ابھی کچھ عرصہ قبل ضلع پلوامہ کشمیر کے لیتہ پورہ گائوں میں سی آر پی ایف کے ایک رواں دواں کانوائے پر خود کش حملہ ہوا ،جس میں بشمول بمبار لگ بھگ پچاس لوگوں کی موت واقع ہوگئی۔اس حملے کی پاداش میں سارے ہندوستان میں عام طور پر اور ریاست جموں و کشمیر کے صوبہ جموں میں خاص طور پر اشتعال اُبل پڑا، جس کے نتیجے میں ہندوستان کی مختلف دانش گاہوں اور دیگر تعلیمی اداروں اداروں میں زیر تعلیم کشمیری مسلمان طلباء و طالبات کو بے حد خوف زدہ اور مارپیٹ کرکے وہاں سے نکالا گیا ۔جو لڑکے لڑکیاں ہوسٹلوں سے باہر کرایے کے کمروں میں رہتے تھے، اُن کا سامان باہر پھینک کراُنہیں قتل کرنے کی بھی دھمکیاں دی گئیں ۔ ہماچل پردیش اور اُترا کھنڈ کے گدیوں نے نہ صرف کشمیری مسلمان طلبا و طالبات کو تعلیمی اداروں سے باہر کردیا بلکہ اُن جگہوں پر کاروبار کرنے والے ،پھیری لگانے والے ،مزدوری کرنے والے مزدوروں حتیٰ کہ ایک پرفیسر سے بھی استعفیٰ طلب کرکے اُسے ریاست بدر کردیا گیا اور اُسی طرح جالندھر سے بھی ایک مسلمان پروفیسر کو بر خواست کیا گیا ۔
ریاست کے جموں صوبہ میں چُن چُن کر کشمیر نمبر والی تقریباً ساٹھ گاڑیوں کو جلا ڈالا گیا اور لگ بھگ سو دوسری گاڑیوں کو بھی بہت زیادہ نقصان پہنچایا گیا ۔چونکہ بلوائیوں نے جن میں کشمیری پنڈت نوجوانوں کی خاصی تعداد مبینہ طور شامل تھی، کے مسلم اکثریتی علاقوں جیسے گوجر نگر ،پریم نگر اور تالاب کھٹیکاںوغیرہ کا جان بوجھ کر رُخ کرکے مسلم املاک کا اتلاف کیا اور سڑک پر کھڑی کئی گاڑیوں کو نذر آتش کیا ،اُس سے یہ صاف ظاہر ہوا کہ اس حملے کوسیاسی نہیں بلکہ مذہبی رنگ دیا گیا اور صرف مسلمانوں کی املاک کو ہی پھونک ڈالا گیا ۔اس کے علاوہ دربار مُو کے سلسلہ میں جموں مقیم مسلمان ملازمین کے رہائشی علاقوں پر بھی دھاوابولا گیا ،پتھروں ،تلواروں اور لاٹھیوں سے حملے کرکے ہر ایک چیز کو تہ و بالا کر ڈالا گیا ۔دودھ پہنچانے والے گوالوں اور گھوسنوں کو پکڑ کر جیلوں میں ڈال دیا گیا ،جس میں ظاہر ہے کہ پولیس کی چھتر چھایا بھی شامل حال تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ شیر خوار بچے دودھ کے قطروں کے لئے ترستے رہے اور باقی کرفیو کے باعث سودا سلف اور راشن ،سبزی ترکاری نہ ملنے کی وجہ سے بھوکوں ہی رہے ۔کشمیری مسلمانوں خاص کر دربار مو و مسلم ملازمین کے ساتھ اس طرح کے حملے پہلی بار نہیں ہوئے،ایسے حملے سابقہ ایام میں بیسیوں بار ہوچکے ہیں ۔ میں خود بھی کافی عرصہ تک جموں جاتا رہا، اس لئے اُن حملوں اور نقصانات کا میں خود ہی شاہد بھی ہوں اور وِکٹم(Victim)بھی۔اُن حملوں کے دوران اکثر ہماری ہانڈیوں میں پتھراور شیشے کی کرچیاں چلی جاتی تھیں ، اس لئے ہمیں پکا پکایا کھانا پھینک دینا پڑتا تھا اور گالم گلوچ ،مار پیٹ سو الگ۔سابقہ پچاس ساٹھ برسوں سے ہم بھی دیکھتے آرہے ہیں کہ جموں والوں نے مختلف معاملات کو ہمیشہ ہندو اور مسلمان کی عینک سے ہی دیکھا ہے ۔