چلئے فرض کرلیتے ہیں کہ آپ کاروبار کے سلسلہ میں بدیش جاتے ہیں ۔حج و عمرہ، دیدارِ حرمین شریفین کے لئے حجاز مقدسؔمیں تشریف لے جاتے ہیں ۔ گھومنے پھر نے کے لئے کہیں بھی چلے جاتے ہیں یا پیکیج ٹور پر مشرق ِ وسطیٰ میں آثار ا لصنا دید دیکھنے جاتے ہیں ۔آپ صاحب ِاستعداد ہیں، دنیا کے چند مشہور اور خو ب صورت ملک و مقامات دیکھنے نکل پڑتے ہیں ۔مان لیجئے آپ سفر میں ہیں اور آپ کی ملاقات سحر زدہ ملک کے ایک برطانویؔ باشندے کے ساتھ ہوجاتی ہے ۔سر سبز و شاداب ملک کے رہنے والے ایک آسٹرینؔ سے ہوجاتی ہے ،سطح سمندر سے نیچے جل پریوں کے ایک بے انتہا خو ب صورت دیش کے ایک ولندیزؔی سے ہوجاتی ہے یا الف لیلوی شہزادے ، نیلگوں آنکھوں والے ایک اطالویؔ سے ہوجاتی ہے ۔مان لیجئے کہ آپ مصرؔ میں ہیں اور مصرؔ کی ناگن(Serpent of Nile)قلو پطرہ ؔکی یاد آپ کو سرسراتے سانپوں کے ایک مافوق الفطرت ماحول میں لے جاتی ہے ۔آپ بادشاہوں کی وادی (Valley of kings)کی طرف ہزاروں سال پرانے اہرام(Pyramids)یا مقبرے اور اُن بادشاہوں یا فرعونوں (Pharos)کے مقبرں سے نکلی ہوئی باقیات، سونے کے سکے اور زیورات ،منقش ظروف اور مصوری کے نمونے ،سنگ جراحت اور سنگ لاجوردکے آرائشی ٹکڑے اور فرنیچر کے ساتھ کئی اشیاء دیکھنے عجائب گھر میں جاتے ہیں ۔آپ حیران ہونے کے ساتھ مخمور و مسرر ہوجاتے ہیں یا آپ دریائے ٹیمزؔیا دریائے سونؔ کے کنارے ہلکی ہلکی چلبلی لہروں کو نہارتے کسی تنہا گوشے میں بنچ پر بیٹھے السٹر کے کالر کانوں تک چڑھائے آتے جاتے سٹیمروں کو دیکھ کر گرم گرم کافی سِپ کررہے ہوتے ہیں۔آپ کو اپنے ہم سفروں میں کسی ایک ساتھ ’’سفری دوستی‘‘ہو جاتی ہے ۔کچھ گھنٹوں کی رفاقت یا چند دنوں کا ساتھ دینے کے بعد آپ کی آپس میں بے تکلفی ہوجاتی ہے ۔
دوران ِ سفر آپ کا یہ سفری دوست آپ کو اپنے ملک کے بارے میں بلا کم و کاست تمام ضروری باتوں اور اطلاعات و حقوق ،موسم و مصروفیات وغیرہ کے بارے میں جاننا چاہتا ہے ۔یہ ایک لازمی امر ہے انسانی تجسُس سے انکار تو نہیں نا کیا جاسکتا ۔جب آپ کی باری آتی ہے تو آپ بلا شبہ جھوٹ بول سکتے ہیں ،وہ جھوٹ جو دوسرا بھی قبول کرلے بہ الفاظ دیگر ہضم کرسکے ۔آپ کو جھوٹ بولنا آتا ہے مگر حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ آپ کے منہ سے جھوٹ نکل ہی نہیں سکتا کیونکہ آپ ستم رسیدہ ہیں ، آپ کے دل کے پھپھولے جل کر تائو دیتے ہیں، ا س لئے اُس حرارت کو آپ بہر صورت باہر نکالنے کی کوشش کریں گے ،مگر آپ کی خود کی یعنی اپنی بھی کوئی مجبوری ہے ۔پھر آپ کیا کریں گے ؟مگر کیا واقعی آپ اپنے ہم سفر دوست کو بتا سکتے ہیں :
