پونچھ//محرم الحرام 1439ھ کا چاند نمودار ہوتے ہی پوری دنیا کی طرح پونچھ میں بھی عزادارن حسین ؑکی جانب سے فرش عزا بچھادی گئی ۔اس دوران عزادارن امام حسین علیہ السلام کی جانب سے امام بارگاہ عالیہ پونچھ میں علم مبارک لہرا یاگیا اور ماتم و نوحہ سے ابتدا کی گئی۔بعد میں مجلس منعقد ہوئی جہاں تلاوت قرآن کے بعد مقامی ثناخواں حضرات نے نعت و منقبت،سلام و نوحہ کے بعد بیرو نِ ریاست سے آئے عالم دین مولانا علی اصغر حیدری نے انجمن جعفریہ کی جانب سے دیئے کئے موضوع ’’ذکر کربلا میں فکر کربلا‘‘ پر اپنا خطاب کیا۔انہوںنے کہا کہ حسینیت کسی ایک خاص طبقے یا نسل تک محدود نہیں بلکہ کربلا ہر مذہب اور ہر طبقہ کے لئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ کربلا پورے عالم انسانیت کے لئے نمونہ عمل ہے ۔ انہوں نے کہاسب کچھ لٹا نے کے بعد جانوں کے جانے کے بعد اور گردنیں کٹانے کے بعد جو جینے کا حوصلہ دے اسے کربلا کہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کربلا ذہنوں کو زبان عطا کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس بات کو ثبوت امام حسین علیہ السلام کے سر نے نیزے پہ چڑھ کے تلاوت قرآن کر ناتھا۔انہوں نے کہا کہ حسینؑ کے قدم کربلا میں اللہ کی طرف تھے، جہاں قدم اللہ کی طرف بڑھتے ہیں وہ امتحان ہوتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ حسینؑ ایک ایسا اللہ والے تھے جو خود لٹ گئے لیکن دین ِ خدا کو لٹنے نہیں دیا۔مجلس عزا کے دوران کشمیری ذاکرین نے بھی اظہار عقیدت فرمایا اور دعا و سلام پر مجلس عزا اختتام پذیر ہوئی۔ضلع کے کئی دیگر مقامات پر بھی اسی طرح سے مجالس کا اہتمام کیاجارہاہے ۔