ہمارے اردو ادب میں طنز ومزاح کی ایک شاندار روایت رہی ہے ۔کئی قدآور ادیبوں نے اس پُر لطف صنف ادب کو اپنایا ہے اور عوام کو اپنے اپنے طور پر ہنسایا ہے۔ایسے بلند یایہ ادیبوں میں رشید احمدصدیقی ،کنہیالال،پطرس بخاری،شوکت تھانوی،فکرتونسوی،احمد جمال پاشا اور کرنل محمدخان بطور خاص اہمیت کے حامل ہیں۔مشتاق احمدیوسفی نے اگرچہ ان سب سے کسب فیض حاصل کیا ہے مگر ان کی ظرافت کا انفراد یہ ہے کہ انھوں نے مزاح کی مغربی روایت کو مشرقی تہذیب وتمدن میں انگیز کرکے ایک نیا لب ولہجہ اور اسلوب ایجاد کیا ہے۔دراصل مشتاق احمدیوسفی مزاحیہ ادب میں یونہی مشہور نہیں ہوگئے ہیں بلکہ ان کے اسلوب میں ایسا جادو ہے جو ہر کسی کے سر چڑھ کر بولتا ہے۔انھیں زبان اور انداز بیان پر حاکمانہ قدرت حاصل ہے ۔مشتاق احمدیوسفی نے شہرت کے بدلے معیار کو اہمیت دی ہے۔ان کی درجنوں تصانیف نہیں ہیں بلکہ کُل پانچ تصانیف ان سے منسوب ہیںمگر پانچوں معرکتہ الآراء کا درجہ رکھتی ہیں’’چراغ تلے‘‘خاکم بدہن‘‘ان کے مزاحیہ مضامین کے مجموعے ہیں’’زرگزشت‘‘ان کی خود نوشت سوانح عمری ہے جبکہ آب گم‘‘پانچ مضامین کا مجموعہ ہے جن میں ان کی قہقہہ زاری روتے ہووں کو ہنساتی ہے۔ان کی ظریفانہ طبعیت کا آخری تحفہ ’’شام شعریاراں‘‘ہے جس میں ایسے مضامین شامل ہیں جو کسی تقریب یا سیمی نار میں پڑھے گئے ہیں۔دراصل ایک بڑا مزاح نگار یا طناز گہرے سماجی شعور کا حامل ہوتا ہے ۔وہ صرف ہنسنے ہنسانے تک اپنے آپ کو محدود نہیں رکھتا بلکہ وہ انسان کی ان تمام نفسیاتی اور سماجی کمزوریوں اور ناہمواریوں پر مزاحیہ پیرائے میں چوٹیں کرتا رہتا ہے تاکہ عوام وخواص کو اپنی اصلاح کرنے کا موقع ملے۔مشتاق احمد یوسفی نے یہی کام کیا ہے ۔ان کی ظرافت ان کے گہرے سماجی شعور اور روایات سے ابھرتی معلوم ہوتی ہے۔ان کے بیشتر مزاحیہ جملے سماجی،معاشرتی اور نفسیاتی زندگی کے متضاد پہلووں کی طرف بڑے معنی خیز اشاروں سے تعلق رکھتے ہیں ۔انھیں چھوٹی چھوٹی باتوں سے مزاح پیدا کرنے کا ہنر آتا ہے۔ان کے مضامین شگفتگی،ادبی وقار اور مزاحیہ لطف اندوزی کے پروردہ ہوتے ہیں۔انھوں نے اپنی تحریروں میں جہاں کلاسیکی روایت کارچاو اور رکھ رکھاو کا خیال رکھا تو وہیں جدید ادب کے رویّوں اور ہندوستان وپاکستان کی علاقائی زبانوں کی تازگی اور توانائی نے بھی ان کے فکر وفن پر گہرے اثرات مرتب کرکے انھیں فنی اعتبار سے ایک نئی جہت عطا کی ہے۔مزاح کے جتنے بھی حربے ہیں سب مشتاق احمدیوسفی نے بحسن وخوبی استعمال کیے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کے اسالیب ظرافت میں مزاحیہ ماجرا نگاری ،کردار نگاری ،لفظی مزاح،تحریف نگاری یعنی پیروڈی،موازنہ اور علم بیان کے علاوہ قول محال کو خاصی اہمیت حاصل ہے۔بقول شہاب ظفر اعظمی:
’’مشتاق احمد یوسفی کو زندگی کے ہمہ جہت رنگوں کو پرکھنے اور برتنے کا ایک وسیع تناظر ملا۔وہ ٹونک راجستھان میں پیدا ہوئے،جے پور،آگرہ اور علی گڑھ میں تعلیم حاصل کی،کراچی میں بینک کاری کے پیشے سے منسلک ہوئے اور دس سال تک زندگی کے گوناگوںتجرباتحاصل کیے۔ان تجربات میں سب سے اہم بھانت بھانت کے لوگوں سے ملنا اور ان کی نفسیات سے واقف ہونا ہے۔وہ کوئی منظردکھائیںیا واقعہ سنائیں،خود اس منظر یا واقعے کا حصہ بن جاتے ہیں۔اس لیے ان کی تحریروں میں درد مندی و دلسوزی کی ایک زیریں لہرہمیشہ موجود رہتی ہے‘‘
