محمد شعیب رضا نظامی
ایک خوب صورت اور پروقار معاشرہ کی تعمیر وتشکیل کے لیے عدالتی نظام کا مضبوط، منظم اور مستحکم ہونا ضروری ہے۔ تاریخ کی ورق گردانی کریں تو اس بات کا بہ خوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ عدالتی نظام ہی بہت سارے ممالک کی عروج وزوال کا سبب بنا ہے، جن ملکوں کا عدالتی نظام درست اور مستحکم رہا ،اُن کے لئے ترقی کی راہیں ہم وار ہوتی رہیں اور جن ممالک کا عدالتی نظام ناتواں اور کمزور پڑگیا، اُن کی نہ صرف ترقی رُکی بلکہ وہ پستی کی غار میں گِر گئے۔آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی عدالتی نظام کا مستحکم ہونا ہی ایک حسین معاشرہ کی تشکیل کا دل نشیں خواب کو شرمندۂ تعبیر کرسکتا ہے، مگر اس برق رفتاری کے دور میں بھی مختلف ممالک کےعدالتی نظاموں کی سست رفتاری دیکھ کر بڑا افسوس ہوتا ہے کہ جہاں آج حکومتیں بدلنے میںذرا سا وقت نہیں لگتا، وہیں ایک چھوٹے سے مقدمہ کو ختم ہوتے اور اس پر فیصلہ آتے دسیوں سال لگ جاتے ہیںاور اگر معاملہ پیچیدہ ہو تو کئی پشتیں اس دنیا میں آکر شہرخموشاں کامسافرہوجاتی ہیں، تب کہیں جاکر فیصلہ آتا ہے۔اِس سُست رفتاری کے باعث بہت سارے خاندان کی پوری زندگی مقدموں کی سماعت میں گزر جاتی ہے، کئی ایک بے گناہ ملزم کا پورا کیریئر سلاخوں کے پیچھے ختم ہو جاتا ہے۔ مگر نظام ِمصطفی جسے خود کو ترقی یافتہ کہنے والے ممالک بہ نظر حقارت دیکھتے ہیں، اُس نظام میں عدالتی کارروائیوں میں سنجیدگی اور برق رفتاری کے ساتھ ساتھ انصاف کے پیمانے سے لبریز اور سٹیک فیصلے اُن کے لیے درس عبرت ہیں۔
اُس دور میں فیصلوں کے خلاف اپیل بہت کم ہوتی تھی، کیوں کہ فیصلہ اولیٰ ہی اتنا اَولیٰ اور بہترین ہوتا تھا کہ اس پر نظر ثانی کی ضرورت ہی نہیں پڑتی اور اگر کبھی فطرت انسانیہ کے باعث سہَوہوتا بھی تو وہاں موجود قضائیہ مجلسوں کے ممبران فورا ًاس کی درستگی فرماتے تھے۔لہٰذا فیصلوں کے خلاف اپیلیں بہت کم ہوتیں، جس کا یہ فائدہ ہوتا مظلوم کو اس کا حق اور ظالم کو اس کی سزا جلد سے جلد مل جاتی۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دورِ خلافت تو عدالت کا عظیم مظہر تھا، جس میں عدالتی نظام اس قدر انصاف پسند ہوتا تھا کہ مظلوم کو اس کا حق دلانے کے لیے اگر کسی اپنے پہ تلوار اٹھانی پڑتی تو شمشیر فاروقی فوراً بے نیام ہوجاتی، عدالت فاروقی کی ہیبت صرف انسانوں اور جناتوں پر ہی نہیں درندوں، پرندوں پر بھی طاری تھی کہ شیر اور بکریاں تلاش رزق میں ایک ساتھ نکلتی تھیں مگر شیر بکری پر کبھی حملہ نہیں کرتا۔ حضرت عمر فاروقؓ ایک بار بحیثیت مدعا علیہ زید بن جابر کی عدالت میں پیش ہوئے۔ قاضی نے عدالت میں کھڑے ہوکر ان کی تعظیم کی تو آپؓ نے انھیں ڈانٹا اور عام آدمی کی طرح مخالف فریق کے ساتھ بیٹھ گئے۔ آپ کی عدالت کا جو طرۂ امتیاز تھا وہ مجلس قضا میں اعلیٰ ترین مشیران کی ہمہ وقت موجودگی، اور آپ ہمیشہ ان سے مشورہ لے کر فیصلہ فرماتے ،اگر کبھی کوئی موجود نہ ہوتا اور آپ فیصلہ فرمادیتے تو نظر ثانی ضرور کرواتے اور اگر فیصلہ کسی رو سے قابل گرفت ہوتا تو فورا ًمعافی، تلافی کے ساتھ فیصلہ تبدیل فرماتے، جیسا کہ ایک بار آپ نے ایک پاگل عورت پر حد جاری کردی،آپ ؓکی عدالت کے مشیر اعلیٰ حضرت علیؓ کو معلوم ہوا تو انھوں نے فرمایا فا،تر العقل پر حد جاری نہیں ہوسکتی۔ تو آپؓ نے فوراً ہی اپنا حکم واپس لے لیا۔اسی طرح ایک بار ایک زانیہ عورت کو سنگ سار کرنے کی اجازت دی گئی، یہ عورت حاملہ تھی۔ حضرت علیؓ نے یہ کہہ کر سزا رُکوا دی کہ یہ عورت بچہ کی ولادت تک سزا کی مستوجب نہیں۔
صرف عدالت میں شہسواری ہی حضرت عمر ِ فاروقؓکا کارنامہ نہیں بلکہ آپ نے اپنے سنہری دور میں کئی تاریخ ساز شعبہ جات کی داغ بیل ڈالی۔ وفاقی سطح پر آپ ہر علاقہ میں محکمہ فوج اور پولیس کے دفاتر کا قیام عمل میں لائے اور فوج اور پولیس کے ملازمین کی باقاعدہ بھرتی کرنے کا طریقہ کار متعارف کروایا۔ محکمہ عدالت اور قاضیوں کا تقرر، ڈاک رسانی کا نظام، بیت المال کا قیام، محاصل کی وصولی سے متعلق اداروں کا قیام، جیل کا قیام، محکمہ زراعت و آب پاشی اور تعلیم کے محکمہ جات کو قائم و مستحکم کیا گیا اور ان میں مربوط نظام کا نفاذ کیا گیا۔ اس سے قبل یہ محکمے موجود نہ تھے۔ تمام محکوں کے افسران اور ملازموں کی تنخواہیں ان کے کام کے مطابق مقرر کیں۔نہری اور زرعی نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق ترتیب دیا گیا۔ ڈیم اور نہریں بنائی گئیں ۔شعبہ جات کے باقاعدہ حساب کتاب کے لیے آپ نے حضرت عثمان بن حنیف، حضرت حذیفہ بن یمان، حضرت عمار بن یاسر اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم کو مختلف شعبوں میں سربراہ متعین فرما کر ایک مضبوط وفاقی سیکرٹیریٹ کی تشکیل کی ،جسے قوانین کے نفاذکے لیے سخت ہدایات دیں۔ آپ ہی کے دور حکومت میںحضرت عثمان بن حنیف ؓ نے سب سے پہلے جریب کے ذریعے زمین کی پیمائش کی اور اجناس پر ٹیکس مقرر کیا۔ سن ہجری کا آغاز کیا گیا۔ باقاعدہ باجماعت نمازِ تراویح کی ابتدا کی گئی۔مسجد حرام اور مسجد نبویؐ کی توسیع کی گئی۔ جہاد کے لیے باقاعدہ گھوڑوں کی پرورش اور تربیت کا اہتمام کیا گیا۔
