جموں//مختلف سکھ تنظیموں پرمشتمل سکھ انٹلیکچول سرکل نے جموں بارایسوسی ایشن کی مجوزہ جموں بند کی کال کوفرقہ وارانہ بنیادوں پرقراردیتے ہوئے اس کی مخالفت کی ہے۔یہاں جاری پریس ریلیزکے مطابق مختلف سکھ تنظیموں کی مشترکہ تنظیم سکھ انٹلیکچول سرکل کاایک اجلاس منعقدہواجس کی صدارت ایس نریندرسنگھ خالصہ نے کی۔اس دوران سکھ تنظیموں کے نمائندوں نے کہاکہ جموں وکشمیرکاہرشہری ریاست میں غیرپشتنی باشندوں اورجعلی پشتنی سرٹیفکیٹ رکھنے والوں کی جموں وکشمیرمیں آبادکاری کے خلاف ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہم جانناچاہتے ہیں کہ جموں بندکی کال دینے والوں ،مخصوص طبقے یعنی سکھوں کے قتل عام پرکبھی آوازبلندنہیں کی۔ انہوں نے کہاکہ دلتوں ،عام شہریوں کی ہلاکتوں ،آصفہ عصمت دری وقتل معاملے میں انصاف کےلئے خاموش رہنے والوں کی ذہنیت فرقہ پرست ہے اورکھلے طورپروہ فرقہ پرستوں کی حمایت کررہے ہیں۔ ایس نریندرسنگھ خالصہ نے بارایسوسی ایشن جموں سے اپیل کی ہے کہ وہ پورے سماج کوساتھ لے کرچلے اورتمام غیرریاستی باشندوں کوباہربھیجنے کےلئے مہم چلائیں نہ کہ مخصوص طبقے کے خلاف ہڑتال کی جائے۔انہوں نے کہاکہ ہم تبھی حمایت کرسکتے ہیں جب تمام غیرریاستیوں کوریاست بدرکرنے کےلئے احتجاج کریں گے۔ورنہ ہم جموں کے امن پسندلوگوں بالخصوص بہوجن سماج سے اپیل کریں گے کہ وہ فرقہ پرستی کی بنیادمخصوص طبقے کے خلاف ہڑتال کال کی مخالفت کریں۔اس دوران میٹنگ میں ایس نریندرسنگھ خالصہ، ایس امن دیپ سنگھ ، ایس رنجیت سنگھ ،ایس منموہن سنگھ ،ایس منجیت سنگھ ،ایس دویندرسنگھ،ایس سریندرسنگھ اوردلجیت سنگھ ودیگران نے جموں وکشمیرکی سول سوسائٹی پرزوردیاہے کہ وہ ہندوستان اورپاکستان پربامعنی بات چیت کےلئے دباﺅڈالیںاورمسئلہ کشمیرکاقابل قبول حل نکالاجائے۔