کبھی کبھار زندگی میںکچھ خبریں ایسی سننے کو ملتی ہیں جنہیں سن کرآپ گنگ ہو جاتے ہیں۔ چاہتے ہوئے بھی کچھ نہیں کہہ پاتے بلکہ صرف کفِ افسوس ملتے رہتے ہیں۔ ایسا ہی گہرا افسوس مجھے14اپریل کی شام کوہوا جب کرناہ سے یہ خبر سننے کو ملی کہ محمد مقبول خان اچانک رحلت کرگئے۔ اُس وقت میں شہربین سیکشن میں مقصود صاحب کے ساتھ مختلف اضلاع سے موصول ہوئی رپورٹس کو ایڈٹ کر رہا تھا ۔جوں ہی یہ خبر میں نے مقصود صاحب سے شیئر کی تو ہم دونوں شسدر رہ گئے۔ ہمارے لئے یقین کر پانا بہت مشکل تھا ۔اس کی ایک خاص وجہ یہ بھی تھی کہ اپریل کے وسط میں آل انڈیا ریڈیو کے شعبہ پہاڑی اور شہربین کی ٹیم وادی کرناہ کے دورے پر جانے والی تھی ۔ کئی مرتبہ مقبول خان سے اس ضمن میں بات بھی ہو چکی تھی مگرکرونا وائرس کے پیش نظر ہوئے لاک ڈائوں کی وجہ سے یہ پروگرام مؤخر کرنا پڑا تھا ۔
پہا ڑی زبان کے احیائے نو کے سرکردہ سالار ،نامور گلوکار، موسیقار ،ڈرامہ آرٹسٹ اور کرناہ کلچرل کلب کے بانی ممبرمرحوم محمد مقبول خان کا جنم 2جولائی1947 کو لونٹھہ پتی ٹنگڈار کرناہ میں ہوا۔ بائز مڈل اسکول کھوڈپارا کرناہ سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ محکمہ پولیس میں تعینات ہو گئے اور2005میںسب انسپکٹرکے عہدے سے سبکدوش ہوئے۔
زبان و ادب کی ترویج میں محمد مقبول خان کا ایک اہم کردار رہا ہے جسے کبھی بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ مرحوم کو اللہ تعالیٰ نے کئی صفات سے مالا مال کیا تھا ۔آپ نہ صرف ایک اچھے گلوکار، موسیقار اوراداکار تھے بلکہ پہاڑی ثقافتی، تمدنی، اور لسانی تحریک کے سچے سپاہی تھے۔70کے اوائل میں جب پہاڑی تحریک کے بنیادی خدوخال تیاری کے مراحل میں تھے۔ آپ تبھی اپنی زبان اور کلچر کی ترویج کے لئے کمر بستہ رہے ۔آل جموں و کشمیرپہاڑی کلچرل اینڈ ویلفیئرفورم کے قیام سے قبل ہی سال-74 1973میں وادی کرناہ میں ’’ پہاڑی کلچرل کلب کرناہ‘‘ کا قیام عمل میں لایا جا چکا تھا اور مرحوم محمدعالم قریشی کی سربراہی میںاس کلب میں گائے جانے والے پہاڑی لوک گیتوں اور فنکاروں کا اس تحریک میں ایک اہم کردار رہا ۔ ان فنکاروں میں محمد مقبول خان اپنے ساتھیوں عبدالرشید قریشی، عبدالرشید لون، غلام حسن ڈار، میر غلام حیدر ندیم وغیرہ کے ہمراہ پیش پیش تھے۔ کرناہ کلچرل کلب میںان فنکاروں نے لوک گیت گانا اور اسٹیج ڈرامے پیش کرنا شروع کئے۔ ان گیتوں اور ڈراموں سے متاثر ہو کر پہاڑی قوم اپنے احیائے نوکیلئے راغب ہوئی ۔ ان فنکاروں نے پہاڑی کے لوگ گیتوں کو لوگوں کے سینوں سے مستعارکرلوگوں میں آگہی پیدا کرنے کا وسیلہ بنایا اور یوں یہ فورم کے بنیادی مقصد کے ساتھ جڑ گئے ۔
محمد مقبول خان کی زندگی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ آپ ایک اچھے سپورٹس مین تھے اورآپ ملکی سطح پر کئی انعامات بھی حاصل کئے تھے۔ آپ والی بال اور کرکٹ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے اور اپنی ٹیم کو اکثرجیت سے ہمکنار کراتے۔قابل ذکر ہے کہ کرناہ کلچرل کلب کی بنیاد سے بھی پہلے کرناہ میں ایک سپورٹس کلب تھا جو شاہین کلب کے نام سے جانا جاتا تھا ، غالباً یہ کلب آج بھی موجود ہے۔ محمد مقبول خان مذکورہ کلب کے ساتھ بھی وابستہ تھے اور اس کلب کے زیر اہتمام کھیلوں میں بڑھ چڑھ کر شمولیت کرتے رہے ۔یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ محمد عالم قریشی کے بڑے بھائی، مرحوم قاضی غلام سرور، جو اُس وقت فیزیکل ایجوکیشن ٹیچر مڈل سکول ٹیٹوال تھے،نے اس کلب کی بنیاد ڈالی تھی۔ یہ وہی سکول ہے جو آج بوائز ہائر سکینڈری سکول کنڈی کرناہ کے نام سے جاناجاتاہے ۔
