تقدیر کی ٹیڑھی لکیر کیا کبھی سیدھی ہو سکتی ہے؟عصمت چغتائی کے ناول ’’ٹیڑھی لکیر ‘‘میں ڈوب کر دیکھئے تو اندازہ ہوگا کہ تقدیر کی بنائی لکیر کو کوئی مٹا نہیں سکتا۔یہ لکیر سیدھی ہو تو واہ!ٹیڑھی ہو تو آہ!ناول کی دنیا میں ’’ٹیڑھی لکیر ‘‘نامی ناول اپنا ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ناول نگار جب زندگی کے اونچ نیچ ،زیرو بم اور نشیب و فرازسے خود دوچار ہو جاتا ہے تو اُسے ایک تحریک ملتی ہے۔اس تحریک سے اس کے ذہن و قلب پرکچھ ایسا اثر ہو جاتا ہے کہ وہ بے ساختہ خامہ فرسائی پر اُتر آتا ہے۔ان مشاہدات اور تجربات کو وہ قلم کی نوک سے ایک ایسا موڑدے دیتاہے کہ ایک کتاب وجود میں آتی ہے جسے رسمی طور پر پھر شعر وکلام ، افسانہ یا ناول کہتے ہیں۔
عصمت چغتائی ۲۱ ؍اگست ۱۹۱۵ء کو بدایوں میں پیدا ہوئیں ۔میٹرک اور انٹر میڈیٹ کے امتحانات علی گڈھ مسلم یونیورسٹی سے اور بی ،اے لکھنو یونیورسٹی سے پاس کیا۔مختلف عہدوں پر کام کرتی رہیں۔ان کو علم و ادب کا ذوق وشوق ورثہ میں ملا تھا۔ان کے نانا ناول نگار تھے جن کا ایک ناول ’’رزم و بزم ‘‘اپنے زمانے میں مقبول ہوا تھا ۔اپناادبی سفر عصمت نے چھوٹے چھوٹے ڈرامے لکھنے سے شروع کیا ۔افسانہ سے زیادہ انہیں ڈراما لکھنا مرغوب تھا۔بعد ازاں اُنھوں نے افسانہ نگاری اور ناول نگاری کی طرف اپنی توجہ مبذول کی۔ ان کی ابتدائی کہانیوں میں گھر کی چار دیواری کا ماحول ملتا ہے۔دم بخود ماحول اور پردہ نشین خواتین کا جنس کے تعلق سے کیا رویہ ہوتا ہے، کس طرح اندر ہی اندر سے یہ یہ خواتین گھٹن محسوس کرتی ہیں ۔ان جیسے موضوعات پر عصمت جی لکھنا پسند کرتی ہیں۔
عصمت چغتائی کے ناولوں میں ’’ضدی‘‘ ، ’’ ٹیڑھی لکیر‘‘ ، ’’معصوم ‘‘ ، ’’جنگلی کبوتر ‘‘ ، ’’ دل کی دُنیا‘‘ ، ’’ سودائی ‘‘ ، عجیب آدمی ‘‘ اور ’’باندی ‘‘ زیادہ مشہور ہیں ۔ ان کے علاوہ ان کے ناولٹ ’’ تین اناڑی ‘‘ ،نقلی راج کمار ‘‘ ، ’’ایک قطرہ خون ـ‘‘ شامل ہیں۔
موصوفہ نے اُردو ناول نگاری کی عام رِوش کو جو اعتبار اور افتخار عطا کیا وہی چیز انھیں وقار و امتیاز عطا کرتی ہے ۔ ان کے شاہکار ناولوں میں ’’ ٹیڑھی لکیر‘‘ سر فہرست ہے ۔ اس ناول سے ناول نگاری کے فن میں کافی وسعت پیدا ہوئی ۔دراصل عصمت جی کی ترقی پسند دور کی یہ تخلیق بیش بہا اور مایہ ناز ہے اور اس میں موجود کہانی اس بات کا بر ملا اظہار ہے کہ یہ ان کی اپنی وہ سوانح ہے جسے ناول کا لبادہ پہناکر پیش کیا گیا ہے۔ناول کی شہرت کا باعث ان کی وہ نفسیاتی عکاسی ہے جو انھوں نے دور جدید کی کالج لڑکی کی جیتی جاگتی اور بولتی چالتی تصویر میں پیش کیا ہے ۔ جوانی کے دور سے گذر رہی لڑکی کی نفسیات کو جس سلیقے سے عصمت نے پیش کیا ہے وہ اپنا ایک خاص اثر رکھتا ہے۔
