محمد ہاشم القاسمی
ماہرین کے خیال میں بچوں میں موروثی خصوصیات کا 60 فیصد حصہ ممکنہ طور پر باپ سے منتقل ہوتا ہے۔ ایسی ہی شخصی خصوصیات کے بارے میں جانیں ،جن کے بارے میں زیادہ امکان یہی ہوتا ہے کہ وہ باپ سے بچے میں منتقل ہوتیں ہیں ۔ آپ نے ایسا جملہ ضرور سنا ہوگا کہ ’’یہ لڑکا اپنے باپ پر گیا ہے، باپ جیسا ہی لمبا ہے، اس کی ناک تو باپ کی ٹو کاپی ہے، وغیرہ وغیرہ ‘‘ اور بظاہر سائنس بھی اس کی حمایت کرتی ہے۔ دنیا کی ہر قوم میں باپ کا ادب و احترام اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کا عقلِ سلیم رکھنے والا ہر شخص قائل ہے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب و ملت سے ہو۔
قرآن وحدیث میں متعدد مقامات پر والدین کے ساتھ حُسن سلوک کا حکم دیا گیا ہے، ان تعلیمات کا خلاصہ کچھ یوں ہے۔ترجمہ: ہم نے بنی اسرائیل سے عہدلیا کہ سوائے اللہ کے کسی کی عبادت نہ کرنا، اور ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنا۔ (سورۃالبقرہ ۸۳)ذخیرہ احادیث میں والدین کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ پیش آنے کی تاکید کی گئی ہے اور نافرمانی کر نے پر سخت وعیدیں آئی ہیں ۔ حضرت ابن عباسؓسے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ’’حسن سلوک کرنے والی اولاد جب بھی محبت کی نظر سے والدین کو دیکھے تو ہر نظر کے بدلے اﷲ تعالیٰ مقبول حج کا ثواب لکھ دیتا ہے‘‘۔ صحابہ کرام ؓنے عرض کیا :یا رسول ﷲؐ ! اگر کوئی اپنے والدین کی زیارت دن میں سومرتبہ کرے تو ؟ حضوراکرم ؐ نے ارشاد فرمایا: ا ﷲ تعالیٰ بہت بڑا، نہایت ہی تقدس والا ہے‘‘۔(مشکوٰۃ شریف) والدین کے دیدارکی فضیلت کے متعلق حضورپاک صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’محبت بھری ایک نظر پر حج مقبول کا ثواب ہے‘‘ ۔
باپ کی خمیر محبت، شفقت، احساس، خلوص، ایثار، قربانی، عنایت، حوصلہ اور ہمت سے بنا جنت کا دروازہ اولاد کا بہترین سرمایہ ہوتا ہے۔پوری دنیا کے معاشرے میں ماں کے بعد باپ کا رشتہ سب سے زیادہ قابل تعظیم ہے۔ باپ ایسا چاہنے والا رشتہ ہے کہ اولاد کو خود سے آگے بڑھتا دیکھ کر ہمیشہ خوش و مسرور ہوتا ہے، جس کی دنیا میں کوئی نظیر نہیں، باپ کا ہی ایثار ہے کہ اپنی ضروریات کے باوجود بھی اکثر اولاد کی چاہتوں کو ترجیح دیتا ہے۔ باپ غریب ہو یا امیر، اپنی کل کائنات اولاد کے قدموں میں رکھ کر بھی مطمئن نہیں ہوتا، بلکہ اس کی مزید آسائشوں اور راحتوں کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے۔ کڑی دھوپ میں باپ اولاد کے لیے شجرِ سایہ دار کی حیثیت رکھتا ہے۔ کانٹوں کے جنگل میں باپ نرم بچھونے جیسا ہوتا ہے، جس کے ہونے سے کوئی کانٹا اولاد کو چبھ نہیں پاتا۔ باپ خود شمع کی طرح جلتا ہے، مگر اولاد کو تمام تر سہولتیں مہیا کرا کے خوش ہوتا ہے۔