ہماری ریاست کے ایک چھوٹے سے صوبے میں ہمارے محافظ فوجی ہر دن دو چار نوجوانوں کو مار ڈالتے ہیںپھر وجہ کیا بھی ہو ،جن میں کبھی عام آدمی گھروں میں اپنا کام کاج کرنے والے ہوتے ہیں اور اگر اس ناانصافی پر احتجاج ہوتا ہے تو حیوانوں اور جنگلی درندوں پر استعمال ہونے والے پیلٹ فائر سے سواگت ہوتا ہے جن سے درجنوں لوگ مجروح ہوجاتے ہیں، جن میں بلا تخصیص مرد عورت ،بزرگ حتیٰ کہ گود میں پلنے والے شیر خوار بچے اور بچیاں بھی ہوتی ہیں ،اب تک کئی بینائی سے محروم ہوچکے ہیں ۔تعلیم یافتہ بچے اور بچیاں انتہائی بے بسی اور قنوطیت کے عالم میں اپنے جوان اور رنگین سپنوں کو ارمانوں کی اندھی دنیا میں کھوج کر اُن کی تعبیر تلاشتے رہتی ہیں۔
کیا آپ اُسے بتا سکتے ہیں کہ رات کے وقت جب کسی جگہ یا گائوں کا فوج سے کریک ڈاون ہوتا ہے تو پورے گائوں میں منفی سردی میں کسی بھی وقت ایک آفت آجاتی ہے ؟بوڑھے اور بچے اکثر سردی لگنے کی وجہ سے بیمار پڑجاتے ہیں ۔اگر اتفاقاً سیکورٹی عملے کو خالی ہاتھ لوٹنا پڑتا ہے تو وہ گھروں کے فریج،ٹی وی ، کراکری،برتن ،کھڑکیوں کے شیشے ،کبھی دروازے اور کھڑکیاں اور صحن میں کھڑی گاڑیوں کی تور پھوڑ کردیتے ہیں؟
کیا آپ اُسے بتا سکتے ہیں کہ جائز انسانی یا پیدائشی حق حیات مانگنے کی پاداش میں ہمارے صوبے میں سابقہ اُنتیس برسوں میں سوا لاکھ لوگ مارے گئے اور ہزاروں غائب ہوگئے ۔اُن لوگو ں میں نصف سے کم جنگجو اور باقی عام آدمی ،مستورات ،طالب علم ،ڈاکٹر ،انجینئر ،اساتذہ اور صحافی، عام خام وغیرہ شامل تھے ۔ زیر حراست گم شدہ لوگوں کا کبھی کوئی اَتہ پتہ ہی نہ چلا ؟
کیا آپ اُس سفری دوست کو بتا سکتے ہیں کہ ہسپتالوں کی حالت بہت بُری ہے ۔مریض کو تقریباً ساری دوائیاں بازار سے ہی خرید کر لانا پڑتی ہیں اور سب سے بڑے اور مشہور ہسپتال میں ہسپتال کا سٹاف تیمارداروں کو ہی مریض اُٹھانے ،پلٹنے ،لٹانے کے لئے کہتے ہیں ،پھر آئی یو سی ہی کیوں نہ ہو اور اُس پر ستم ظریفی یہ ہے کہ جو ادویات وغیرہ مریض کے لئے بازار سے منگائی جاتی ہیں وہ دوسرے دروازے سے اُسی دکان پر واپس پہنچ جاتی ہیں؟
کیا آپ اُس کو بتا سکتے ہیں کہ ہماری ریاست پانی کے حوالے سے مالا مال ہونے کی وجہ سے بہت ساری بجلی پیدا کرکے دوسری ریاستوں کو بھی دیتی ہے مگر بچو لیئے ایسے ہیں کہ وہ ہمیں اُس کا معاوضہ تو دور کی بات رہی، معاوضے میں سے ایک پھوٹی کو ڑی تک نہیں دیتے ؟حیران کن بات یہ ہے کہ خود ہم اندھیروں میں ڈوبے رہتے ہیں اور وہ بھی خصوصاً سردیوں کے سات ماہ کے دوران جب گرمی اور روشنی کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے اور جن دیگر ریاستوں کو ہم پاور سپلائی کرکے منور کرتے ہیں،وہاں چوبیس گھنٹے بجلی جگ مگ کرتی رہتی ہے اور ہم ملگجی شاموں اور تاریک راتوں میں آہ و فغاں کے ساتھ جھوجتے رہتے ہیں ؟کیا یہ ستم ظریفی نہیں کہ بقول شاعر ؎
میں نے بخشی ہے تاریکیوں کو ضیا
اور خود ایک تجلی کا محتاج ہوں
روشنی دینے والے کو کم سے کم
اِک دِیا چاہئے اپنے گھر کے لئے
(باقی ہے……….)
رابطہ:- پوسٹ باکس :691جی پی او سرینگر -190001،کشمیر
موبائل نمبر:-9419475995