ابھی زیادہ عرصہ نہیں گذرا پہلگام معاملے پر کتنا بڑا بوال اُٹھ کھڑا ہوا تھا اور اُس وقت قیمتاً خریدی ہوئی سپلائز تک روکی گئیں بلکہ چھوٹے چھوٹے بچے دودھ کے قطروں کے لئے ترستے رہے مگر جموں بیوپار منڈل ٹس سے مَس نہ ہوا ۔اُس سے بھی بہت پہلے بخشی صاحب کے دور حکومت میں پرجا پریشد نامی متعصب جماعت بار بار نتھنے پھنکارتے گڑ بڑ پھیلانے اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے لئے نکلتی۔وہ ڈنڈے کی زبان نہیں سمجھتے، اس لئے بخشی صاحب نے اُن کو کئی بار زہریلی گھاس (Nettle)کشمیری میں’’ سُوے‘‘ کا مزہ چکھوایا۔
زیر بحث ہنگاموں میں سکھ برادری نے آگے آکر مسلمانوں کی حد سے زیادہ مدد کی ،خصوصاً اُن طلبا و طالبات جو اغیار کے نرغے میں پنجاب ،چندی گڑھ ، ہریانہ وغیرہ میں پھنسے تھے اور بے یار و مددگار سڑکوں پر کس مپرسی کی حالت میں پڑے تھے۔ابھی اس ہنگامے سے چند روز قبل بھی جب قومی شاہراہ بند تھی تو سکھ برادری نے ہی جگہ جگہ لنگر کھول کر تہی دست مجبور لوگوں کے لئے نہ صرف کھانا پینا فراہم کیا بلکہ ضروری ادویات بھی میسر رکھیں ۔میں سکھ برادری کو سیلوٹ کرتا ہوں۔میرا خیال ہے کہ مغلیہ دور حکومت میں پیدا ہوئیں غلط فہمیاں دور ہورہی ہیں ۔موجودہ دور کے سکھ نوجوان نے شاید یہ بات سمجھ لی ہے کہ مغل حکمران اورنگ زیب کے ساتھ اُن کی مذہبی نہیں بلکہ ایک سیاسی جنگ تھی ۔اس لئے مسلمانوں کے ساتھ نفرت کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا اور مسلمانوں کو مارنا کوئی دین دھرم کی بات نہیں ہے ۔
جہاں تک ہم سبھی جانتے ہیں کہ سکھ مذہب لاکھوں دیوی دیوتائوں کو نہیں بلکہ صرف ایک خدا کو مانتا ہے اور اُسی کی پوجا بھی کرتا ہے ۔اُن کے لئے گورو جی کا حکم ہے :’’پوجا اکال کی‘ـ‘ یعنی بندگی صرف رب
کی ۔سکھ بُت پرست بھی نہیں ۔تفصیلات میں نے اپنے آرٹیکل ’’اول اللہ نام اُپایا ‘‘مورخہ 28نومبر 2012ء میں لکھ دی ہیں۔یہاں سکھ دھرم کے دسویں گورو شری گوبند سنگھ جی کی ایک سنہری بانی کا حوالہ دینا نامناسب نہیں ہوگا ۔اُن کا فرماناہے ؎
ساچ کہوں سن لیو سبھے
جِن پریم کیئوتِن ہی پربھ پائیو
اس گوروبانی کا مطلب یہ ہے کہ ’’اے دنیا کے لوگو!(بلا مذہب و ملت اور رنگ و نسل)میں آپ کو تمام سچائیوں کی سچائی بتاتا ہوں کہ جن لوگوں نے خدا کے بندوں سے پیار کیا اُنہی کو خدا کی رحمت اور قربت نصیب ہوگی۔‘‘
میں ایک بار پھر سکھ برادری کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں اور اُن کی توجہ گوربانی کی طرف دلاکر یہ باور کرانا چاہوں گا کہ مسلمان کہاں کا ہو ،جہاں کا ہو ، وہ بھی صرف اُسی ایک واحد ذوالجلال کا بندہ ہے اور اَن گنت خدائوں اور دیوتائوں کا پجاری نہیں________________
اول اللہ نام اُپایا قدرت دے سب بندے
اِک نور توں سب جگ اُپجیا کون بھلے کو ن مندے
میں سنت رحیمؔ کی اس بانی کے ساتھ اپنے الفاظ کا اختتام کرتا ہوں ؎
رحیما دھاگا پریم کا مت توڑ و چٹکائے
جوڑے سے پھرنا جُڑے ،جُڑے تو گانٹھ پڑجائے
…………………
رابطہ:- پوسٹ باکس :691جی پی او سرینگر -190001،کشمیر
موبائل نمبر:-9419475995