جموں// جنگلات و ماحولیات کے وزیر چودھری لال سنگھ نے کل ایوان کو مطلع کیا کہ گذشتہ ایک برس کے دوران محکمہ جنگلات نے1.35 لاکھ کنال جنگلاتی اراضی کو ناجائیز قبضہ سے واپس حاصل کیا۔اس کے علاوہ خستہ حال جنگلات کو دوبارہ ہر ا بھرا کرنے کے سلسلے میں2 کروڑ پودوں کی شجرکاری کی گئی اور جنگلاتی علاقوں میں انسانی مداخلت کو کم کیا گیا۔جنگلات و ماحولیات اور اس سے منسلک دیگر محکموں کے مطالبات زر پر جاری کو سمیٹتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ ریاست بھر میں نئی نرسریاں قائم کرنا جموں وکشمیر کے ماحولیات کا توازن برقرار رکھنے کے لئے لازمی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہائی ٹیک نرسریاں اور موجودہ نرسریوں کا درجہ بڑھانے کے سلسلے میں سالانہ15 کروڑ پودوں کی شجرکاری کا نشانہ مقرر کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایف آر آئی نے پانچ ماڈل نرسریاں قائم کی ہیں ، ہر نرسری میں پچاس لاکھ پودے پیدا کرنے کی گنجائش موجود ہے۔وزیر نے کہا کہ ریاست بھر میں پچھلے سال2 کروڑ پودے لگانے جن میں30 فیصد میوے والے پودے شامل ہیں، کی شجرکاری محکمہ کے افسروں اور مقامی لوگوں کے تعاون سے ممکن ہوئی ہے۔ لال سنگھ نے کہا کہ محکمہ نے جموں صوبہ میں چنار جیسے پیڑ کو اُگانے کا سلسلہ شروع کیا ہے اور سٹیٹ فارسٹ ریسرچ انسٹی چیوٹ جموں نے تقریباً40 ہزار چنار کے پودے میں لگائے ہیں۔لال سنگھ نے کہا کہ ریاست کے900000 ہیکٹر خستہ حال جنگلات کی بحالی کے لئے10 ہزار کروڑ روپے کی ضرورت ہے اور موجودہ فنڈنگ کے حساب سے ان جنگلات کو بحالی میں350 برس لگیں گے۔ سوشل فارسٹری محکمہ کے تحت لکھن پور سے قاضی گنڈ تک قومی شاہراہ پر 2.50 لاکھ سجاوٹی پودے لگائے گئے جس کی تمام لوگوں نے ستائش کی۔عمارتی لکڑی کی تقسیم کاری کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر نے کہا کہ محکمہ نے جنگلات کے نزدیک رہنے والے کنبوں میں556184 سی ایف ٹی عمارتی لکڑی تقسیم کی۔جنگلات میں آگ کی واقعات کو روکنے اور جنگلات کو نقصان سے بچانے کے سلسلے میں محکمہ نے جدید فائیر فائٹنگ آلات، فائیر پروف یونیفارم فیلڈ سٹاف کو فراہم کئے ہیں۔وائلڈ لائف پروٹیکشن محکمہ کی حصولیابی کا ذکر کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ6 دہائیوں کے بعد داچھی گام نیشنل پارک میں قائم شیپ بریڈنگ فارم کو نیشنل پارک کے2 ہزار کنال اراضی میں منتقل کیا گیا ہے۔بحال کیاگیا علاقہ ہانگل کے ایک بنیادی مسکن کے طور پر استعمال میںلایا جائے گاجہاں ایک لاکھ میوے پودے اور دیگر جنگلی بوٹے لگائے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ وہاں موجودہ شیپ فارم ہانگل کی نسلی افزائش ایک بڑی رکاوٹ تھی۔انہوں نے کہا کہ محکمہ ترال علاقے کو ہانگل کو تحفظ دینے کے لئے ایک جنگلی پناہ گاہ کے طور پر استعمال میں لانے پر غور کر رہی ہے اور وہاں قدرتی وسائل کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑا جائے گا۔ وزیر نے کہا کہ جسروٹہ وائیلڈلائف پناہ گاہ کو بھی بڑھاواد یا جارہا ہے ۔ اس کے علاوہ ماحولیاتی سیاحت کے اعتبار سے سیاحتی مقامات کو ترقی دینے کے ساتھ ساتھ تواریخی آبی ذخائر کو بھی بحال کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ قومی پارکوں ، وائلڈ لائف پناہ گاہوں اور دیگر مقامات کی حد بندی کا معاملہ مال محکمہ اور دیگر ایجنسیوں کے ساتھ اُٹھایا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں جمبو چڑیا گھر کو 121کروڑورپے جبکہ پہلگام چڑیا گھر کو 100کروڑ روپے کی لاگت سے بڑھاواد یا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ گھرانہ ویٹ لینڈ ریزرو میں 401کنال اراضی کی نشاندہی کی گئی ہے اور اس کی بحالی کے لئے اس کی حد بندی کا معاملہ مال محکمہ کے ساتھ اُٹھایا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پچھلے برسوں کے مقابلے میں انسانوں اور جنگلی جانوروں کے تصادم کے واقعات میں کمی واقع ہوئی ہے اور اس طرح کے صورت حالوں سے نمٹنے کے لئے 41کنٹرول روم قائم کئے گئے ہیں۔وزیرنے مزید کہا کہ جھیل ولر 98فیصد حد بندی کا کام مکمل کیا جاچکا ہے ۔انہوں نے کہا کہ دوسرے مرحلے کے تحت جھیل کے پانچ کلومیٹر علاقے کی ڈریجنگ کے لئے 424.64 کروڑ روپے کا منصوبہ پیش کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ لداخ میں بلیک نیکڈ کرین اور سنو لیپاڈ جیسے جانوروں کی ہیبٹیٹ نظامت کے لئے کئی اقدامات شروع کئے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں پونچھ ، کشتواڑ ، کٹھوعہ اور لیہہ میں بچائو مراکز قائم کئے جائیں گے۔لال سنگھ نے مزید کہا کہ ریاست میں آلودگی پر قابوپانے کے لئے پولیوشن کنٹرول بورڈ موثر اقدامات شروع کئے ہیں۔انہوںنے کہا کہ سوئیل اینڈ واٹر کنزرویشن محکمہ نے بھی اپنے شعبے میں کئی تحفظاتی اور بحالیاتی اقدامات کئے ہیں جن کے خاطر خواہ نتائج سامنے آرہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ محکمہ میں عملے کی کمی کودور کرنے کے لئے 423بے روزگار فارسٹ گریجویٹوں اور پوسٹ گریجویٹوں کو رہبر جنگلات کے طورپر باقاعدہ بنایا گیا ہے۔انہوںنے کہا کہ 556ملازمین کی ڈی پی سی کے ذریعے ترقی بھی عمل میں لائی گئی ہے بعدمیں ایوان نے جنگلات و ماحولیات محکموں کے لئے 79909.69لاکھ روپے کے مطالباتِ زر منظور کئے ۔