نگروٹہ //نیشنل کانفرنس کے صوبائی صدر دیوندر سنگھ رانا نے منتخب علاقائی کونسلوں کی بااختیاری کو اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ اس سے نہ صرف جموں وکشمیر کی وحدت کا تشخص مستحکم ہوگابلکہ عوام کا بھروسہ بھی مضبوط ہوگا۔نگروٹہ اسمبلی حلقہ کے برن، رانجن اور جنڈیال علاقوں میں کارکنان کے جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے رانا نے کہاکہ اس سلسلے میں نیشنل کانفرنس نے مرتب کئے گئے علاقائی خود مختاری ڈاکومنٹ میں واضح روڈ میپ تیار کیاہے ۔رانا کاکہناتھاکہ اختیارات کی بنیادی سطح پر منتقلی نیشنل کانفرنس کی سیاسی فلاسفی ہے اور شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ کا سنگل لائن ایڈمنسٹریشن کا فیصلہ اس سلسلے میں اہم اور انقلابی اقدام تھا۔انہوں نے بی جے پی پر لوگوں کو علاقائی اور مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ جموں کے لوگوں کو بھاجپا کو یہ پوچھنے کا حق حاصل ہے کہ اس کی ساڑھے تین سال کے دور اقتدار میں کیا حصولیابیاں رہیں۔رانا کاکہناتھا’’اس نے (بی جے پی) جموں خطے کو صرف ناکام ہی نہیں بنایا بلکہ گورننس کے حوالے سے بھی ہاتھ کھڑے کردیئے ‘‘۔انہوں نے کہاکہ بھاجپا کی جموں کے ان عوام کے تئیں ناقابل اعتبار پالیسی جاری رہے گی جنہوں نے اس جماعت پر یہ بھروسہ کرکے اس امید سے حمایت دی تھی کہ شائد جموں کے ساتھ بہتر سلوک کیاجائے ۔این سی لیڈر نے کہاکہ بھاجپا نے عمر عبداللہ کے دور حکومت میں جموں میں شروع کئے گئے اہم ترقیاتی پروجیکٹوں کو آگے نہیں بڑھنے دیا ۔رانانے بی جے پی پر جموں کا خود ساختہ مسیحا بننے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ اس جماعت نے اپنے دو رمیں کیا کارنامہ انجام دیا ۔راناکاکہناتھا’’لوگوں نے اچھے دن کیلئے پارٹی کو منڈیٹ دیا لیکن بدلے میں انہیں بی جے پی لیڈروں کے اچھے دنوں کے سواکیا حاصل ہوا ‘‘۔انہوں نے کہاکہ وہ اپنے حلقہ انتخاب کے لوگوں کے مسائل کے حل کیلئے سنجیدہ اور نگروٹہ کی مجموعی ترقی کیلئے کوشاں ہیں ۔