موجودہ لاک ڈائون کے اعلان کے دو تین دِن بعد ہی مہاجر مزدوروں کی اپنے گھر جانے کی بہت زیادہ تڑپ دیکھی گئی ۔’سماسماجی دوری‘ بنا ئے رکھنے کی سخت آگاہیوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے دلّی۔ یوپی سرحدپرہزاروں کی بھیڑ امڈ آئی۔سروں پر گٹھریاں، کندھوں پر تھیلے، بغل میں بچّے اور سینکڑوں میل کے سفر کی تیاری۔یہ سفر کتنے سو کلومیٹر ہوگا، نہ جانکاری اور نہ جاننے کی تمنا ، بس جانا ہے اور جانا ہے۔ کسی طرح یوپی سرکار نے بسوں کا انتظام کر دیا۔کچھ سواریاں بسوں کے اندر اور کچھ چھتوں پر۔ سرکار نے سوچا جو ہوگا دیکھا جائے گا، ان کو ایک بار یہاں سے نکالو۔ اس کے بعد ایسی ہی بھیڑ دلّی کے دوسرے کناروں پر جُڑنے لگی۔ اب بسیں نہیں ریل گاڑیاں نہیں، سب کچھ بند۔ جن ریاستوںکو انہوں نے جانا، وہ بول رہیں مت آئو، کچھ کو اپنی ریاستوں سے ان کے گزرنے پر اعتراض ہے۔ چاروں طرف گھبراہٹ ہی گھبراہٹ، کورونا کی نہیں، گھر جانے کی۔
پیدل جانے کی تیاری دھمکی نہیں تھی، حقیقی تھی۔ لوگ ہاتھوں میںنقشہ لئے بغیر ہی چل دئے۔ بہت لوگوں کو سو یا دو سو کلومیٹر طے کر لینے کے بعد پولیس نے واپس کیا۔اب وہ ریل کی پٹریوں پر چلنے لگے، کئی رستے میں لوٹے گئے، کچھ بھوک اور تھکاوٹ سے مرے اور آخر دردناک حادثے کے شکار بھی ہوئے۔ ان کو زندہ ہوتے سپیشل ٹرین نہیں ملی، اب ان کی لاشیں لے کر جانے کے لئے مل گئی ہے، دیر آید درست آید، شکریہ سرکار جی۔
شروع شروع میں راشن ددی گئی، کچھ خیراتی تنظیموں اور سرکاری اداروں نے بھی لنگر لگائے، پہلے دو وقت پھر ایک وقت، پہلے کچھ دن روٹی ،سبزی اور دال، پھر دال چاول اور آخر کڑھی چاول۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ لنگر اتنی دیر چلانے ہوںگے۔ خیر ان کی بہت تعریف، ان کا بہت شکریہ۔ مکان مالکوں کو کرایہ نہ لینے کی اپیلیں ہو گئیں۔ بہت لوگوں کو مدد ملتی رہنے، نوکریاں، روزگار اور کاروبار جلدی کھلنے کی امیدیںجتائی گئیں لیکن پھر بھی گھر جانے، دیس جانے، کی چاہ ختم نہیں ہوئی، یہ رٹ ختم نہیں ہوئی۔ لوگ جا رہے ہیں، مر رہے ہیں اور مرنے کو تیار بھی ہیں۔ لیکن آخر کیوں، ایسی بے صبری کیوں۔ اس کے کئی وجوہات ہوںگے، ان کو سمجھنا ہوگا اور اسی کے لئے راقم کو اپنا ایک ذاتی تجربہ یاد آرہا ہے۔
جون 1984کو امرتسر میں بلیوسٹار آپریشن ہوا ۔سارے پنجاب میں کرفیولگا تھا۔ میں صرف ایک دِن کے لئے اپنے بیمار پتا جی کا پتا لینے اپنے گانو امرتسر ضلع میں گیا تھا۔اگلے دن صبح 5بجے کی بس پر واپسی کا پروگرام تھا۔ لیکن کوئی بس نہیں گاڑی نہیں، سبھی طرف سُنسان اور فوج کی گشت۔ یہ 24 گھنٹے کا کرفیو تھا، اگلے دین پھر 24گھنٹے کا کرفیو، اُس کے اگلے دن بھی اور اس کے اگلے دن بھی۔یہ کب تک چلنا تھا کوئی پتا نہیں چلتا تھا۔ اس وقت میری گھروالی اور بیٹا چنڈی گڑھ کے نزدیک سورج پور سیمنٹ فیکٹری کی کالونی میں رہتے تھے۔ چوتھے دِن میرا صبر ٹوٹ گیا، میںنے اپنے چھوٹے بھائی کا سائیکل پکڑا اور چل دیا۔
سارا پنجاب فوج کے حوالے تھا۔ سڑکوں پر سائیکل کی اجازت نہیں تھی۔میں راوی کی نہر کے کنارے کنارے چل دیا۔یہاں آ کر پتا چلا کہ فوج کسی بھی حالت میں بیاس دریا کا پُل نہیں پار کرنے دیگی بلکہ پکڑ کر بھی بٹھا سکتی ہے۔میں نے اسی نہر کی پٹری سے ہی پٹھانکوٹ کے پاس ہماچل میں داخل ہونے کی سوچی۔ راستے میں لوگوں کے گھروں اور گرودواروں میں روٹی کھاتا اور راتیں کاٹتا میں تیسرے دن ہماچل کے قصبہ اندورا پہنچ گیا۔یہاں سے بس پکڑ کر رات تک کانگڑا اور وہاں سے رات کو دلّی جانے والی بس پکڑی۔ اُن دنوں کانگڑا سے دلّی جانے والی بسیں پنجاب سے باہرباہرہماچل کے شہر اوُنا، نینا دیوی، نالاگڑھ اور پنجور ہو کر دلّی جاتی تھیں۔ ایسی ایک بس نے مجھے صبح دس بجے پنجور سے آگے سورج پُور پہنچا دیا۔ میری آمد بارے میری گھر والی آج تک یہ بتاتی ہے کہ ’’کالا رنگ اور کیچڑ بھرے کپڑے‘۔