مشتاق احمدیوسفی کی تحریروں کا سب سے بڑا اختصاص ان کا مشاہدہ ہے ۔کسی بھی موضوع کو زیر بحث لانے کے دوران وہ موضوع کی باریک سے باریک جزئیات کو سانچے میں ڈھالتے ہیںان کے جملے نپے تُلے ہوتے ہیں۔ان کے تجربات ومشاہدات اور محسوسات کے بیان کرنے کا انداز اتنا انوکھا اور منفرد ہے کہ کوئی بھی ان کی ہمسری نہیں کرپایا۔وہ اپنے مزاح کی برجستگی پرخصوصی دھیان دیتے ہیں۔وہ ایسے جملے تراشتے ہیںکہ ان کا قاری ہنستا بھی رہے اور زندگی کی تلخیوں اور صداقتوں سے واقف بھی ہوتا رہے۔مشتاق احمد یوسفی نے جو کچھ بھی لکھا وہ آئندہ نسلوں کے لیے ایک قیمتی اثاثے کی حیثیت رکھتا ہے۔ان کی قہقہہ زارتحریروں سے ماخوذ کچھ جملے ملاحظہ کیجیے:
1۔یورپین فرنیچر صرف بیٹھنے کے لیے ہوتا ہے جبکہ ہم کسی ایسی چیز پر بیٹھتے ہی نہیں جس پر لیٹا نہ جاسکے۔
2۔بھڑ کازہر ڈنک میں رہتا ہے اور پاگل کُتّے کا زہر زبان میں،انسان واحد حیوان ہے جواپنا زہر دل میں رکھتا ہے۔
3۔بد صورت انگریز عورت نایاب ہے ۔بڑی مشکل سے نظر آتی ہے یعنی ہزار میں ایک ، پاکستانی اور ہندوستانی اسی سے شادی کرتا ہے۔
4۔یہ بات ہم نے شیشم کی لکڑی،کانسی کی لُٹیا،بالی عمریا اور چگی داڑھی میں ہی دیکھی کہ جتنا ہاتھ پھیرو اتنا ہی چمکتی ہے۔
5۔آسمان کی چیل،چوکھٹ کی کیل اور کورٹ کے وکیل سے خدا بچائے ننگا کرکے چھوڑتے ہیں ۔
6۔خون ،مشک،عشق اور ناجائز دولت کی طرح عمر بھی چھپائے نہیں چھپتی۔
7۔پاکستان کی افواہوں کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ سچ نکلتی ہیں۔
8۔آدمی ایک بار پروفیسر ہوجائے تو عمر بھر پروفیسر ہی رہتا ہے ، خواہ بعد میں سمجھداری کی باتیں ہی کیوں نہ کرنے لگے۔
9۔مصائب تو مرد بھی جیسے تیسے برداشت کرلیتے ہیں مگر عورتیں اس لحاظ سے قابل ستائش ہیں کہ انھیں مصائب کے علاوہ مردوں کو بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔
10 ۔مرد کی آنکھ اور عورت کی زبان کادم سب سے آخر میں نکلتا ہے۔
11۔جو ملک جتنا غربت زدہ ہوگا اتنا ہی آلو اور مذہب کا چلن زیادہ ہوگا۔
12۔محبت اندھی ہوتی ہے،چنانچہ عورت کے لیے خوب صورت ہونا ضروری نہیں ۔بس مرد کا نابینا ہونا کافی ہے۔
13۔بڑھاپے کی شادی اور بینک کی چوکیداری میں ذرافرق نہیں،سوتے میں بھی ایک آنکھ کھلی رکھنی پڑھتی ہے۔
14۔مرد پہلے بحث کرتے ہیں پھر لڑتے ہیں ،عورتیں پہلے لڑتی ہیں بعد میں بحث کرتی ہیں۔مجھے ثانی الذّکر طریقہ زیادہ معقول نظر آتا ہے کہ اس میں آئندہ سمجھوتے اور میل ملاپ کی گنجائش باقی رہتی ہے۔
15۔منٹو کے افسانوں کا ترجمہ اگر مولانا آزاد کی جناتی زبان میں کرکے طوائفوں کو بالجبر سنایا جائے تو مجھے یقین ہے کہ وہ ایک ہی صفحہ سن کر کان پکڑ لیں اور اپنے دھندے سے تائب ہوجائیں۔
16۔چرچراتی ہوئی چارپائی کو میں نہ گل نغمہ سمجھتا ہوںنہ پردہء ساز اور نہ اپنی شکست کی آواز درحقیقت یہ آواز چا ر پائی کا اعلان صحت ہے کیونکہ اس کے ٹوٹتے ہی یہ آواز بند ہوجاتی ہے۔
