ڈاکٹر رفعت سلطانہ
انٹیگریٹیڈ پیسٹ مینجمنٹ(IPM) کی اصطلاح یہ ہے کہ یہ وہ وسیع رسائی ہے، جس کی مدد سے حشرات کی آبادی کو ممکنہ حد تک کم سے کم کیا جاسکتا ہے اور اس کا بنیادی مقصد حشرات کی تباہ کاریوں سے معیشت کو بچانا ہے، تا کہ معاشی بحران کو کم سے کم سطح تک لایا جا سکے۔ اس کے ذریعے حشرات کے مسائل کے ساتھ ساتھ انسانی حیات اورماحول کو درپیش خطرات سے بھی بآسانی نمٹا جاسکتا ہے۔
اس طریقہ کار کے ذریعے حشرات کی آبادی کو جنگلات، دیہات، زرعی اراضی پر کنٹرول بھی کیا جا سکتا ہے، یہ ایک متحرک متوازن اور مستحکم نظام پر مشتمل طریقۂ کار ہے جو کہ حشرات کو ہنگامی حالات میں بھی کنٹرول کرنا سکھاتا ہے۔ اس کی مدد سے حشرات کی انسداد کے لیے بھرپور پلاننگ کی جا سکتی ہے۔ آئی پی ایم ( IPM )کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ فیلڈ سے تمام اقسام کے حشرات/ کیڑوں کو تلف کر دیا جائے بلکہ اس کا بنیادی مقصد اُن نقصان دہ حشرات کو ختم کرنا ہے جو زراعت کے لئے مضر ہیں، تاہم یہ خاتمہ دوست حشرات کے ذریعے ممکن بنانا ہوتا ہے اور ان دوست حشرات سے روشنائی دراصل آئی پی ایم کا بنیادی ٹارگٹ ہے۔
اس کے بنیادی نکات میں درج ذیل چار نکات خاص خصوصیت کے حامل ہیں۔ (1) نقصان دہ حشرات کی شناخت (جو کہ ہمیشہ سے نظرانداز رہی ہے)۔ (2) نقصان دہ حشرات کی فیلڈ میں سرگرمی کی باقاعدہ نگرانی کرنا۔ (3) کارروائی کی حد کا تعین کرنا۔ (4) حشرات کو تلف کرنے کا مؤثر طریقہ کار متعارف کروانا۔ اس کے ساتھ ساتھ آئی پی ایم کی بنیادی ترجیحات میں غیرضروری حشرات کش اسپرے کو روکنا، فائدہ مند تکنیک کو روشناس کروانا اور فیلڈ میں دوست حشرات کی ترسیل کو روایتی طریقے سے متعارف کروانا بھی شامل ہے۔
یہ ایک حساس پروگرام ہے جو عام فہم طریقوں کے امتزاج پر انحصار کرتا ہے۔ آئی پی ایم کیڑوں کے لائف سائیکل اور ماحول کے ساتھ ان کے تعامل کے بارے میں جامع معلومات کا ضامن ہے۔ یہ معلومات دستیاب کیڑوں پر قابو پانے کے طریقوں کے ساتھ مل کر سب سے زیادہ اقتصادی ذرائع سے کیڑوں کے نقصان اور ماحول کو درپیش مسائل سے ممکنہ خطرے سے نکالنے میں کارآمد ہے۔ آئی پی ایم کیڑوں کے انتظام کے تمام مناسب آپشنز سے فائدہ اُٹھانا ہوتا ہے بشمول کیڑے مار ادویات کا درست استعمال۔ نامیاتی خوراک کی پیداوار کا اطلاق وغیرہ۔ اس کے رُجحان کو دراصل مؤثر فوقیت دینے کے لیے ہمیں سب سے پہلے اُن کسان دوست حشرات/ کیڑوں کی نشان دہی کی ضرورت ہے جو براہ راست اس سسٹم کو چلانے میں معاون و مددگار ہیں۔ فائدہ مند کیڑے وہ کیڑے ہیں جو فیلڈ میں نقصان دہ حشرات کو اپنی خوراک کا حصہ بنا کر ہماری زرعی اراضی کو ناقابل تلافی نقصان سے بچاتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمیں اُن حشرات کی کسی شناخت کا پتہ نہیں ہے۔