ناول کا مرکزی کردار شمن نامی ایک لڑکی ہے جو بچپن سے لیکر بڑھاپے تک ناول نگار کی نظروں میں رہتی ہے اور ناول میںاس لڑکی کی حرکات و سکنات کا نفسیاتی جائیزہ پیش کیا گیا ہے ۔ناقدین کی متفقہ رائے ہے کہ یہ ناول عصمت چغتائی کی اپنی وہ سرگزشت ہے جو ناول کی حیثیت میں پیش کی گئی ہے ۔یو ں کہہ سکتے ہیں کہ اس ناول میں آپ بیتی کا عنصر غالب ہے ۔ناول کے وجہ تسمیہ سے پتہ چلتا ہے کہ مرکزی کردار کی تقدیر میں ٹیڑھا پن موجود ہے جو’’ ٹیڑھی لکیر‘‘ کی صورت میں کھینچا گیا ہے اور تادم ِحیات یہ ٹیڑھا پن برابر موجود رہتا ہے ۔ناول نگار یوں رقمطراز ہے :
’’وہ پیدا ہی بہت بے موقعہ ہوئی۔۔۔۔۔۔نو بچوں کے بعد ایک کا اضافہ ،جیسے گھڑی کی سوئی ایک دم آگے بڑھ گئی دس بج گئے ۔۔۔۔۔حد ہو گئی تھی ۔بہن بھائی اور پھر بہن بھائی ۔بس معلوم ہوتا تھابھک منگوں نے گھر دیکھ امڈے چلے آتے ہیں ۔ ویسے ہی کیا کم موجودتھے جو اور پے در پے آرہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔دو ایک بھائی بہنوںنے تو ذرا چاؤ چونچلے کئے پر اب بڑی آپا کا بھی جی بھر چکا تھا ،اور وہ بیزار تھیں۔خیر انا موجود تھی اور وہ پل رہی تھی۔‘‘
شمن اپنے ماں باپ کی عدم توجہی اور محرومی کے احساس سے کج رو بن گئی ہے۔اس میں ٹیڑھا پن آگیا ہے اس طرح اس کی شناخت مخدوش ہو گئی ہے ۔ اس کے ٹیڑھے پن میں آئے دن زیادتی ہی ہو جاتی ہے۔بھائی بہنوں کی تعداد کو مد نظر رکھ کر شمن اندر اور باہر دونوں طرح کی محبت سے محروم رہتی ہے ۔اس کی طرف کوئی توجہ مرکوز نہیں کرتا ۔ اُسے اپنے حال پر چھوڑا جاتا ہے بچپنا اور لڑکپن محرومی کا شکار ہو جاتا ہے ۔اس طرح شمن ہر آن اپنے آپ کو تنہا محسوس کرتی ہے۔لڑکپن سے ذرا آگے جاکر نوجوانی میں داخل ہوجاتی ہے تو محبت کی اٹکلیاں پیدا ہو جاتی ہیں ۔دائیں بائیں نظر دوڑاتی ہے تو سب کچھ مُر جھایا ہوا نظر آتا ہے۔ا سکول کی ایک میڈم مس چرن اور اس کی دو سہیلیاں اسے دیکھ کر اندازہ کرتی ہیں کہ یہ محبت کی آغوش میں ہچکولے کھانا پسند کرتی ہے تو وہ تینوں اسے جنسی لذت سے لطف اندوز ہونا سکھاتی ہیں۔ ماہرین نفسیات یہ جانتے ہیں کہ اس مستی میں کیا کچھ انجام دیا جاتا ہے۔بہر حال جنسی دائرے سے نکل کر شمن پہلے رشید نامی ایک ہمسایہ لڑکے سے آنکھیں لڑانا شروع کرتی ہے۔یہ سلسلہ جلد ہی ختم ہوجاتا ہے کیوں کہ رشید کی نظر یں ایک خوبصورت لڑکی نسیمہ کی طرف پڑتی ہیں ،وہ شمن کو چھوڑ اسی کو اپنی توجہ کا مرکز بناتا ہے ۔ اس حرکت سے شمن کے دل پر گہری چوٹ لگتی ہے اور اپنے کو بالکل محروم اور اکیلی محسوس کرنے لگتی ہے ۔دل شکستہ کے اندرون کو صرف اُس کا خالق ہی جانتا ہے کہ اُس پر کیا گزرتی ہے۔دل کے ٹوٹنے کی صدا عام لوگ سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں ۔شمن کے دل کو کون ٹٹولتا اُسے ایسا دھچکا لگا کہ وہ حواس باختہ ہو گئی مگر جلدی ہی اُس نے اپنے آپ کو سنبھالا ۔ کیوں کہ اُس کے اپنے کچھ رفیق موجود تھے ہی جو اُسے سنبھلنے میں معاون ثابت ہوتے رہے چونکہ جوانی کا دور دیوانگی کا زمانہ ہوتا ہے، لہٰذا اس میں جلد ہی قدم سنبھلتے ہیں۔شمن کی اس چوٹ پر اُس وقت مرہم ہوئی جب رائے صاحب سے اس کی آنکھیں دوچار ہوئیں ۔مزاج کب ملتے ہیں ، زندگی میں ایسے کم ہی مواقع ملتے ہیں جب کسی بندہ خدا کو ہم مزاج ملے۔مزاجوں کا اختلاف اور امتزاج زندگی کا ایک لازمی امر ہے۔بہر صورت یہ سلسلہ بھی زیادہ دیر تک نہ چلا۔رائے صاحب نے بھی شمن کو معمولی اختلافات کی بنا پر سرِراہ چھوڑا ۔اس کے بعد اعجاز اور افتخار بھی شمن کی زندگی میں آئے ۔شمن کے دل پر بار بار چوٹ لگنے سے اُس کا دل چھلنی ہوگیا ۔وہ ایک چوٹ لگنے کے بعد دوسرے چوٹ کی منتظر رہتی آخر چوٹ پر چوٹ لگنے سے وہ سخت دل بھی بن گئی بقولِ غالب ؔ ؎
رنج سے خوگر ہو انسان تو مٹ جاتا ہے رنج
مشکلیں مجھ پر پڑی اتنی کہ آساں ہوگئیں
ازدواجی زندگی کے دوران زوجین بڑی کٹھن آزمائشوں سے بھی گذرتے ہیں ۔ان آزمائشوں کا متحمل ہونا بڑا ہی سخت ہوتا ہے ،شمن کو زندگی میں وہ کچھ نہ ملا جس سے اس کی ذاتی پہچان بن جاتی۔اس طرح اعجاز اور افتخار بھی اس کے دو اور چاہنے والے تھے مگر اُن کی چاہت اور پیار بھی سطحی تھا ،وہ بھی باری باری شمن کے راستے کو وداع کر گئے۔ وہ کوچے وہ گلیاں اب شمن کے لیے گم شدہ راستوں کے مانند تھے جیسے وہ اِدھر سے کبھی گزری ہی نہ تھی۔تنہائی اور اکیلے پن کی دوبارہ شکار شمن اپنی تقدیر کو کو ستی رہتی۔اپنی سہیلیوں اور ناطہ دارلڑکیوں کی زندگیاں اور خوشحالی کو دیکھ کر وہ اندر ہی اندرسے کُڑھتی تھی ۔یہ سلسلہ بھی کچھ عُرصہ تک چلتا رہا ۔ادھر شمن کی ہمت کو داد دینی چاہیے کہ اتنے مصائب جھیلنے کے بعد بھی وہ کبھی خود کشی یا کسی دوسرے جان لیوا خیال کو ذہن میں نہیں لاتی۔دوسرے بھائی بہنوں کے ہوتے ہوئے اُسے اپنی تنہائی اور اکیلے پن کا احساس کبھی کبھی پھیکا پڑتا تھا ۔تاہم اس اکیلے پن کو وداع کرنے کی کی غرض سے اُس نے ایک بچے کو گود لیا ۔بچے کو گود میں لینے کے بعد اس کی دنیا ہی بدل گئی۔