جموں//مسئلہ کشمیر کو سیاسی تنازعہ قرار دیتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے سنیئر لیڈر علی محمد ساگر نے حکمران جماعت پی ڈی پی کی اس بات کو حیران کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ’’ ؔؔسرفیسی‘‘ سے دفعہ370مضبوط ہوگا۔انہوں نے پنچایتوں کو جمہوریت کا ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ فریقین کو اعتماد میں نہیں لیا جا رہا ہے۔ اسمبلی میں ساگر نے کہا کہ انکی جماعت ریاستی کی واحد اور انفرادی حیثیت پر کسی بھی طور پر سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اہم مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے35A کو عدالت میں پہنچایا گیا۔ساگر نے کہا’’ایک غیر سرکاری تنظیم،جو کہ بی جے پی کی حمایت یافتہ ہے،نے35Aکا معاملہ عدالت میں پہنچایا،جس کا مقصد اہم مسائل سے توجہ ہٹانا تھا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ایوان اسمبلی نے ہی اٹانومی اسی لئے منظور کی تھی،تاکہ جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت مزید مستحکم ہو،تاہم انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ ایک نہ ایک دن حکومت ہند اس کو ضرور زیر غور لائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی کا اپنا ایجنڈا ہے اور عوام کو دفعہ370 کمزور کرنے کے خدشات ہیں۔پنچایتی انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے ممبر اسمبلی خانیار نے کہا کہ پنچایتیں جمہوریت کی پہلی سیڑھی ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پنچایتیں آزاد ادارہ ہیں،اور اس کی آزادانہ حیثیت کو برقرر رکھا جانا چاہیے۔ساگر نے کہا کہ انکی حکومت نے عمر عبداللہ کی سرکار میں جموں وکشمیر میں38برسوں کے بعد پنچایتی انتخابات کرائے،اور اس وقت تمام سیاسی جماعتوں اور دیگر لوگوں کو اعتماد میں لیا،تاہم انہوں نے کہا کہ اب کی بار حکومت اس طرح کی مشق نہیں کر رہی ہے۔ساگر نے مشورہ دیا کہ ان انتخابات پر سیاست نہ کی جائے۔