موجودہ دور میں بدقسمتی سے حشرات کش ادویات کے اسپرے نے جہاں نقصان دہ حشرات کو تلف کیا۔ وہاں یہ فائدہ مند مخلوق بھی لقمۂ اَجل بن گئی اور نہ چاہتے ہوئے بھی ایکوسسٹم میں وہ بربادی برپا ہوئی، جس کا تصوّر ہی محال ہے اور اس خلاء کو پُر کرنے میں کئی صدیوں کا عرصہ درکار ہے جو بظاہر ناممکن لگتا ہے۔ فائدہ مند حشرات کی کئی نسلیں اب تو تقریباً ناپید ہو چکی ہیں جو ارتقائی عمل میں کئی پیچیدہ پیدا کر چکا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں صرف باقیات کے DNA اور RNA کی معلومات کی بنیاد پر اُن کے وجود کی نشان دہی ہوئی اور پھر اُن کا مؤثر کردار جو کہ وہ ماضی میں ایکوسسٹم کو متوازن کرنے میں ادا کرتے تھے۔
اس سے شناسائی حاصل ہوئی، تاہم دوست حشرات کی بربادی نہ صرف اُن کے قدرتی مسکن کو تباہ کر گئی ہے بلکہ حیاتیاتی تنوع Biodiversity میں کئی انواع ناپید ہو چکی ہیں، جس سے یقیناً آئندہ آنے والی نسلوں کو ارتقائی عمل سمجھنے میں کئی دُشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ غور طلب پہلو یہ ہے کہ ہمارے ماحول میں اب بھی کئی قسم کے دوست حشرات پروان چڑھتے ہیں اگر مناسب نگرانی کے ساتھ ساتھ ان کی بروقت شناخت کوبروئے کار لایا جائے تو ہم دوبارہ سے نہ صرف حیاتیاتی تنوع کی خلاء پُر کرنے میں کامیاب ہوں گے بلکہ DNA تکنیک کو استعمال کرتے ہوئے اُن معدوم انواع کی کئی Duplicate کاپیاں بنانے میں بھی کامیاب ہو سکتے ہیں۔ ان کامیاب کاوشوں کی وجہ سے ہم آئی پی ایم کے فروغ کو مؤثر طریقے سے کامیاب بنا سکیں گے۔ ان دوست حشرات اور پرندوں کو مؤثر طریقے سے پہچان اور نگرانی کی اشد ضرورت ہے۔
دوست حشرات میں بگ، نیماٹوڈس، ایروگ، سبز سینگ، ملی بگ، سپرڈیفینیٹڈ مکھیاں، پرندے ، چمگادڑ، تتلیاں، ہائی مینویڑا پتنگے، چقندر، سیس ونگز، نہورو بیڑا، کولسیویڑا میں زمینی چقندر کاربیڈی، شہد کی مکھیاں، ڈریگن فلائیز، لیڈی بگ، مکڑیاں، مینیٹس، جگنو، جب کہ پرندوں کی درجہ بندی میں بلیو پرندے، کوئل، کبوتر، چڑیاں، طوطے، مینا عموماً Beetles چقندر، ٹڈیاں، لف ہاپر، Stink bugs کو اپنی خوراک کا حصہ بناتے ہیں۔ یہ تمام حشرات فصلوں کو ان گنت نقصان پہنچاتے ہیں۔
پرائینگ مینٹی سیس ایک ایسا دلکش حشرہ ہے جو کہ اپنی جسامت میں بڑی انفرادیت رکھتا ہے۔ پرائینگ مینٹی سیس کو ایک بہترین شکاری کہا جاتا ہے۔ یہ عموماً گربز افڈس، ٹڈی دل، مکھیوں، کرکٹ Grasshoppers، چقندر وغیرہ کی آبادی کو کنٹرول کرنے میں بہت مددگار ہے لیکن بدقسمتی سے حشرات کش ادویات نے ان کی بقا کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اس طرح (Lady Bugs) لیڈی بگ کا وجود اب ریاست ہائے متحدہ میں اب تقریباً ناپید ہوتا جارہا ہے یہ ہی وجہ ہے کہ مضر حشرات کی افزائش نسل میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے کیونکہ قدرتی طور پر اب ان کو کنٹرول کرنے والا نہیں ہے۔
