راجوری//راجوری میں تین سرکاری سکول مقفل پائے گئے جس پر13اساتذہ کے خلاف شروع کردی ہے ۔ذرائع کے مطابق ڈائٹ راجوری کی ایک ٹیم نے پرنسپل پردیپ شرما کی قیادت میں متعدد سکولوں کا معائنہ کیا جس دوران پرائمری سکول سلانی جو راجوری شہر سے معمولی دوری پر ہے ، میں تعینات تین اساتذہ ٹیچر انیتاشرما،منشاز بیگم اور رہبر تعلیم ٹیچر سمینہ اختر کو بغیر اجازت کے غیر حاضر پایاگیا۔ان اساتذہ کی تنخواہیں بند کرکے ان کے خلاف مزید کارروائی شروع کردی گئی ہے ۔وہیں ڈائٹ کی ایک دوسری ٹیم نے آمینہ چوہدری کی قیادت میں گورنمنٹ پرائمری سکول سرانو بروتہ زون بالجرالاں کا معائنہ کیا جس دوران تعینات دونوںاساتذہ کو غیر حاضر پایاگیا اور یہ بات بھی سامنے آئی کہ سکول کی چابیاں طلباء کے پاس رہتی ہیں جو سکول کو کھولتے اور بند کرتے ہیں ۔ان اساتذہ کی تنخواہیں بھی روکنے کا فیصلہ کرتے ہوئے تحقیقات شروع کردی گئی ہے ۔ مزید برآں سکول کا ریکارڈ بھی ضبط کرلیاگیاہے ۔وہیں دوسرکاری سکولوں کو مقفل پایاگیا۔ذرائع کے مطابق پرنسپل گورنمنٹ بوائز ہائراسکینڈری سکول دیری ریلیوٹ کی قیادت میں ایک ٹیم نے دوروز قبل گورنمنٹ مڈل سکول منگلناڑ کا دورہ کیا جس دوران یہ بات سامنے آئی کہ عملہ صبح نو بجے کے بعد سکول آنا شروع ہوتاہے ۔وہیں پرائمری سکول بانڈیاں اور پرائمری سکول ڈنسر گلی کو مکمل طور پر بند پایاگیاجن میں نہ ہی تو کوئی ٹیچر اور نہ ہی طلباء موجو دتھے ۔اس پر مڈل سکول منگلناڑ کے ا ساتذہ محمد شفیع ، محمد سیف ،نصرت بیگم اور شکیلہ بیگم ،پرائمری سکول ڈنسر گلی کی اساتذہ امتیاز بیگم اور خالدہ بیگم اور پرائمری سکول بانڈیاں کے اساتذہ محمد پرویز اور محمد امریز کے خلاف اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے رپورٹ ڈپٹی کمشنر راجوری دفتر پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