2اکتوبر1979ء کوآل انڈیا ریڈیوسرینگر سے پہاڑی پروگرام کی شروعات ہوئی ۔ آل انڈیا ریڈیو سرینگر کے پہاڑی پروگرام کے توسط سے پہاڑی کے مایہ ناز گلوکاروں کو اپنا فن سامعین کے وسیع حلقے تک پہنچانے کا موقع ملا جس سے پہاڑی زبان و ادب،موسیقی اور ثقافت، سب ایک نئی زندگی پا گئے ۔ان گلوکاروں میں محمد عالم قریشی، عبدالرشید قریشی، بشیر باغاتی ،سید محمد اقبال ملنگامی، بیگم جان ، گلاب جان ، فیاض خان ، اور رضیہ بانو وغیرہ کے ساتھ ساتھ محمد مقبول خان بھی پیش پیش تھے۔ مرحوم کے گائے گیت آج بھی لوگوں میں مشہور ہیں۔ پہاڑی پروگرام کے پرڈیوسر مقصود احمد کے مطابق پہاڑی پروگرام کے فون ان پروگرام ہیلو پہاڑی فرمائش میں محمد مقبول خان کے گیتوں کی آئے روز فرمائشیں آتی رہی ہیں۔ لوگوں کا بار بار ان کے گیتوں کی فرمائش کرنا ظاہر کرتا ہے کہ مقبول واقعی ایک وسیع حلقے میں مقبول ہیں ۔ ان کے مشہور گیتوں میں ، توہڑے پچھے میں رفلی ہوئیاں ، کنگی، چینگنا دا بُوٹا ، تتری وغیرہ قابل ذکر ہیں جبکہ قوالیوں میں، جھوٹا سب سنسار، اکھ مستانی یاردی، مدینے کھڑیں یک وار خدایا وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ محمد مقبول خان نے کرناہ کلچرل کلب کی جانب سے اسٹیج کئے گئے ڈراموں میں اداکاری بھی کی اور اپنے مخصوص انداز سے سامعین سے داد حاصل کی۔ کلب کے ان ڈراموں کو پہاڑی قوم کو خواب غفلت سے بیدار کرانے کے وسیلے کے طور پر استعمال کیا گیا اور لوگوں میں یہ ڈرامے اتنے مقبول ہوئے کہ بیسیوں مرتبہ سٹیج کئے گئے۔ ان مشہور ڈراموں میں ’’کریما‘‘،’’ بے حصمی بوری‘‘،’’ جیندا‘‘، ’’چھل بٹیاں‘‘،’’ بکھیڑا‘‘،’’اُدھورے خاب‘‘،’’ شرطیہ طلاق‘‘،’’ نیم حکیم خطرہ جان‘‘ قابل ذکر ہیں۔
محمد مقبول خان اپنے مخصوص انداز، ملنساری، اخلاق اور فنکارانہ صلاحیتوں کے طفیل بے انتہا مقبول ہیں ۔ اس مقبولیت کا ایک پہلو انکی نیک سیرتی، انسان دوستی اور خوش اخلاقی اور جذباتی ہمدردی تھی۔ مقبول خان موسیقی کے تقریباً تمام آلات بجانے پر قدرت رکھتے تھے۔ کرناہ کلچرل کلب کے فنکاروں میں مرحوم نور احمد قریشی کے بعد بنجو ( موسیقی کا مخصوص آلہ) مقبول خان ہی بجایا کرتے تھے۔ یہ خصوصی آلہ بجانا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ۔ مگر افسوس کہ آج اس آلہ کی تانیں ہمیشہ کے لئے بند ہو چکی ہیں۔ محمد مقبول خان بھلے ہی آج ہمارے بیچ نہیں ہیں مگر وہ اپنی اعلیٰ خدمات اور فن کے طفیل ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ اللہ مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے ۔آمین ؎
ہزروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
رابطہ :ولی وار لار گاندربل
موبائل نمبر: 9697394893