باپ کی موجودگی میں اولاد بادشاہ ہوتی ہے، کیونکہ باپ ہی وہ ہستی ہے جو زمانے کی گرم’ سرد ہواؤں سے بچا کر رکھتی ہے ۔ باپ وہ چادر ہے جو سر پر تنی ہو تو دنیا میں ہر طرح کی بری نگاہوں سے محفوظ رکھتی ہے، اور اولاد زمانے کی صعوبتوں، اور پریشانیوں سے بےفکر ہوتی ہے۔
باپ ہمیشہ اولاد کو زمانے کا حال واحوال سے واقف کراتا ہے۔ آگے بڑھنے کی ہمت اور زمانے سے ٹکرانے کا حوصلہ دیتا ہے۔ جب بھی ہم کسی کامیاب مرد یا خاتون کو دیکھتے ہیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے اس کے باپ چٹان بن کر کھڑا ہوتاہے۔جس نےاس کو اپنے بھرپور اعتماد سے اس قابل بنایا ہےکہ وہ نہ صرف اپنے بلکہ اپنے ماںباپ اور خاندان کے خواب پورے کرتا/کرتی ہے اور سب کے لئے فخر کا باعث بن پاتا/پاتی ہے ۔
حضور اکرمؐ نے ارشاد فرمایا کہ باپ جنت کے دروازوں میں سے درمیانی دروازہ ہے ، پس اگر تم چاہو تو اس دروازے کو ضائع کردو یا اس کی حفاظت کرو۔ (ترمذی )
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ربِّ کریم کی رضا باپ کی رضا مندی میں ہے اور ربّ کریم کی ناراضی باپ کی ناراضی میں ہے۔ (ترمذی ، کتاب البر والصلۃ )
آپ ؐؐ نے ارشاد فرمایا کہ بیٹا (اپنے)باپ کا حق ادا نہیں کر سکتا ، یہاں تک کہ بیٹا اپنے باپ کو غلام پائے اور اسے خرید کر آزاد کر دے۔ (مسلم شریف ، کتاب العتق )
اس حدیثِ پاک میں باپ کے عظیم حق کو بیان کرنا مقصود ہے، یہ مُراد نہیں کہ اگر کوئی اپنے غلام باپ کو خرید کر اُسے آزاد کردے تو اس نے اپنے باپ کا حق ادا کردیا۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ بیٹا اپنے باپ کی کتنی ہی خدمت کرے مگر اس کا حق ادا نہیں کرسکتا۔
باپ ہمارے آباؤ اجداد کی بنیاد ہے۔ ماں خواہ کسی بھی ذات یا خاندان سے تعلق رکھتی ہو، اولاد کا نسب ہمیشہ باپ سے چلتا ہے۔ باپ ہی اولاد کی پہچان ہے، روزِ قیامت میدان حشر میں بھی انسان اپنے باپ کے نام ساتھ پکارا جائے گا۔
آج ہمارے ماڈرن معاشرے کا المیہ ہے کہ اولاد ذرا پڑھا لکھا ہو جائے تو والد کو جاہل، گنوار گردانتے ہوئے اس کا حق دینے سے انکار کردیتی ہے، دوست و احباب میں باپ کا تعارف کرواتے ہوئے شرمندگی محسوس ہوتی ہے، اس لئے کہ باپ پڑھا ہوا نہیں ہے۔اولاد اس وقت یہ بھول جاتی ہے کہ ہمیں پڑھانے والا بھی تو یہی جاہل، گنوار باپ ہی ہے۔ حالانکہ اس طرح اگر غور کیا جائے تو باپ کا احترام اور اعزاز بنتا ہے کہ خود اَن پڑھ ہونے کے باوجود اولاد کو شعور و آگہی سے روشناس کروایا اور اعلی تعلیم دلوائی۔
یہ باپ ہی ہے جو اولاد کو اعلیٰ معیاری زندگی دیتا ہے، مگر افسوس کہ اولاد باپ کو نظر انداز کر کے معیار زندگی کی بقا قائم رکھنے کی ناکام کوشش کرتی ہے۔
اولاد جوان ہو جائے تو باپ جو بولنا سکھاتا ہے، اسی پر زبان کی طاقت آزمائی جاتی ہے۔ لوگ دین سے یا اللہ والوں سے محبت کر لیتے ہیں۔ ان کے پاؤں دھو سکتے ہیں مگر اپنے باپ کے ساتھ باہر نکلنے کو شایانِ شان نہیں سمجھتے۔ اللہ والوں کی جتنی بھی خدمت کرلو کیا ضمانت ہے کہ ان کی دعا آپ کے حق میں قبول ہو جائے گی؟ جبکہ باپ کا اس قدر دل دکھایا ہو؟مگر یاد رکھنا چاہئے کہ باپ کی دعا کی قبولیت کی ضمانت ہے، والدین کی دعائیں اولاد کے حق میں براہِ راست عرش سے جا ٹکراتی ہے اور تقدیر سے جیت جاتی ہے ۔
