جموں// محکمہ صحت سے تعلق رکھنے والی آ شا ورکرو ں نے آشا ورکرز یونین جموں کے پرچم تلے خدمات کی مستقلی اوردیگرمانگوں کولے کرتیسرے روزبھی پریس کلب جموں کے باہر زور دار احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں خطہ جموں کے مختلف اضلاع کے بھاری تعداد میں آشا اور دیگر سکیموں کے ورکروں بشمول آشا ، آنگن واڑی اور مڈڈے میل ورکروں نے حصہ لیااور انہیں بطور ورکر تسلیم کرنے سے متعلق آئی ایل سی کی45ویں سفارشات کو عملی جامہ پہنانے، ماہانہ کم سے کم تنخواہ 18000روپے کرنے، آئی سی ڈی ایس ، این ایچ ایم،ایم ڈی ایم ایس اور ایس ایس جیسی سکیموں کی طرح نجی سکیٹر میں نہ دینے، مرکزی اور ریاستی سکیموں کے لئے مناسب بجٹ رقومات مختص رکھنے، پنشن اور سماجی تحفظ فراہم کرنے اور ایس آر او 308کے تحت سی پی ڈبلیو ورکروں کو مستقل بنانا شامل ہے۔اس موقعہ پر اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ملازمین تنظیموں کے لیڈران نے کہاکہ مختلف مرکزی سکیموں کے تحت قریباََ ایک کروڑ ورکر جن میں زیادہ تر خواتین ہیں ، کام کرتے ہیں اور ملک کی ایک بڑی آبادی کو خوراک ، مقوی غذا ، صحت اور تعلیم کی خدمات فراہم کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آزادی کے 70سال گذر جانے کے باوجود بھی ہمارے ملک کی آبادی کا ایک بڑا حصہ ان بنیادی سہولیات سے محروم ہے اور ہم نے کافی جدوجہد کے بعد ان سکیموں کے ذریعہ عوام کو یہ سہولیات فراہم کرنے میں کافی حد تک پیش رفت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ مودی سرکار جو کہ سال 2014میں اقتدار میں آئی ، نے بجٹ رقومات میں کمی کرکے ان سکیموں کو بند کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے ریگولرئزسکیموں کے ورکروں کی ماہانہ اجرت 18000روپے کرنیکی مانگ کی انہوں نے کہا کہ یہ ہڑتال ہماری طاقت کا کھلا ثبوت ہے اس لئے حکومت کو چاہئے کہ بغیر کسی تاخیر کے ہمارے سبھی مطالبات کو پورا کرے۔اس دوران مظاہرین سے خطاب کرنے والوں میں شام پرسادکیسر، اوم پرکاش، انیتاراجپوت نائب صدرآشایونین، وینا، انیتا ، گیتارانی، بملاکانتا، رابیہ، درشناوغیرہ شامل ہیں۔