ایڈورڈ سعید ؔ تحریر،تقریر اورعمل کی تینوںسطحوںپر بیسویںصدی کے نصف دو م کی ایک نہایت قابل اورسرگرمِ عمل شخصیت کی حیثیت سے ہمارے سامنے آتے ہیں۔ مابعد نوآبادیاتی مطالعات میںاُن کاغیرمعمولی واہم رول ہے۔ شرق شناسی کے نظریات میں ایڈورڈسعید مجموعی طورپربہت سے دانشوروں ،فلاسفروں اورنقادوں کے اثرات قبول کرتاہے،جن میںنمایاںطورپر جین پال سارترؔ(۱۹۰۵۔۱۹۸۰ء) ،مشل فوکوؔ(۱۹۲۶۔۱۹۸۴ء) ، اینٹونیوگرامسکی (۱۸۸۹۔۱۹۳۷ء) اورجوزف کانراڈؔ(۱۸۵۷۔۱۹۲۴ء) شامل ہیں۔ایڈورڈسعیدکے نزدیک مستشرقین نے نوآبادیات کے دوران میں اپنی سامراجی حکومتوںکے لئے لازوال کرداراداکیا۔ انہوںنے محکوم لوگوںکو یہ باورکرایاکہ نوآبادیات ہی ان کے لئے خوشحالی ، امن اورترقی لائے گا ۔ نوآبادیات کے وقت برطانیہ اورفرانس میں مشرقی علاقوںپر قبضہ کرنے کی دوڑموجودرہی۔اسی طرح مستشرقین بھی مشرقی علوم وزبانوںکوحاصل کرنے میں ایک دوسرے پرسبقت لے جانے کی کوششوںمیںرہے۔
فلسطینی مصنف اور دانشور،پروفیسر ایڈورڈ سعید یروشلم میں پیدا ہوئے لیکن ۱۹۴۷ء میں پناہ گزیں بن جانے کے بعد وہ امریکا چلے گئے اور ساری عمر وہیں رہے۔ شاید یہی سبب تھا کہ انہوں نے ساری زندگی فلسطینیوں کے حقوق کے لیے علمی جدوجہد جاری رکھی۔وہ عرب دنیا کی بجائے مغرب میں زیادہ معروف تھے اور شاید اس کا سبب یہ ہے کہ وہ انگریزی زبان میں لکھتے رہے لیکن ان کے قلمی کام کا اثر عرب دنیا میں بھی ویسا ہی رہا جیسا کہ باقی دنیا میں ہوا۔
سعیدؔ نیویارک کی ’کولمبیا یونیورسٹی‘ میں علمی اور ادبی کام میں مشغول رہے۔ اگرچہ انہوں نے کئی معرکۃالآرا ء کتابیں اور مکالے لکھے تاہم جس کتاب نے انہیں سب سے زیادہ شہرت بخشی وہ’ Orientalism ‘ہے جس کا اردو ترجمہ ’ شرق شناسی ‘کے نام سے پاکستان میںشائع ہو چکا ہے۔ اس کتاب میں پروفیسر سعید نے اس نکتہ سے بحث کی ہے کہ مشرقی اقوام اور تمدن کے بارے میں مغرب کا تمام علمی کام نسل پرستی اور سامراجی خام خیالی پر مبنی ہے۔اس تحقیقی کام سے عربوں کے اس موقف کی تائید ہوتی ہے کہ مغرب نے عرب اور اسلامی ثقافت کو سمجھنے میں غلطی کی ہے اور عرب دنیا اور مسلمانوں کے بارے میں بے بنیاد سوچ پر اپنے نظریات کی بنیاد رکھی۔
فلسطینیوں کے حقوق کے لیے سعیدؔکی کاوشوں کو عرب دنیا میں تکریم کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔مغربی دنیا میں کسی عرب نژاد نے اس قدر کھل کر اور بے باک انداز میں فلسطینی حقوق اور موقف کا دفاع نہیں کیا جتنا ایڈورڈ سعید ؔنے کیا۔ لیکن اس دفاع میں وہ قلعہ بند نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے اپنے طور پر مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان مکالمے کو جاری رکھا۔