یہ ہیں مشتاق احمد یوسفی کے جملے،جن میں مزاح کی گدگداہٹ توہے ہی،طنز کی گہری کاٹ بھی ہے۔ایسے دلچسپ اور پُر لطف طنز ومزاح نگار ادیب مشتاق احمدیوسفی اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔اردو دنیا نے 2018ء میںشہنشاہ ء ظرافت کو کھو دیا ہے۔یوسفی صاحب کی پہنچ اردو نثر کی معراج کمال کہی جاسکتی ہے۔انھوں نے اپنے طنزیہ ومزاحیہ مضامین کے حوالے سے اعلیٰ درجے کا ادب تخلیق کیا ہے۔جو بلاشبہ عالمی ادب کے سامنے فخریہ طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔صداقت یہ ہے کہ مشتاق احمد یوسفی نے اپنے پیچھے جو ادبی سرمایہ چھوڑا ہے وہ انھیں اردو ادب کی مزاحیہ تاریخ میں ہمیشہ زندہ رکھے گا۔وہ ہمیں اپنی پُر مزاح اور شگفتہ تحریروں میںفطرت انسانی اور انسانی نفسیات کے ایسے نباض اور مشاہدہ کار کی حیثیت سے نظر آتے ہیںجنھیںاپنے فن پر کمال حاصل ہے۔وہ اپنے ہم عصروں میں منفرد و ممتاز رہے ہیں ۔انسانی فہم وفکر اور سماجی زندگی کے روز مرہ واقعات کو جس دلچسپ ودلآویز زبان وبیان کے ساتھ انھوں نے بیان کیا ہے وہ کسی دوسرے مزاح نگار کے یہاں ہمیں نظر نہیں آتا ۔ڈاکٹر خاور ہاشمی ایک جگہ لکھتے ہیں:
’’مشتاق احمدیوسفی کو محض مزاح نگار اور طنز نگار ثابت کرنا دلیل کم نظری اور اس فن کو ایک جوئے کم آب بنادینے کے مترادف ہے۔وہ انسانی فطرت اور نفسیات کا نبض شناس ہے۔مصّور فطرت ہے،اپنے قاری کے رگ وپے میںروح بن کر سماجاتا ہے۔جہاںچاہتا ہے رُلا دیتا ہے اور جہاں چاہتا ہے ہنسا دیتا ہے۔پڑھنے والا نہ آنسو روکنے پر قادر ہے نہ قہقہے روکنے پر۔آنسووں اور قہقہوںسے ہی زندگی کے عنوان بنتے ہیں،اس کے مفہوم نکلتے ہیں۔یوسفی کے یہاں علم و مشاہدہ یکساں وسیع اور ہمہ گیر ہیں، ۔علم مشاہدے کے بغیر اور مشاہدہ علم کے بغیر ہوتو شاہکار پیدا نہیں ہوتے۔وہ خون جگر پیدا نہیں ہوتا جس سے معجزہ ء فن کی نمود ہے۔ اسے پڑھ کر زندگی کی برکتوںاور عظمتوں کا احساس وعرفان تازہ وتوانا ہوتا ہے۔یوسفی کو پڑھ کر ہزار شیوہ زندگی کا مفہوم سمجھ میں آنے لگتا ہے۔اُس کے پاس طنز کے تیر ونشتر بھی ہیں اور ایک سنجیدہ مزاح بھی‘‘ اس میں کوئی بھی دورائے نہیں ہے کہ مشتاق احمد یوسفی شہنشاہء ظرافت کا درجہ رکھتے ہیں ۔ان کے انتقال سے یوں لگتا ہے کہ جیسے اردو ادب کے ایک عہد کا خاتمہ ہوگیا ہو۔مانا کہ ہر ذی نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے لیکن ان کے جانے سے اردو طنز ومزاح کی دنیا میںجو سنّاٹا اور خاموشی چھائی ہوئی ہے وہ ابدی خاموشی کہی جاسکتی ہے،وہ اس لیے کہ نئی نسل میں اب مشتاق احمد یوسفی جیسا باکمال مزاح نگار نظر آنا ناممکن ہے۔یہ بات بھی مسلّمہ ومصدقہ ہے کہ ایک بڑے قلمکار اور ادیب کی موت علم وادب کا بہت بڑا خسارہ ہوتی ہے لیکن کچھ لوگ ایسے ضرور ہوتے ہیں جن کا آفاق کی منزل سے گزرنا ناقابل تلافی اور دائمی عدم موجودگی کے غم میں مبتلا کرتا ہے۔مشتاق احمد یوسفی ان معدودے چند قلمکاروں میں شمار ہوتے ہیںجو اردو کے لیے باعث صد افتخار تھے،جنھوں نے اپنی بے مثال ولازوال طنزیہ ومزاحیہ تحریروں سے اردو کے گنجینے کو مالا مال کیا ہے۔ایک ایسا شخص کہ جس کی مزاحیہ طبعیت سے محفلیں قہقہہ زار بن جاتی تھیں ،زندگی کی الجھنوں سے پریشان اور سود وزیاں کے غم میں مبتلا لوگ قہقہہ زن ہوجاتے تھے ،اس کی دائمی خاموشی سے ادبی محفلیں سُونی ہوگئی ہیں۔لگتا ہے عمر بھر ہنسانے والا آخر پہ رُلا کے چلا گیا ہے!
فون نمبر9419336120