ تعالیٰ ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور تمام بُرے کاموں سے دور رکھے۔
سانپوں کے مقدر میں وہ زہر کہاں
جو انسان عداوت میں اُگلتے ہیں
(مضمون نگار پی جی کے طالب علم ہیـں)