باپ کا رشتہ بہت انمول ہوتا ہے۔ ماں باپ کی قدر ان سے پوچھئے جو والدین کے ایثار و محبت اور ان کی دست گیری سے محروم ہوگئے ہیں۔ وہ اولاد خوش نصیب ہیں، جن کے والدین حیات ہیں، یہ ان کے لئے سنہری موقع ہے کہ دنیا میں ہی ماں اور باپ دونوں کی خدمت کر کے جنت کا ٹکٹ خرید لیں۔
ماں کا رتبہ سب سے بڑا ہے، اس لئے کہ ماں کے قدموں تلے جنت ہے، مگر یہ بھی یاد رہے کہ باپ کو جنت کا دروازہ کہا گیا ہے۔ جنت میں داخلے کے لئے ضروری ہے کہ دروازے سے گزرا جائے۔ باپ کی خدمت، اطاعت و فرمانبرداری کریں گے تب ہی روزِ قیامت وسطی دروازے سے گزر کر جنت تک پہنچ سکیں گے۔
کتنی حیرت انگیز بات ہے کہ ایک باپ اپنے ناتواں کندھوں پر اپنی ساری اولادوں کا بوجھ خوشی خوشی اٹھا لیتا ہے، ان کی پرورش میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا، لیکن وہی باپ جب کمزور، ناتواں و ضعیف ہو جاتا ہے اور اولاد بڑا ہوکر جوان، طاقتور اور مالدار ہو جاتا ہے، تو وہی والدین اُن پر بوجھ بن جاتے ہیں اور ساری اولاد مل کر بھی اپنے بوڑھے ماں باپ کی دیکھ بھال نہیں کر سکتی۔
حضرت ابو اسید الساعدی ؓبیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ بنی سلمہ کا ایک شخص حاضر ہوا اور پوچھنے لگا کہ یارسول اللہ ؐ! والدین کی وفات کے بعد کوئی ایسی نیکی ہے جو میں ان کے لئے کرسکوں؟ آپ ؐ نے فرمایا ۔ ہاں کیوں نہیں ۔ تم ان کے لئے دعائیں کرو،ان کے لئے بخشش طلب کرو ، انہوں نے جو وعدے کسی سے کر رکھے تھے انہیں پورا کرو ۔ ان کے عزیز و اقارب سے اُسی طرح صلہ رحمی اور حُسن سلوک کرو ،جس طرح وہ اپنی زندگی میں ان کے ساتھ کیا کرتے تھے اور اُن کے دوستوں کے ساتھ عزت و اکرام کے ساتھ پیش آؤ۔(ابوداؤد کتاب الادب)
آج ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ ہم اولاد ہونے کے ناطے اپنی ذمہ داریوں سے منہ موڑ لیتے ہیں، تبھی اولڈ ایج ہاؤس کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ جہاں پر بوڑھے ماں باپ اپنی اولاد کو دیکھنے اور ملنے کے لئے ترستے رہتے ہیں، اس وقت جب انہیں عمر کے اس حصے میں اپنی اولاد کے وقت کی پیار کی ضرورت ہوتی ہے، اس وقت وہ ان کو تنہا چھوڑ کر اپنے خواب پورے کرنے نکل جاتے ہیںاور ان کو پلٹ کر پوچھنا بھی گوارا نہیں کرتے، جو والدین اپنی ساری جوانی ،سرمایہ ،اپنا سارا وقت بچوں کے لئے وقف کر دیتے ہیں ان کی اولادیں اس قدر خود غرض، مطلبی و لالچی اور لا پرواہ نکلتی ہیں۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پوری دنیا کے لوگوں کو اپنے ماں باپ کی خدمت اور ان کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین
(رابطہ ۔ 9933598528 )
[email protected]>