آج جب میں مہاجر مزدوروں کی تڑپ دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ 1984کے اس کرفیو میں میں تو اپنے پیدائشی گائوں میں اپنے ماں باپ اور بھائیو کے پاس ہی بیٹھا تھا۔ میرے سامنے کھانے کا مسئلہ نہیں تھا، پینے کا مسئلہ نہیں تھا، رہنے کا مسئلہ نہیں تھا۔ان حالات میں اگر میں وہاں نہیں رُک سکا،مصیبتیں اٹھا کر بھی آیا، تو ان مہاجر مزدوروں کے جذبات سمجھنا میرے لئے مشکل نہیں ۔ ان کی دشواریاں بہت بڑ ی ہیں۔ جب ایک دم سے بسیں اور گاڑیاں بند ہو گئیں تو ان کے تو ہوش گُم ہو گئے۔ اصل میں اسی بات سے گھبراہٹ ہو گئی۔لوگوں کو پہلی بار احساس ہوا کہ وہ گھر سے اور گھر والوں سے کتنے دور ہیں۔صرف اب ہی پردیسی ہونے کا احساس ہوا۔ جب چاروں طرف موت کی باتیں چلیں تو ان کو خیال آیا کہ اگر مرنا ہی ہے تو گھر جا کر مریں، چار بندے اٹھا بھی لیںگے، غم کرنے بھی آ جائیںگے، یہاں کون آئیگا، کس طرح آئیگا۔
میرے ساتھ ہی ملتی مثال حضور صاحب کے زیارتیوں کی ہے۔ ان کو بھی وہاں دو وقت کا اچھا کھانا، چائے ناشتہ اور رہنے کی پوری سہولتیں تھیں۔ لیکن وہ وہاں ٹِکے نہیں، ٹِک بھی نہیں سکتے تھے۔ انہوں نے بھی گھر جانے کی دہائی مچائی۔ آخر پنجاب سرکار کو ان کے لئے بسوں کا انتظام کرنا پڑا، حالانکہ ان کو بھی پنجاب کے تبلیغی ہونے کا فتوی مل گیا۔ ان کے بہت سارے بندے پنجاب میں پازیٹو نکل آئے۔بس اتنا شکر ہے کہ اُن پر کرونا لانے کی سازش کرنے کا الزام نہیں لگا۔
ایسے طبقوں کے علاوہ بھی بہت لوگ ہیں جو ایک یا دو دِن کے لئے اپنی رشتہ داری میں یا کسی کام گئے تھے ،ان کو مہینہ بھر وہاں رُکنا پڑا۔ ایسے رُکنا کسی بھی بندے کے لئے آسان نہیں ہے۔ ایسی تکلیف وہی سمجھ سکتے ہیں جنہوں نے جھیلی ہے۔ایک اور بات کا بھی خیال آتا ہے کہ جب بندشیں اور کرفیو اتنا پریشان کرتے ہیں، بندے کا جلدی صبر ٹوٹتا ہے تو ہمارے کشمیری بھائی بہنوں کی کیسے گزرتی ہو گی جو آئے دن کرفیو دیکھتے رہتے ہیں۔ سالہا سال بندشوں سے ان کا بھی تو صبر ٹوٹتا ہوگا۔
دراصل ’کل سے ہی لاک ڈائون، سب کچھ کل سے ہی بند‘ کے شاہی فرمان اور تانا شاہی حکم نے بہت تباہی مچائی۔کچھ لوگ اس کو صحیح وقت پر اُٹھایا گیاصحیح قدم بتاتے ہیں، وہ غلط ہیں۔ یہ بہت دیرسے اُٹھایاگیا بے سمجھی کا قدم تھا جو ہو سکتا ہے کہ گھبراہٹ میں جلدبازی میں لیاگیا ہو۔ لوگ بول رہے ہیں کہ ایسا ہی نقصان ’آج سے سب کچھ کھولنے سے ہو سکتا ہے‘۔ پوچھا جا رہا ہے کہ اگر عام دنوں کی طرح ہی گاڑیاں چلا دینی تھیں تو مہاجر مزدوروں کی سپیشل گاڑیاں، شرمک ایکسپریسوں کے ڈرامے کی کیا ضرورت تھی۔
عام سواری گاڑیاں چلانے سے ایک بار پھر مہاجر مزدوروں کے انتظام میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔جب ’گھر کے اندر رہو، گھر کے اندر ہی رہو‘ کے نعرے لگائے جا رہے ہیں تو ان مہاجز مزدوروں کو پہلے گھرجانے دو، چاہے پہنچتے ہوئے ان کا بھی رنگ کالا ہو جائے اور کپڑے کیچڑ جیسے ہو جائیں۔
رابطہ :چندی گڑھ،موبائل نمبر: 98783 75903