ڈریگن فلائیز نہ صرف ایک خوبصورت دلکش حشرہ ہے بلکہ یہ ایک ایسی خلائی مخلوق ہے جو اُڑان بھرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ اُڑتے ہوئے یہ بڑا ہی دل کش منظر پیش کرتا ہے۔
اس کے علاوہ ڈریگن فلائیز، فروٹ فلائیز، گھریلو مکھیاں، سفید مکھیاں اور کئی قسم کے دوسرے کیڑے بھی اس خوراک کاحصہ ہیں اس طرح تتلیاں بھی ہمارے پودوں کی نشو و نما اور بقاء کے لیے بہت ضروری ہیں۔ یہ فروٹ سبزیوں اور پھلوں کو بیج پیدا کرنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔Pollinators ہونے کے ساتھ ساتھ یہ ایکوسسٹم کے توازن کو برقرار رکھنے میں بڑی معاون ہیں مثال کے طور پر یہ کئی پرندوں، چھوٹے ممالیہ اور دوسرے حشرات کے لیے خوراک کا ذریعہ ہیں۔
تتلیوں کی ماحولیاتی تبدیلیوں کو سمجھنے کےلیے ایک خودکار آلہ (Indicater) سمجھا جاتا ہے جہاں پر آب و ہوا آلودہ ہوگی وہاں آپ کو تتلیوں کی تعداد میں حیرت انگیز کمی ملے گی جوکہ اس بات کی واضح نشان دہی ہے کہ یہاں کا ماحول جاندار کے رہنے کےلیے مناسب نہیں ہے ۔ اس کمی کی بڑی وجوہات میں درجۂ حرارت میں بتدریج اضافہ، مضر اثرات کا ماحول میں رہ جانا، رہائش، جنگلات کی کٹائی اور بے تحاشا کیمیکل کا استعمال کے ساتھ ساتھ کئی علاقوں میں Urbanization وغیرہ شامل ہیں۔ دُنیا میں تقریباً 40 کے لگ بھگ Beetles کی فیملیز رہتی ہیں جو کسی شکاری فطرت کی حامل ہوتی ہیں۔
ان کا لاروا اور بالغ دونوں ہی کئی دوسرے مضر حشرات کو کھا جاتے ہیں جن میں خاص کر (Mites) افڈس، اسکیل حشرات، اور میلی بگ وغیرہ شامل ہیں۔یہ ہی وجہ ہے کہ ان نیما ٹوڈس خصوصاً Nigeriensis کو بائیولوجیکل ایجنٹ کے طور پر خصوصی اہمیت حاصل ہے اور دنیا کے کئی ممالک میں ان نیماٹوڈس کو کلچر کر کے فیلڈ میں استعمال کیا جاتا ہے، تاکہ بروقت ٹڈیوں کا خاتمہ کر کے اُن کی تولیدی صلاحیت کو روکا جا سکے یہ دیرپا عمل ضرور ہے لیکن یہ ماحول دوست اور مستقل نجات کا بہترین طریقہ کنٹرول ہے۔
Nematodes کے ساتھ ساتھ Mycorrhizalc Trichoderma اور Endophytic بھی ایسے ممبران ہیں جو کہ بایو لوجیکل سائیکل میں اہم حیثیت رکھتے ہیں۔ اُن کو بھی حشرات کو کنٹرول کرنے کیلئے مختلف ذریعوں سے استعمال کیا جا تا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان فائدہ مند دوست حشرات ،پرندے ، نیماٹوڈس وغیرہ کی حفاظت کس طرح کی جائے یا اُن کو تجارتی سطح پر کس طرح کلچر کر کے فیلڈ میں مضر حشرات کی روک تھام کے لیے استعمال کیا جائے؟ اس ضمن میں ضروری عمل تو یہ ہے کہ سب سے پہلے ان حشرات کی شناخت کو ممکن بنایا جائے، پھر ان کی بقاء اور ترسیل کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کی جائے مزید دوست حشرات کی نسل کشی کو ترک کیا جائے۔(جاری۔۔۔بقیہ اگلی سوموار کو ملاحظہ کریں)