جموں//ہندو ایکتا منچ کی طرف سے کٹھوعہ کے رسانہ میں 8سالہ معصوم خانہ بدوش بچی کے اغواء، عصمت ریزی اور قتل معاملے ملزمان کے حق میں شروع کی گئی سلسلہ وار بھوک ہڑتال گزشتہ روز ختم کر دی گئی۔ یہ ہڑتال 58دن قبل شروع کی گئی تھی، منچ کا کہنا ہے کہ انہوں نے معاملہ کی تحقیقات سی بی آئی کے سپرد کئے جانے کی لڑائی اب سپریم کورٹ میں لڑنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لئے عدالت عظمیٰ میں ایک رٹ دائر کی گئی ہے ۔ 31مارچ کو علاقہ کی خواتین نے معاملہ کی سی بی آئی انکوائری کروانے کی مانگ پر زور ڈالنے کے لئے مرن برت شروع کیا تھا ۔ ہندو ایکتا منچ کے جنرل سیکرٹری کانت کمار نے میڈیا کو بتایا کہ یہ ہڑتال متاثرہ بچی اور ملزمان کو انصاف دلانے کے لئے شروع کی گئی تھی۔ ’ہم نے اپنی اس مانگ کے لئے پر امن طریقہ اپنایا تھا لیکن حکومت نے کوئی مثبت جواب نہیں دیا اب معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے ، سی بی آئی انکوائری کیلئے بھی عرضی عدالت میں دی گئی ہے ، ہمیں عدالتی نظام پر پورا بھروسہ ہے ۔‘اس معاملہ میں8افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ان سب کا تعلق رسانہ گائوں کے گرد و نواح سے ہے، خواتین کی طرف سے کی گئی اس سلسلہ وار بھوک ہڑتال میں بھی ملزمان کے قرابت داروں کی خواتین حصہ لیتی رہیں جن میں کلیدی ملزم سانجھی رام کے اہل خانہ سر فہرست رہے ہیں۔ اب جب کہ معاملہ پٹھانکوٹ منتقل کیا جا چکا ہے اور اس کی باضابطہ سماعت کا آغاز 31مئی سے ہونے جا رہا ہے ، خواتین کی طرف سے مرن برت ختم کر دیا گیا ہے ۔