سمت بھارگو
راجوری//ضلع راجوری کی تحصیل منجاکوٹ میں واقع گھمبیر مغلاں علاقہ، جو دو ہزار کی ابتدائی دہائی میں ملی ٹینسی کا ایک بڑا مرکز سمجھا جاتا تھا، گزشتہ تقریباً ڈیڑھ دہائی سے امن اور معمول کی زندگی کی علامت بن چکا تھا تاہم حالیہ دنوں میں دھوری مہل کے گھنے جنگلات میں شروع ہونے والے تازہ انسدادِ دہشت گردی آپریشن کے بعد یہ علاقہ ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گیا ہے۔ سیکورٹی فورسز اور ملی ٹینٹوںکے درمیان جاری تصادم کو تقریباً دو ہفتے مکمل ہونے کو ہیں، جس کے باعث مقامی لوگوں میں بے چینی اور خوف کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔گھمبیرمغلاں راجوری ضلع کا ایک گنجان آبادی والا علاقہ ہے، جو اپنی قدرتی خوبصورتی، سرسبز پہاڑیوں اور پْرسکون ماحول کے لئے جانا جاتا ہے۔ ماضی میں یہ علاقہ ملی ٹینسی سے شدید متاثر رہا، جہاں سیکورٹی فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان اکثر جھڑپیں ہوتی رہتی تھیں۔ مقامی باشندوں کے مطابق دو ہزار کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں لوگوں نے بدامنی، خوف اور غیر یقینی صورتحال کے سخت دن دیکھے، تاہم بعد کے برسوں میں حالات بہتر ہوئے اور علاقے میں امن و سکون بحال ہوا۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حالیہ آپریشن نے ایک بار پھر ماضی کی تلخ یادیں تازہ کر دی ہیں۔ جنگلاتی علاقوں میں جاری سیکورٹی کارروائیوں کی وجہ سے عام لوگوں کی نقل و حرکت متاثر ہوئی ہے جبکہ علاقے میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔ مقامی باشندے امید ظاہر کر رہے ہیں کہ جلد ہی حالات معمول پر آ جائیں گے اور خطے میں مکمل امن بحال ہوگا۔اگرچہ گھمبیرمغلاں اپنی قدرتی خوبصورتی اور اسٹریٹجک اہمیت کے باعث خاص مقام رکھتا ہے، لیکن یہاں بنیادی سہولیات کی کمی اب بھی ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ خاص طور پر سڑک رابطہ نظام انتہائی خراب حالت میں ہے۔ جموں، راجوری اور پونچھ قومی شاہراہ سے گھمبیرمغلاں کو جوڑنے والی مرکزی سڑک خستہ حالی کا شکار ہے، جس کی وجہ سے مقامی لوگوں، طلبہ اور مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بارش کے موسم میں یہ مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں۔علاقہ اپنے خوشگوار موسم اور خوبصورت قدرتی مناظر کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔ شدید گرمی کے موسم میں بھی یہاں کا درجہ حرارت نسبتاً کم رہتا ہے، جس کے باعث یہ علاقہ ایک پْرسکون پہاڑی خطے کی حیثیت رکھتا ہے۔ گھمبیر مغلاں کے ہٹّن سیری گاؤں کو خاص طور پر اس کی قدرتی خوبصورتی اور سردیوں میں ہونے والی بھاری برفباری کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہاں بیشتر مکانات روایتی مخروطی ٹین کی چھتوں کے ساتھ تعمیر کیے گئے ہیں تاکہ برف آسانی سے نیچے سرک سکے۔زرعی اور باغبانی کے میدان میں بھی گھمبیرمغلاں اہم مقام رکھتا ہے۔ یہاں اخروٹ، خوبانی، آڑو اور آلوبخارہ کے باغات بڑی تعداد میں موجود ہیں، جو مقامی معیشت اور لوگوں کی روزی روٹی کا اہم ذریعہ ہیں۔ مقامی کسانوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت بہتر سڑک اور مارکیٹنگ سہولیات فراہم کرے تو باغبانی کے شعبے کو مزید فروغ دیا جا سکتا ہے۔ادھر جمعہ کے روز جاری انسدادِ دہشت گردی آپریشن مسلسل چودھویں دن میں داخل ہو گیا۔ مقامی لوگوں کے مطابق دن بھر جنگلاتی علاقوں سے شدید فائرنگ اور بڑے دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ دھماکے اتنے شدید تھے کہ دور دراز علاقوں تک ان کی آواز سنی گئی جبکہ چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ کا سلسلہ بھی وقفے وقفے سے جاری رہا۔ صورتحال کے پیش نظر سیکورٹی فورسز پورے علاقے میں سرچ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ عوام حالات معمول پر آنے کا انتظار کر رہے ہیں۔