سید سرفراز احمد
موجودہ بھارت کیلئے کثرت میں وحدت کانعرہ کھوکھلا ہورہا ہے ملک کی اکثریت ہندوتوا کی ذہنی غلامی کا شکار ہوچکی ہے۔ بھارت کی یہ تاریخ رہی کہ جس مادر وطن کو فرنگیوں کی غلامی سے نجات دلوانے اور ملک میں امن چین و سکون قائم کرنے اور فرقہ پرستی سے صاف شفاف بنانے کیلئے ملک کی عظیم ہستیوں نے اپنی جانوں کو قربان کیا تھا ،جیلوں کی صعوبتیں جھلیں تھیں تاکہ آنے والی نسلیں فرقہ پرستی کا طوق اپنے گلے میں نہ پہنیں بلکہ ذہنی غلامی سے کوسوں کی دوری اختیار کریں اور انکی یہ چاہ تھی کہ ایک آزاد ملک میں ہر طبقہ مذہبی آزادی کے ساتھ چین کی سانسیں لے سکے لیکن موجودہ صورت حال میںیہ معاملہ بالکل برعکس ہوتا جارہا ہے۔ایسا لگ رہا ہے جیسے موجودہ حکمران فرنگی دور کی تاریخ کو دہرارہے ہوں کیونکہ فرنگیوں نے بھارت پر مسلط رہنے کیلئے ظلم وستم ،فرقہ پرستی ،نفرت ،عدم رواداری کی بنیاد ڈالی تھی جو آج ہمیں پھر نظر آرہی ہے۔ بلاشبہ کسی بھی ملک کا وہی حکمران کامیاب کہلاتا ہے جس کے دور میںملک کے عوام کو درپیش مسائل سے چھٹکارا حاصل ہوتا ہے۔
کہا جاتا ہے جب نفرتیں دلوں پر راج کرنے لگتی ہیں تو ظلم کی کیفیت انتہا کو پہنچ جاتی ہے ۔ ایک انسان، انسان نہیں بلکہ حیوان کے روپ میں رونما ہوتا ہے یہی جملہ یہاں پر صادق آتا ہے چونکہ حکمرانوں نے اپنا کام آسان کرنے کیلئے سماج کے اکثریتی طبقہ میں ہندوراشٹر کے قیام کےمختلف خواب سجائے اور سہانے گیت سنا سُناکر سماج میں نفرتوں کا شور مچایا ، پھر دنیا کی ہر انسانی آنکھ نے دیکھ لیاکہ کس طرح مذہب کی آڑ میں سماج کا ایک طبقہ دوسرے طبقہ پر آسانی کے ساتھ حیوانی روپ اختیار کرتے ہوئےمنظم طریقوں سے انتشار پھیلاتا رہااور ملک کی سب سے بڑی اقلیت پر ظلم و تشدد کا نشانہ بنایاجاتا رہا، قانون کا بھی جانبدار طریقے سے استعمال کیاجاتا رہا،تو کیا اسے ذہنی غلامی اور منافقت کا کھلا مظاہرہ قرار نہیںدیا جاسکتاہے ۔
اب رہا اہم سوال کہ آخر مہنگائی ،بےروزگاری اور غربت پر ظلم ،نفرت ،عدم رواداری کا غلبہ کیوں ہے؟یہ اسلئے کہ ہندوتوا ایجنڈے نے سماج کے اکثریتی طبقہ کےذہنوں میں بالخصوص نوجوان نسل میں مسلمانوں کے خلاف کوٹ کوٹ کر جو نفرتیں بھردی ہیںاُن سے وہ اچھے اوربُرے کا امتیاز بھی نہیں کرسکتےہیں۔ جسکی مثالیں دہلی فسادات،رام نومی تشدد کے دوران مساجد کی بے حرمتی،اور کسی مسلم کو گولی مار کر یا کسی کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کرنے کی شکل میں آچکی ہیں۔ یہاں ایک سوال اہم یہ ہےکہ تشدد اور ظلم کیوں ہوتا ہے؟ جسکا جواب واضح طور پر یوں دیا جاسکتا ہے کہ جب ملک میں بے روزگاری عام ہوجاتی ہے،غربت بڑھ جاتی ہے تو بلاجھجھک یوں کہا جاسکتا ہےکہ اس ملک میں بُرائی جنم لےرہی ہے۔یہ کہاوت بھی عام ہےکہ خالی دماغ شیطان کا گھر ہوتا ہے، بالکل ایسا ہی حال بے روزگار نوجوانوں کا ہے جو مذہبی جنونیت اور سیاسی پروپگنڈوں میں آکر آپے سے باہر ہوجاتے ہیں اور کچھ بھی کرنے سے پیچھے نہیں ہٹتے، تب ہی تو اُن پر نہ بے روزگاری کا،نہ بڑھتی مہنگائی کا، نہ ملک میں بڑھتی غریبی کا اثر پڑتا ہے ۔ ملک میں بے تحاشہ بڑھتی مہنگائی پر سیاسی گھمسان چل رہا ہے ۔ پٹرول ،ڈیزل ،خوردنی تیل اور رسوئی گیس کی مہنگائی پر بےتکان للکار لگانے والے سیاسی قائدین اب تھک چکے ہیں، عوام بدحالی کا شکار ہے، بس جینا ہے تو کھانا ہے بطورِ کوفت کی شکل میں نعرہ لگاکر زندگی کا گذارہ کررہے ہیں لیکن نہ حکومت پر ،نہ حکمرانوں پر کوئی جوں نہیں رینگ رہی ہےاور روزمرہ کی اشیائے ضروریہ پر5فیصد جی ایس ٹی لگاکر مہنگائی میں اضافہ کررہی ہے جبکہ عام سبزیوں میں بھی دن بہ دن بے تحاشہ اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔کیا حکومت عمومی اشیاء پر جی ایس ٹی لگاکر عوام کا خون نہیں چوس رہی ہے؟