اب اس کی ساری توجہ اسی بچے کی طرف مبذول ہوئی، اُس کے اندر ماں ہونے کا احساس جاگ اُٹھا اور خوشی خوشی اس بچے کو گود میں لیتی ،اُچھلی کودتی اسے لوریاں سناتی۔اپنے دل کا غبار اسی انداز سے دھولیتی تقدیر پھر پھوٹی اور آہ !وہ بچہ شمن کی گود میں معمولی بخار کی بنا پر دم تو ڑ بیٹھا۔غرض کہ تقدیر نے ایک اور انوکھا کھیل کھیلا ۔تقدیر کے ہاتھوں انسان مجبور ہی تو ہے۔آسمان سے گر کر کھجور میں اٹکنا اسی کو کہتے ہیں۔
دوبارہ اکیلا پن اور تنہایاں شمن کو کالے سانپ کی طرح ڈسنے لگے لیکن زیادہ دیر وہ ایسے نہ رہ سکی۔دنیا میں تو اب بھی غم خوار اور ہمدردی رکھنے والے لوگ موجود ہیںجو دوسروں کے رنج و آلام کو فرو کرنے کے لیے اپنی قربانیاں پیش کرتے ہیں ۔زندگی میں اُس وقت ایک نیا موڑ اآیا جب شمن نے رونی ٹیلر سے شادی رچائی ۔اس کی تقدیر ہی بگڑی تھی، لہٰذا یہ ہمہ وقت اپنی تقدیر پر مطمئن رہتی ۔ اس شادی کا انجام بھی خیر میں بدل نہ جاتا اگر شمن کے پاؤں بھاری نہ ہو پاتے ۔ہر مرد کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ کہ اُس کی زوجہ بچوں کی ماں بنے اور ہر عورت کا یہ خوب ہوتا ہے کہ وہ ماں بنے۔آخر کار قدرت نے شمن کو ماں بننے کا موقعہ دے ہی دیا۔ اس طرح شمن کی زندگی میں کچھ ٹھہراؤ آ جاتا ہے اور وہ پھر ایک بار خوشی محسوس کر نے لگتی ہے۔
ازدواجی زندگی میں ہمیشہ تلخیاں پیدا ہوتی رہتی ہیں، ان ہی تلخیوں سے زندگی میں لطف بھی آتا ہے۔اگر زوجین کے درمیان وقتی طور پر تلخیاں اور کھٹائی پیدا ہو بھی جاتی ہے مگر جلد ہی یہ دوریاں محبت میں بدل جاتی ہیں۔رونی ٹیلر شمن کی تند مزاجی سے بد حواس ہو کر ناراضگی کے عالم میں دور محازِ جنگ پر چلا جاتا ہے ۔اگر ہنسی خوشی زوجین ایک دوسرے سے کچھ دیر کے لیے دور ہو بھی جائیں تو یہ دل و دماغ کے اطمینان کے لیے کافی ہوتا ہے لیکن غصے اور ناراضگی کی صورت میں ایک دوسرے سے جداہوجانا ازدواجی زندگی پر ایک کاری ضرب ہوتا ہے۔رونی ٹیلر کے جانے کے بعد شمن پھر تنہا رہ جاتی ہے لیکن ماں بننے کی خبرنے اس کی زندگی میں وہ کڑواہٹ ختم کر لی جو پہلے پہلے وہ اکیلے پن میں محسوس کیا کرتی تھی۔
عصمت چغتائی نے اس طرح بچپن سے لے کر بچہ جننے تک شمن کے کردار کو اس خوش اسلوبی سے پیش کیا ہے کہ سماج کے اُن پردوں کو ہٹایا ہے جو پردے عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوتے ہیں ۔دراصل ناول نگار ان سچائیوں کو روزِ روشن کی طرح عیاں کرنے کی کوشش میں کامیاب ہوجاتا ہے جو سچائیاں شمن جیسے کردار کو سماج میں پیش آتی ہیں۔تنہائی اور اکیلے پن میں کیا گزرتی ہے اور تقدیر کے کیا کیا داؤپیچ ہوتے ہیں ، یہ وہی جانتا ہے جسے ان چیزوں کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے ۔