جموں//بھیڑ اور دیگر جانور پالنے والوں کی سماجی اور اقتصادی حالت کو مزید بہتر بنانے اور لائیو سٹاک کے سیکٹر میں تحقیق کے عمل کو فروغ دینے کے لئے حکومت نے اپنی نوعیت کی پہلی لائیو سٹاک بریڈنگ پالیسی کو منظوری دی ہے۔پرنسپل سیکرٹری بھیڑ و پشو پالن ڈاکٹر اصغر حسن سامون کی موجودگی میں ایک کمیٹی نے اس پالیسی کو حتمی شکل دی۔سکاسٹ جموں کے ڈائریکٹر ایکسٹنشن اس کمیٹی کے چیئرمین جبکہ ڈائریکٹر شیپ ہسبنڈری کشمیر/ جموں، ڈائریکٹر انیمل ہسبنڈری جموں/ کشمیر، سکاسٹ جموں کے انیمل بریڈنگ شعبۂ کے سربراہ، ڈین فیکلٹی آف ویٹرنری سائنسز، ڈائریکٹر ایکسٹنشن سکاسٹ جموں، سی ای او لائیو سٹاک ڈیولپمنٹ بورڈ کشمیر/جموں کمیٹی کے ممبران ہیں۔اس موقعہ پر ڈاکٹر سامون نے کہا کہ پالیسی کو مویشیوں کی تعداد اور پیداوار و پیداواریت میں اضافہ کرنے کے مقصد سے متعارف کیا گیا ہے۔بھینس کی بریڈنگ پالیسی کے تعلق سے مذکورہ پالیسی میں مقامی بھینس کی تعداد میں اضافہ کے لئے سائنسی طریقہ کار اختیارکرنے کی بات کہی گئی ہے۔پالیسی کے ذریعے سے جموں کے میدانی اور بالائی علاقوں میں میویشیوں کی ایگزاٹک نسلوں میں تناسب برقرار رکھنے کے حوالے سے اعداد و شمار بھی جاری کئے گئے ہیں تا کہ پشو پالن شعبۂ کو معیار کی اعلیٰ بلندیوں تک پہنچایا جاسکے۔اس موقعہ پر بتایا گیا کہ بھیٹروں کے معیار میں بہتری لانے کے لئے نئی پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے تا کہ گوشت کی پیداوار کے ساتھ ساتھ اُون کی پیداوار میں بھی اضافہ کیا جاسکے۔اس موقعہ پر مزید بتایا گیا کہ اس وقت ریاست میں نیشنل کمیشن برائے زراعت کی طرف سے1976 میں سفارش کردہ شیپ بریڈنگ پالیسی جاری ہے تا ہم اب نئی پالیسی کو اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔اس میں مزید کہا گیا ہے کہ عالم گیریت کی وجہ سے بین الاقوامی بازاروں سے معیاری اُون کم نرخوں پر دستیاب ہے اور یہاں کی اُون کو زیادہ فائدہ بخش تصور نہیں کیا جاتا ہے لیکن ریاست میں سالانہ گوشت کی مانگ میں اضافہ ہورہا ہے اور ہر سال ریاست کو باہر سے15 لاکھ بھیڑ درآمد کرنے پڑتے ہیں۔پالیسی میں مزید کہا گیا ہے کہ کشمیر میرینو کو مکمل طور سے ڈاکیو منٹ کیا جائے گا اور اسے الگ طور ایک بریڈ کے طور پر رجسٹر کیا جائے گا۔اسی طرح لیہہ ضلع کے لئے چنگلک اور مُلک بھیڑ کی نسل میں بہتری لانے کی پالیسی میں وکالت کی گئی ہے اور اس مقصد کے لئے لازمی اقدامات کئے جانے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔پالیسی میں کہا گیا ہے کہ اس وقت جموں وکشمیر میں بھیڑ کربکریوں کی دو اہم نسلیں ہیں جن میں چنگرا اور بکروالی بکریاں شامل ہیں اور ان کی آبادی بالترتیب2 لاکھ اور10 لاکھ بتائی جاتی ہے۔ان میں سے چنگرا بکری سے پشمینہ حاصل کیا جاتا ہے جبکہ بکروالی بکری سے دودھ حاصل کیا جاتا ہے۔علاوہ ازیں کسان بیتل اور کئی دوسرے اقسام کی بکریاں بھی پالتے ہیں۔پالیسی میں ریاست میں پولٹری اور پولٹری اشیاء کی پیداوار اور مانگ میں تفاوت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس سیکٹر میں سرگرمیوں کو دوام بخشنے کی ضرورت ہے تا کہ زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کیا جاسکے۔پالیسی میں انڈوں کی پیداوار بڑھانے، بیک یارڈ پولٹری کو فائدہ بخش بنانے اور پولٹری کے نئے اقسام وجو دمیں لانے کی طرف توجہ دی گئی ہے۔پالیسی میں زنسکاری گھوڑوں کو تحفظ دینے کی بات بھی کہی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ چمورتی گھوڑے پہاڑی علاقوں اور سرحد موسمی حالات میں کافی فائدہ بخش ہوں گے۔اس میں لداخی خچروں کو تحفظ دینے اور ان کی ڈاکیومنٹیشن کی طرف بھی توجہ مرکوز کی گئی ہے۔