یا پھر حکومت کی طرف سے یہ تڑکہ سمجھاجائے یا زخموں پر نمک پاشی، کیونکہ کورونا کی صورتحال کے بعد سے عوام کی معیشت کمزور اور آمدنی گھٹتی جارہی ہے۔ بے روزگاری سے نوجوان نسل پریشان حال ہے، دوکروڑ نوکریوں کا دعویدار اور وعدہ کرنے والے آٹھ سال گذرنے جانے کے بعد بھی کچھ کرنہیں پائے ہیں۔ابھی لوک سبھا انتخابات کی تیاری کیلئےوزیر اعظم نے دس لاکھ نوکریوں کا نیا اعلان کر دیا ہے۔اب بھلا یہ دس لاکھ نوکریوں کاوعدہ کب اور کس طر ح وفا ہوگا، سمجھانے کی نہیں، بس سمجھنے کی ضرورت ہے۔
افریقہ کے نائجیریاء کی ورلڈ پاورٹی کلاک(worl poverty clock)جو ایک آن لائن ٹول ادارہ ہےجو عالمی اور علاقائی سطح پر غربت کے خلاف پیشرفت پر نظر رکھتا ہے اور تمام ممالک میں غربت کا حقیقی ڈیٹا فراہم کرتا ہے، جسکی رپورٹ کے مطابق ہندوستان نے غریبی میں افریقہ کے لگ بھگ 21 کروڑ آبادی والے ملک نائجیریاء کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ یہ بات ورلڈ پاورٹی کلاک (WPC) نے COVID-19 وبائی مرض کے دوران معاشی اثر کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی حالیہ تازہ جانکاری دیتے ہوئے بھارت کا موازانہ ایک چھوٹے سے ملک نائجیریاء سے کرتے ہوئے کہا کہ سال 2018 میں نائجیریاء کی جملہ آبادی کے 87ملین افراد سطح غربت کی زندگی گذارتے تھے جبکہ بھارت میں یہی تعداد 73 ملین تھی ،لیکن سال 2022 میں نائجیریا کی سطح غربت کی تعداد گھٹ کر 70ملین ہوگئی وہیں پر بھارت میں سطح غربت کی تعداد بڑھکر 83ملین ہوچکی ہے ۔اب آپ اور ہم اندازہ لگاسکتے ہیں کہ موجودہ دور حکومت میں بھارت کس جانب آگے بڑھ رہا ہے ۔افریقہ کا ایک چھوٹا ملک اپنی سطح غربت کو مٹارہا ہے اور ایک ہمارے ملک کے حکمران ملک کو پستی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ اب آبادی کو لیکر پرانا تنازعہ نئے روپ میں اٹھایا گیا ،عالمی یوم آبادی کے موقع پر یوگی جی نے مسلمانوں کو نشانے پر لیا ،دراصل آبادی تو بہانہ ہے اصل اپنی ناکامیوں کو چھپانا ہے کیونکہ چین نے ساری دنیا کو یہ پیغام دیا کہ کسی بھی ملک کی بڑھتی آبادی نہ ترقی میں رکاوٹ ہے نہ کبھی رکاوٹ بنے گی۔ اگرچہ کہ ترقی کے نئے نئے وسائل کو دریافت کئے جائیں، لیکن یہ سب ہمارے حکمرانوں کی گنجائش سے باہر ہے، جنھیں نہ ملک کی ترقی کی فکر ہے نہ بے روزگاری کو ختم کرنے کی، نہ ملک کو غریبی سے چھٹکارہ دلانے کی، انھیں فکر ہے تو صرف سیاسی مفادات کی تکمیل کی ۔ جو دعویٰ کررہے ہیں عالمی رہنماء(وشوگرو)بننے کی۔
ان سب کیلئے ملک میں ہر طبقہ کو شعوری طور پر بیدار ہونے کی ضرورت ہے، مہنگائی پر اپوزیشن جماعتوں کی للکار تو اٹھتی ہے جو سیاسی مفادات کی تکمیل کا ذریعہ بن سکتی ہے، جسکا حکمرانوں پر کوئی اثر نہیںپڑتا۔لہٰذا اس بڑھتی مہنگائی ،بےروزگاری ،غربت کے خاتمہ کےخلاف عام عوام کو اپنی آواز بلند کرنی چاہئے۔نفرت عدم رواداری کے زہریلے طوفان کو دل سے ختم کرکے قومی اتحاد کو فروغ دینا چاہئے، سیاستدانوں کے گمراہ کن پروپگنڈوں سے اجتناب کرنا چاہئے اور بغیر مذہب و ملت اور رنگ و نسل کے سب کو متحدہ طور پر موجودہ حکمرانوں کو ملک میں درپیش اصل مسائل کی طرف متوجہ کرانے پر کمر بستہ ہونا چاہئے،تاکہ ملک میں امن چین و سکون کو فروغ ملے اور ملک بھی سطح غربت سے نکل کر ترقی پر گامزن ہوسکے اور بےروزگاری کابھی خاتمہ ہو سکے۔
<[email protected]>