بچے قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔یہ گلشن کے ایسے پھول ہیں جو اللہ کو بھی پیارے ہوتے ہیں۔بچے والدین کی دنیا وی زندگی کے لیے زینت ،گھر کے لئے خیر وبرکت اور خاندان کا تسلسل برقرار رکھنے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ہروالدین کواپنے بچوں سے طرح طرح کی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں۔اس لئے زیادہ تر والدین بچوں کے پیار و محبت میں یرغمال ہوکر حد سے زیادہ تجاوز کرتے ہیں جس کے نتیجہ میں انہیں طرح طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اس میں کوئی دورائے نہیں کہ اولاد کی نشو و نما اورتربیت کے لئے والدین پر بہت ساری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں،جنہیں پورا کرنا ہر والدین کے فرائض میں شامل ہوتا ہے۔مناسب توجہ ،ہمدردی ،شفقت،پیارو محبت اس دنیا میں آنے والے ہر بچے کا حق ہے۔اس لئے اُسے ان کا حق ضرور دینا چاہئے مگروالدین کے فرائض میں اولاد کی بہترین تعلیم و تربیت کو اولین درجہ دیا گیا ہے کیونکہ اگر والدین اپنے بچے کی تربیت صحیح ڈھنگ اور دینی سانچے میں نہیں کرتے ہیںتو ایک نسل برباد ہوجاتی ہے۔ دراصل انسانی پود اُس پاک زرخیز زمین جیسی ہوتی ہے ،اس میں جو کچھ بویا جاتا ہے وہی اُگ آتا ہے۔اگر نیکی اور اخلاقی تہذیب کا بیج بویاجائے تو اولادیعنی قوم کا مستقبل بھی سعادتوں کی حامل ہوگی اور اگر والدین کی بے احتیاطی اور غیر ذمہ دارانہ کارکردگی سے بچوں کے اندر بْری خصلتیں پیدا ہوجاتی ہیںتو اس کا خمیازہ نہ صرف اُنہیں خود بلکہ دوسروں کو بھی بھگتنا پڑتا ہے۔اب ذرا غور فرمایئے کہ کرونا وبا اور لاک ڈاون کے باعث جہاں ہر سْو تباہی مچی ہوئی ہے وہاں گھروں میں مقید ہماری نئی نسل بھی بْری طرح متاثر ہوچکی ہے۔ پڑھائی سے دور ہوکر ہمارا مستقبل محض موبائل گیمز میں بند ہو کر رہ گیا ہے۔ہر بچے کے ہاتھ میں سمارٹ موبائل فون ہے ،جن پر ایسی گیمز کھیلی جا رہی ہیںجن سے نہ صرف ان کی عادت بگڑ جاتی ہے بلکہ اُن کی تعلیم پربھی منفی اثرات پڑتے ہیں۔
کورونا وائرس کے پھیلائو کی روک تھام کے لئے لاک ڈاون جاری ہے۔دنیا بھر میں لاکھوں لوگ اس وبا سے متاثر ہوئے وہیںہر روز ہلاکتیں ہو رہی ہیں ،ہمارے ملک میں بھی یہ وبا اب تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے۔جموں وکشمیر کی اگر بات کریں تو یہاں پر بھی روزانہ 20سے زیادہ افراد اس وبا سے متاثر ہو رہے ہیں۔ زندگی کا ہر شعبہ مفلوج ہوکر رہ گیا ہے۔ہمارے یہاں لاک ڈاون کے سب سے زیادہ منفی اثرات ہماری نئی نسل پر پڑ رہے ہیں جو کہ ملت و قوم کا مستقبل کہلاتا ہے۔جنہوں نے عصری و دینی تعلیم کے حصول کو یکسر بالائے طاق رکھکراپنا زیادہ تر وقت موبائل فونز کے ساتھ گزارنا ہی پسند کرلیا ہے ،گویا کہ ان کے لئے موبائل فون زندگی گزارنے کا ایک ایسا سہارابن گیا ہے جس کے بغیر وہ لمحہ بھر بھی نہیں رہ پاتے ہیں۔درسی کتابوں کی پڑھائی کے بجائے فونز پر مختلف قسم کی گیمز کھیلنا ہی اْن کا مشغلہ رہ گیا ہے۔حدتو یہ ہے کہ جیسے ہی گذشتہ دنوںپلوامہ انکاونٹر کے بعد انٹر نیٹ سروس بند کردی گئی تو بیشتر بچوں کے والدین کو کھلونوں اور دیگر دکانوں کی طرف رُخ کرنا پڑا تاکہ وہ بچوں کیلئے گیمز خرید کر لائیں۔محکمہ ایجوکیشن کی جانب سے اگرچہ جموں وکشمیرمیں زیر تعلیم بچوں کے لئے آ ن لائن کلاسز شروع کی گئی ہیں لیکن یہ کلاسز تاحال بے سود ثابت ہو رہے ہیں کیونکہ کشمیر وادی میں انٹر نیٹ سروس وقفہ وقفہ کے بعد منقطع بھی کی جاتی ہے جبکہ جموں وکشمیر میں سینکڑوں علاقے ایسے بھی ہیں جہاں انٹر نیٹ اور مواصلاتی نظام کی کوئی سہولت دستیاب ہی نہیں۔ کئی والدین ایسے بھی جنہیں بچوں کی تعلیم جاری رکھنے کے لئے سمارٹ فون خریدنے کی سکت نہیں۔