ایڈورڈسعیدؔنے شرق شناسی کے مؤرخوں،فلسفیوں اورمضمون نگاروںکی تحریروںمیں اس درجہ بندی کو بیان کیا،جوانہوںنے اپنی تحریروں میں استعمال کی ۔جیسے جنگلی انسان ، یورپی انسان اورایشیائی انسان ۔یہ درجہ بندی علاقائی خصوصیات کے ساتھ منسلک تھی۔مغربی لوگوںکے لئے طاقتور،مہذب اورعاقل کے الفاظ استعمال کئے۔ امریکیوںکیلئے سُرخ،تیزمزاج ،جبکہ ایشیائی لوگوںکے لئے سست ،قدیم عادات واطواراورروحانی پس منظر رکھنے والااورجوحکومت کرنے سے نااہل ہے۔ مشرقی لوگوںکی یہ عادات پیدائشی اوروراثتی ہیں اورناقابل تسخیرہیں۔ جن مستشرقین نے اس درجہ بندی کوبیان کیا، ان میں عمانونیل کانٹؔ(۱۷۲۴۔۱۷۸۴ء) ،جانسنؔ اورسوتمیزنگؔ شامل ہیں۔ایڈورڈسعید نے یورپ اورامریکہ کے اسلام کے متعلق نظریات پر سیرحاصل بحث کی اوردلائل سے ثابت کیا کہ مغربی اورامریکی ثقافتوںمیں اسلام کے بارے میںغلط اوررومانوی عکس بندی قدیم زمانے سے ہیںاوراس میںتبدیلی نہیںآئی۔نارمن ڈینیل ؔکی کتاب ’’اسلام اورمغرب ، عکس بندی‘‘،میںوہ قدرے بہتراندازمیں اسلام کی تشریح کرتاہے،لکھتے ہیں:
(ترجمہ: ’’چونکہ عیسی علیہ السلام عیسائی عقائد اوراعتقادات کی بنیادہیں۔اس لئے مغرب میں یہ غلط طورپرفرض کرلیاگیا کہ حضرت محمدؐ کی اسلام میں وہی حیثیت ہے جو عیسائیت میں حضرت عیسیٰ کی ہیں اسلئے اسلام کو دیاجانے والانزاعی نام ’محمڈن ازم‘ایک طرح سے اوردوسرے بہت سے غلط خیالات سے ،ایک حلقۂ فکر وجودمیںآیا،جس کی کبھی عقل کے ساتھ تطہیرنہیںکی گئی…..)
موجودہ دورمیں شرق شناسی کامحورمشرق وسطیٰ اوراسلامی ممالک ہیں،جن کے امریکہ کے ساتھ مفادات وابستہ ہیں۔اسلام کے متعلق اصطلاح ’محمڈنزم‘ کااستعمال مغرب اورامریکہ میںمتواترطورپر ہوا،اس کی وجہ اسلام کو مغرب کے اندرخوش آمدید کبھی نہیںکہاگیا۔ اوراس کے متعلق غلط نظریات کی وسیع پیمانے پرتشہیرکی گئی۔ ایڈورڈ سعیدؔ نے امریکی شرق شناسی کے نظریات پراپناتجزیہ پیش کیاہے۔ نپولین بوناپاٹ کے مصر پرحملے سے لے کر یورپی نوآبادیات اورانیسویںصدی کی سامراجیت سے لے کر جنگ عظیم دوم کے اورامریکی شرق شناسی کااحاطہ کیاگیا۔
ایڈورڈؔ سعید ناموریورپی مستشرقین کے نظریات ، ان کی تصانیف پر تجزیہ پیش کرتاہے،جنہوںنے شرق شناسی کوایک خاص سمت دی۔ان میںناموربرطانوی مستشرق آرتھرجیمزبالفورؔ(۱۸۴۸۔۱۹۳۰ء)شامل ہیں۔ بالفور نے اپنی غیرمعمولی علمی ،سیاسی اورسماجی حیثیت کی وجہ سے برطانوی سیاست میں اہم کرداراداکیا۔ وہ نوآبادیات کی تائید کے حق میں یہ دلیل پیش کرتاہے کہ یورپ اپنے بہترین دماغ یعنی دانشوراورماہرین مقبوضہ علاقوںمیںبھیج کر عوام کے اندرشعوراورعلمی بصیرت پیداکرتاہے۔ محکوم علاقوں پرحکمرانی کرنا مغرب کااحسان ہے۔ ایڈورڈؔ سعید ، بالفورؔ کے نوآبادیات کے متعلق نظریات پرتنقید کرتاہے۔بقول ان کے مصرمیںبرطانیہ کی موجودگی خالص سامراجی مقاصد کے تابع تھی۔