تاریخ عالم میں پہلی بار مردم شماری کی گئی۔ نئے شہروں اور صوبوں کا قیام عمل میں لایا گیا۔ حربی تاجروں کو تجارت کی اجازت مرحمت کی گئی۔فوجی چھائونیوں کا قیام اور ان کی تعمیر کروائی گئی اور فوجیوں کے لیے سالانہ چھٹیوں کا شیڈول مرتب کیا گیا۔ پرچہ نویسوں کا تقرر کیا گیا۔ مکہ اور مدینہ کے درمیان مسافروں کے آرام کے لیے سرائیں اور چوکیوں کا قیام کیا گیا۔ بچوں کے لیے وظائف کا اجرا کیا گیا۔مفلوک الحال مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کے لیے وظائف مقرر کیے گئے۔ مکاتب و مدارس کا قیام اور اساتذہ کی تنخواہیں مقرر کی گئیں۔ فتوحات کی وسعت سے اسلامی ریاست کے طول و عرض میں اضافہ ہو گیا تھا۔ مختلف اقوام حلقہ اسلام میں قدم رکھ رہی تھیں جس کی بدولت قیاس کا اصول رائج کیا گیا۔ فجر کی اذان میں الصلوٰۃ خیر من النوم کا اضافہ کیا گیا۔ تجارتی گھوڑوں پر زکوٰۃ کا اجراکیا گیا۔ آپ کے دورِ حکومت میں چارسو مساجد تعمیر کی گئی
ں۔ امام اور موذن کی تنخواہ مقرر کی۔ مساجد میں روشنی اور وعظ کا طریقہ جاری ہوا۔ عشر اور زکوٰۃ کے علاوہ عشور کی اصطلاح آپ ؓ نے متعارف کرائی۔
مندرجہ بالا مختصر بیان سے ہی آپؓ کی مذہبی، معاشرتی، عسکری، معاشی و اقتصادی، سیاسی، قومی اور بین الاقوامی اثرانگیز اور وسیع بصیرت کا علم ہو جاتا ہے۔ یہی وہ ہمہ جہت بصیرت ہے جوعالمِ ہست و بو دمیں آپ کا طرۂ امتیاز ہے۔ یہی وجہ تھی کہ اگرچہ آپؓ کی خلافت کم و بیش ساڑھے دس سال کی قلیل مدت تک قائم رہی، مگر اس دوران آپ نے ایسے کائناتی تدبر کا مظاہرہ کیا کہ سلاطینِ عالم کو حیران کر دیا۔ ہر طرف عدل و انصاف کا بول بالا ہو گیا، جہاں کہیں بھی اسلامی ریاست کا علم بلند ہوتا وہاں راست بازی، ایمان داری کا سکہ رائج ہو جاتا۔
یہ سب کچھ حقیقت کی اِس آغوش میں ہوا کہ مملکتِ اسلامیہ حیرت انگیز توسیع سے مشرف ہوئی۔
اس کے باوجود آپؓ نے نظامِ حکومت کو اس تدبّْر سے مربوط و مستحکم کیا کہ جہاں آپ نے اسلام کے خلاف ابھرنے والی فتنہ انگیزیوں اور سورشوں کا قلع قمع کیا، وہاں اسلامی ریاست کو بھی نا قابلِ تسخیر اس طرزِ ندرت سے بنایا کہ نئے اسلامی آفاقی نظام (New Islamic World Oder)کی بہررنگ تشکیل کر دی، حتیٰ کہ اسلامی سلطنت ایک مستحکم قوتِ عظمیٰ کے ساتھ صفحہ ہستی پر نمودار ہوئی، کیونکہ آپ کی حق آماج حکمت و بصیرت کا دائرہ صرف ایک سیاسی حکمتِ عملی تک محدود نہ تھا بلکہ معاشی، علاقائی، سماجی اور بین الاقوامی مذہبی و معاشرتی جہتوں کی تشکیلِ نو اور تکمیلِ ہموار تک پھیلا ہوا تھا۔
<[email protected]>