یہ بھی دیکھنے میں آرہا ہے کہ جہاں انٹر نیٹ کی سہولیات ہیں، وہاں پر بھی زیر تعلیم بچوں کو آن لائن کلاسز ڈائون لوڈ کرنے میںکافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔مختلف مقامات پرآن لاین کلاسز ڈاون لوڈ کرنے میں گھنٹوں لگ جاتے ہیں، جس سے ان کا زیادہ تر وقت ضائع ہوتا رہتا ہے۔ اگرچہ محکمہ ایجوکیشن یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ انہوں نے دور درشن اور ریڈیو پر بھی کلاسز کا انعقاد شروع کیا ہے لیکن وادی کے متعدد علاقوں میں لوگ بجلی کی سہولت سے بھی محروم ہیں ایسے میں محکمہ کی جانب سے آن لائن کلاسز کا جاری رکھنا فایدہ مند ثابت نہیں ہوتا
لاک ڈائون کاایک تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ کچھ ایک بچوں نے موبائلز پر خطرناک گیمز کھیلنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے، جسے معالجین انتہائی خطرناک قرار دے رہے ہیں۔ لاک ڈائون کے باعث میں گھروں میں محصور بچے دن بھر انہی گیمز میں مشغول رہتے ہیں جس کے نتیجہ میں ان کی حرکات و سکنات میں بھی فرق پڑچکا ہے۔جس کے سبب والدین میں کافی حد تک پریشانی بڑھ رہی ہے کیونکہ انہوں نے گھروں میں نہ صرف ٹی پر کاٹون اور موبائل پر ویڈیو کھیلنا شروع کر دیا ہے بلکہ انہوں نے پب جی جیسی خطرناک گیم کے علاوہ ہوپ لیس ،فری فائر ،کال آف ڈیوٹی نامی گیموں کا سہارا لیا ہے جو محالجین کے مطابق اُن کی ذہنی وجسمانی صحت پر مضر اثرات ڈال دیتی ہے۔ فری فائر اور پب جی نامی خطرناک گیمز بھی بچوں کا ایک مشغلہ بن چکی ہیں ان دونوں گیمز کو کھیلنے کیلئے چار چار گھلاڑیوں کی ضرور ت ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ فری فائر گیمزروزانہ 5لاکھ نوجوان اور بچے ایک ساتھ کھیلتے ہیں اور گیمز کھیلنے کے دوران یہ لوگ آپس میں باتیں بھی کرتے رہتے ہیں۔کئی ایک بچوں سے بات کرنے کے بعد معلوم ہوا ہے کہ ان گیمز کے دوران ، اگر کسی کھلاڑی کو ہتھیار یا اس میں استعمال ہونے والا گولہ بارود ختم ہو جائے تو بات چیت کے دوران اپنے ساتھی سے اس کی مانگ کر سکتے ہیں اور ہر ایک کھلاڑی کی یہ کوشش ہوتی ہے وہ جلد ہی اس مشن کو پورا کرے اورمشن پورا نہ ہونے پر وہ کھانا پینا چھوڑ دیتے ہیں،غصہ کرتے ہیں اور شرارتی بن جاتے ہیں۔ گیمز کھیلنے والے ایک بچے کا کہنا ہے کہ ہم صرف فری فائر اور پب جی گیم ہی نہیں کھیلتے بلکہ کال آف ڈپٹی ، ہوپ لس جیسی گلمز بھی کھیلتے ہیں۔
ماہر اطفال ڈاکٹر مظفر جان کہتے ہیں کہ اس لاک ڈائون کا سب سے زیادہ اثر اگر کسی پر پڑا ہے تو وہ ہمارے بچے ہی ہیں ،ان کا کہنا ہے کہ بچوں کیلئے ایک اچھی بات یہ تھی کہ والدین اب ان کے ساتھ گھروں میں تھے لیکن کچھ بچوں کیلئے موبائل گیمز ان کی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ گیمز کچھ وقت کیلئے کھیلنا ٹھیک ہے لیکن پانچ سے 6گھنٹے بچوں کے ہاتھ میں موبائل رہنے سے جہاںبچوں کی نشونما بری طرح سے متاثر ہوجاتی ہے وہیں وہ درس و تدریس سے بھی دوری اختیار کرلیتے ہیں۔محالجین کہتے ہیں کہ ان گیمز کھیلنے سے بچے ذہنی طور پر بیمار ہو رہے ہیں اور اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو ہم اپنے مستقبل کو آنے والے وقتوں میں بیمار اور خستہ حال پائیں گے۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ بچے وہی کرتے ہیں جو ان کے سامنے عملی طور پیش کیا جائے ،علم تو کتابوں سے مل جاتا ہے مگر تربیت اور کردار کی تعمیر کے لئے عملی نمونے کی ضرورت ہوتی ہے ،بلاشبہ بچوں کی پہلی تربیت گاہ اس کا گھر اور گھریلو ماحول ہوتا ہے۔ہمیں چاہئے کہ ہم بچوں کی تربیت کے لئے گھریلو ماحول خوشگوار بنائیں۔عموماً مائیں اپنے بچوں کو بے جا لاڈ پیار سے بگاڑ دیتی ہیں ،جس سے وہ کسی کام کے نہیںرہ جاتے ہیں۔ہاں! آپ اپنے بچے پر بھر پور توجہ دیجئے لیکن اعتدال کے ساتھ ،کیونکہ میانہ روی اور اعتدال پر پوری کائنات کا نظام ہے۔