سعیدؔ کوعالمی شہرت ۱۹۷۸ء میں شائع ہونے والی ان کی کتاب Orientalismسے ملی۔فوکوؔ ، فرانزفیننؔ ،ریمنڈولیمسؔ اورابراہیم ابولگورؔ سے متاثر۳۲سالہ ادب کے معلم کی اس کتاب میں مغربی سائنسی روایت سے جرح کرتے ہوئے یہ دکھایاگیاہے کہ کس طرح مغربی عالموںکے ذریعے (مشرق کے لوگوں)خصوصاً عرب لوگوں ،ان کے معاشروں اورتہذیبوںکے بارے میں پیداکردہ گیان نے مشرق کے ملکوںپر مغرب کی نوآبادیاتی جکڑ کو مضبوط کرنے کاکام انجام دیاہے۔کیسے مغرب کے بہترین مفکر، فن کار اورادیب جانے انجانے مشرق کی کمتری اورنرالے پن (Myth) بنانے میںشامل رہے ہیں،جومغربی سامراج پرستی اورمشرق کی غلامی کوجوازفراہم کرتاہے اور کس طرح یورپی نشاۃ ثانیہ کی قدریورپ کونوآبادیاتی نظام سے گتھی رہے ہیں۔ (اسدزیدی، ترجمہ،حیدرجعفری،مغرب کی عدالت میں مشرق کا وکیل،شمارہ نمبرن،نیاورق۔ص۱۲)۔ Orientalism کے زیراثرایساردعمل اورنظریات بھی سامنے آئے جس نے ایڈورڈؔسعیدکوحیران کردیااورخوداپنے نظریات کے بارے میںزیادہ باخبربنایا۔ ہرجگہ نوآبادیاتی مطالعہ کا فیشن چل پڑا۔ سینکڑوں محقق اورعالم Orientalsimکے دائرے سے اندرمغربی علم اورسوجھ بوجھ کی تنقیدی جانچ پڑتال کرنے لگے۔ تیسری دنیاکے علمی حلقوں کوسعیدؔ کے نظریات میںنجات کافارمولہ بھی نظرآگیا ،جس سے وہ مغرب کی علمی غلامی اوریورپی بیداریٔ نو اورغیرنسلی اثرکواتارپھینک سکتے تھے ۔ Orientalismتین کتابوں پرمشتمل سیریزکی پہلی کتاب تھی ۔تینوں کتابوںمیںسعیدؔ نے مغربی ممالک کے ساتھ تیسری دنیاکے تعلقات ، خصوصاً عرب دنیاسے یورپ اورامریکہ کے معاملات میںاخلاقی ، تاریخی ،معاشی ،سیاسی اورمذہبی رشتوںکالیکھاجوکھا پیش کیاہے۔ نئے سامراج پرست کے دبدبے کے اس پورے دورمیں سعیدؔ کے کام ، تحریریںاورخیالات بہت سی گتھیوں کے سلجھانے میںمددکرتے ہیں اوریہ بتاتے ہیں کہ ظلم اورغلامی کی تاریخ اوراس کے پھیلاؤ کوجانے بغیر ہم کوئی قابل قبول حل تخلیق نہیںکرسکتے۔
سعیدؔ کاسروکارمحض ادب یاادب کی تنقیدسے نئی رہتابلکہ وہ ثقافت ،تاریخ ، سماجی تبدیلی،دہشت گردی کے مسائل اورقومیت کے تصورسے بھی اپناتعلق اسی درجہ برقراررکھتے ہیں۔ ان کے خیال میںدانشوراورقاری سہل پسند ہونگے تودرسگاہوںکاانحطاط ہوگااورعلم کے مقابلے میںاشیائے زمانہ زیادہ دلچسپی کاباعث ہونگی، معاشرہ حاکمیت کاشکارہوگااوراس کاانحطاط لازمی ہوگا۔اسی لئے انہوںنے تھیوری کا رشتہ حقائق سے جوڑا، اد ب کوگنجلک اورمجرّد تصورات کے نہاںخانوںسے نکال کرنصابی بندشوںسے آزادکرنے کی کوشش کی:
’’سعیدؔ کی تمام ترتصنیفات میںOrientalismایک مخصوص اہمیت کی حامل ہے ۔انہوںنے مشل فوکوؔ کی ’’Truth, Knowledge, Power‘‘کے نظرئے سے استفادہ کرتے ہوئے اس کتاب میں مشرق پرمغرب کے کنٹرول کی توضیح کرنے کی کوشش کی ہے۔امپیرئل کلچرپرسعیدؔ سے پہلے فرانز فیننؔ نے اپنی کتاب(۱۹۶۱ء) میںیہ بتانے کی کوشش کی تھی کہ کولونیلزم کسی قوم کے ماضی اورحال کی اپنی ایجنڈے کی مطابق ازسرنوتعمیرکرنے کاکام کرتاہے۔ چنانچہ Colonizedکاپہلاکام یہ ہوناچاہیے کہ وہ اپنے اصل ماضی کی بازیافت کرے۔استشراق کی توضیح کرتے ہوئے سعیدؔنے انٹونیوگرامسکیؔ کے Hegemonyکے تصورکاسہارابھی لیاہے،جس میںcivilاورPoliticalسوسائٹی میںفرق کیا گیا ہے۔‘ ‘ (ایڈورڈسعیدکاحصہ،مشمولہ، اردوادب،دہلی ،دسمبر۲۰۰۳ ء، ص۔۵۹)
مابعدنوآبادیاتی تنقید کی ابتداء باضابطہ طورپر ایڈورڈؔ سعید کی اسی کتاب کے ساتھ ہوئی اورآج یہ ایک معتبرحوالے کے طورپر سامنے آتی ہے۔سعیدؔ کی یہ کتاب یورپی اورمغربی مرکزیت کی نفی کرتی ہے۔ایسا نہیںتھاکہ سعیدنے اس موضوع پر پہلی دفعہ بات کی ہو۔دنیامیںاس سے پہلے بھی مستشرقین کی ایک پوری صف ا س سے واقف ہو۔ جس میںمؤرخ ،ماہر لسانیات اورزبان شامل تھے لیکن پہلی بارسعیدؔ نے ٹھوس نظریاتی بنیادوںپر مغرب کے تصورمیں مشرقیت کے مقام پرپڑے ہوئے دبیزپردوں کو مدلّل اندازمیںاُٹھایا۔ ایڈورڈ کے اثرات مابعدنوآبادیاتی تنقید پر اساسی نوعیت کے ہیں ۔اس کام کے لئے انہیں تحریک آزادی فلسطین کے مقصدکے ساتھ شاید سیاسی وابستگی سے ملتی رہی۔ مشل فوکوؔ کے ممتازترین شاگردہونے کے ناطے’ پس ساختیات‘ میںدلچسپی رکھتاتھااورمغرب کے ڈسکورس کی تھیوری کاتعلق حقیقی وسیاسی اورسماجی جدوجہدسے جوڑسکتاہے۔فوکوؔ کے نظریات کاتتبع کرتے ہوئے سعیدؔنے مغربی ڈسکورس کوچلینج کیا۔ ڈاکٹرناصرعباس نئیر، ؔ ایڈورڈسعیدؔ کاحوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’مشرق شناسی کے تین جزوی طورپر مشترک دائرہ ہائے کار ہیں ۔ پہلی چیزتومغرب اورایشیا کے درمیان پچھلے چارہزارسال سے موجود تہذیبی تعلقات کی تاریخ اورنوعیت ہیں۔دوسرامعاملہ ان علوم کاہے جن کے ماہرین نے گزشتہ صدی کے آغازسے مشرقی زبانوںاورتہذیبی مطالعوںکے حوالوںسے مہارت حاصل کرناشروع کیں۔تیسرا مسلہ ان پیش پاافتادہ نظریات وتصورات کاہے جومغرب میں مشرق کے بارے میںپائے جاتے ہیں۔‘‘(مابعدجدیدیت۔نظری مباحث،اول،ص۲۴۶) ایڈورڈؔ کے مطابق جوکچھ علم میںپیش کیاجاتاہے وہ دراصل ملی جلی چیزہوتی ہے اوراس کایقین پیدائشی ضرورتوںسے کم اورخارجی ضرورتوںسے زیادہ ہوتاہے۔ اپنی کتاب Covering Islamمیںاُن کاموقف رہاہے کہ اسلام کی جوروایتی کوریج تعلیمی اداروں،حکومت اورمیڈیامیںدیکھی جاتی ہے، وہ حقیقت سے مختلف ہوتی ہے، بقول ان کے :