دوسرا پہلو جو ناول نگار نے زیر بحث لایا ہے وہ ہے نفسیاتی اثرجو بچے پر کسی نہ کسی طرح پڑتا ہی ہے۔اگر بچے کو بچپن میں ماحول اچھا نہ ملا ،اُسے باپ کی شفقت اور ماں کی ممتا سے محروم رکھا گیا تو وہ ضدی اور شریر بن جاتا ہے۔ گھر کے ماحول اور گھر کے افراد کا اثر بچہ غیر شعوری طور پر قبول کرتا ہے ۔ یہ اثر بڑا ہی دوررس اور انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے ۔گھر کے ماحول ہی میں بچہ اُٹھنا بیٹھنا ۔چلنا پھرنا ،کھانا پینا ،بات چیت کرنا غرض سب کچھ سیکھتاہے، یہیں اسے وہ حقیقی محبت و شفقت ،ہمدردی و تعاون اور آسائش و ناز برداری نصیب ہو جاتی ہے جو اس کی تربیت و پرورش کے لئے نہایت ضروری ہوتی ہے۔ماں باپ،بہن بھائی، دادا دادی ، اور دوسرے عزیزواقارب مختلف حیثیتوں سے اس کے معلم واتالیق کا کردار انجام دیتے ہیں ۔انہی کے عادات و اطوار ،حرکات و سکنات کی تقلید کر کے بچہ اپنے آپ کو مختلف اوصاف سے متصف کرتا ہے۔ اس گھریلو ماحول کے نقوش بچے کے معصوم ذہن پر ثبت ہوجاتے ہیں جو زندگی کے ختم تک ان مٹ رہ جاتے ہیں۔عصمت چغتائی نے اس ناو ل میں اپنے ذاتی تجربات ،علم اور مشاہدات کا بھر پور اور بر محل مظاہرہ کیا ہے۔ مشاہدات کو جب قلم کی نوک سے بر سطح قرطاس لایا جاتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ ناول نگار یا قلم کار کی نظر میں کتنی وسعت ہے وہ کتنا دور تک دیکھ سکتا ہے۔
سماج،معاشرت ،ازدواجی زندگی،لڑکپن ،جوانی ، شباب ،دیوانگی ، خوشی ،غم ،تقدیر کا کھیل ،کامیاب اور ناکام ازدواجی زندگی ،محبت حقیقی اور مجازی ،وفا اور بے وفائی ،دوستی اور دشمنی ،تنگ نظری اور وسعت نظری ۔صبر و سکون اور بے تابیاں ، ظلم وجبر اور ہمدردی ، انسان دوستی اور آخرت پسندی ،غرض ہر پہلو کو عصمت چغتائی نے اس ناول میں ایک انوکھے انداز اور خوش اسلوبی سے پیش کیا ہے۔مجموعی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ناول نگار نے ’’ٹیڑھی لکیر‘‘کا عنوان دے کر اس ناول کو مواد ،زبان و بیان ،کردار نگاری ، واقعہ نگاری ،پلاٹ سازی ،فضا آفرینی ،فنی پختگی اور فکری شعور کے اعتبار سے نہ صرف ایک بیش قیمت سرمایے کی حیثیت دی ہے بلکہ اردو ناول نگاری کے فن میں چار چاند لگائے ہیں اور اگر یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ اس ناول نے عصمت چغتائی کو وہ مقام عطا کیاہے جو بہت کم ناول نگاروں کے حصے میں آتا ہے۔
رابطہ: کنٹریکچوَل لیکچرار۔۔۔ گورئنمنٹ ماڈل ہائر سیکنڈری اسکول، چندوسہ بارہمولہ کشمیر۔
فون نمبر:9469447331