’’مغرب میںکسی دوسری ’کوریج‘ کے مقابلے میںاسلام کی کوریج زیادہ دورتک پہنچتی ہے اوراس سے دوسروں کوترغیب بھی زیادہ ملی ہے پھراسلام کی تشریح کامعاملہ بھی اس سے کچھ زیادہ مختلف نہیںرہاہے۔ قطع نظر اس کے کہ یہ کوریج صحیح اورسچائی پرمبنی تھی یانہیں، اس کی کامیابی کاسہراان لوگوں اوراداروں کے سیاسی اثرورسوخ کے سرہوتاہے، جنہوں نے اس کوریج کوتیار کیا، میںدلیل بھی پیش کرچکاہوں کہ اس کوریج میںاسلام کے صحیح علم سے انحراف کیاگیاہے اور اس انحراف کے جومقاصد ہوسکتے تھے وہ بھی اس سے پورے ہوتے ہیں۔‘‘
(ظہرجاوید،مترجم،اسلام اورمغربی ذرائع ابلاغ۔ص۶۷۔۲۶۶)
سعیدؔکہتے ہیں کہ اسلام کو جس طرح مغرب نے استعمال کیا ،وہ کسی صورت قابل قبول نہیںہے۔صدیوں سے اسلام زندگی کی بنیادی قوت کے طورپر چلاآرہاہے ،کم از کم آ ج کے دورمیں اس کی قوت بڑھتی ہوئی ہی معلوم ہوتی ہے:
’’اسلام میںدین اورریاست کوایک دوسرے سے الگ کرنے کاکوئی تصورنہیںہیں۔یہ ایک مکمل نظام ہے۔یہ عقیدے تک محدودنہیں ہے بلکہ اس پرعمل کے قواعد بھی موجودہیں اورروزمرہ زندگی کے ضوابط بھی،اس میںنجات کے لئے یہ کشش موجودہے کہ مسلمان کافروںکے ساتھ لڑیں یاانھیں اپنے دین میں لے آئیں‘‘(ایضََا۔ص۸۸)
ایڈورڈسعیدؔ بلاشبہ اپنے دورکے عظیم ترین عرب تھے۔ان کی روح میںکیسی بے مثال توانائی اورروشنی تھی کہ انھوںنے باوجودیہ کہ اپنی جان لیوابیماری کے مغربی سامراج کے سامنے ہارنہ مانی۔ ان کاذہن،اتنا مرتب، شفاف اوردوررس تھاکہ گویاعلوم وافکار کی تمام دنیائیںان کی تابع تھیں،زاہدہ حناؔرقمطرازہیں:
’’وہ ان مابعدجدیددانش مندوں میںنہیںتھے جوہردم الفاظ کی طاقت ، معنویت اورریڈیکل اسٹریٹجیز گڑھتے رہتے ہیں،لیکن حقیقی سیاست، عوامی زندگی اوران کے دکھ سے کچھ اپنا دامن میلانہیںہونے دیتے‘۔‘(’وہ فلسطین کاعاشق تھا‘دنیازاد(کتابی سلسلہ)،فروری۲۰۰۴ء۔ص۲۲۹)
بائیںبازو کے مفکروں کے درمیان سعیدؔ پریہ تنقید عام ہے کہ انہوںنے اپنے اورنیشنلزم میںتیسری دنیا کے اپنے اندھیرے ،اپنے کوڑے کرکٹ اورذات پات، مذہبی اورجاگیردارانہ وراثت کی تنقیدی پرتال نہیںکی اورنشاۃِ ثانیہ کومحض نوآبادیاتی سلسلے میںدیکھاہے۔ اس تنقید میںکچھ دم تھا لہٰذا سعیدؔ کااچھا خاصا وقت اس معاملے کی صفائی میںگزرا۔ لیکن اگر سعیدؔ کانظریہ دیکھاجائے تو اس کواُن کے اپنے طرزحیا ت کے لحاظ سے بھی دیکھاجاسکتاہے۔
سعیدؔبیسویں صدی کے آخری چوتھائی کے اہم ترین ادبی ناقدوںاورمفکرین میںسے ایک تھے۔سعیدؔایک شخص کانام نہیںتھا۔وہ توسوچنے اورزندہ رہنے کاایک اسلوب بن چکے تھے۔غرض یہ کہ ان کی شخصیت نہ صرف مغرب بلکہ مشرق کے کمزورلوگوںکے لئے حق کی آوازتھی، جس کی گونج رہتی دنیاتک تاریخ کے جھروکوںسے ایک روشنی کی طرح پھولتی رہے گی۔
رابطہ :ریسرچ اسکالرشعبہ اردو،کشمیریونیورسٹی سرینگر