مصیبتوں کو مرے گھر کا جب پتہ دینا
مرے خدا مجھے لڑنے کا حوصلہ دینا
10مئی خاموشی سے گزرگیا ہے۔اسی تاریخ کو 163سال پہلے ہندوستانیوں نے انگریزوں کے خلاف آزادی کی جنگ لڑی تھی، جس کی ابتدا میرٹھ سے ہوئی تھی، جہاں 85 ہندوستانی فوجیوں نے چربی لگے کارتوس والے بندوقوں کو چلانے سے منع کردیاتھا اور انگریزوں نے ان پر بغاوت کاالزام لگا کر ان کا کورٹ مارشل کردیاتھا۔ جس کے بعد بغاوت کایہ سلسلہ پورے شمالی ہند میں پھیل گیاتھا۔ ان85 سپاہیوں کو جنہیں انگریزوں نے بغاوت کے الزام میں قید کیاتھا، ان میں سے 51 مسلمان تھے۔ گو یہ جنگ بادشاہ بہادرشاہ ظفر کی قیادت میں لڑی گئی تھی جس کی کمان منگل پانڈے شہید کے ہاتھوں میں تھی۔ ویسے اس جنگ میں 85 سے 90 فیصد مسلمانوں،خاص کر علمائے کرام نے حصہ لیاتھا، جس کی ایک لمبی فہرست ہے۔ جنگ آزادی یوں تو1730سے ہی شروع ہوگئی تھی اور 1785میں پلاسی کے میدان میں سراج الدولہ نے بھی انگریزوں سے دودوہاتھ کیے مگر اپنوں کی منافقت کی وجہ سے وہ کامیاب نہ ہوسکے اور یہ آخری معرکہ سرنگاپٹنم میں ٹیپوسلطان سے ہوا ،جس میں وہ شہیدہوگئے۔ یہاں بھی انگریزوں کاساتھ مرہٹوں اور حیدرآباد کے نواب صادق نے دیاتھا ؎
جعفر از بنگال صادق از دکن
ننگ ایماں، ننگ دیں، ننگ وطن
یہ باتیں بہت پرانی ہوگئی ہیںلیکن تاریخ ہند کا حصہ بھی ہیںاورجنگ آزادی میں مسلمانوںکی سرگرم شرکت،قربانی اور شہادت کی یاد بھی تازہ کرنے والی ہیں۔ آزادی کے 73سال بعدآج ہندوستاں کہاں کھڑاہے، کبھی آپ نے سوچا؟ اس وقت جو ملک کے حالات ہیں ،ذرا غور سے دیکھئے اورسوچئے کہ ہمارے ملک میں یہ سب کیاہورہاہے۔ گوہماری حکومت بڑی تندہی کے ساتھ کورونا سے نبردآزماہے اورملک میں کوروناکی وباء کوپھیلنے سے روکنے کیلئے جوکچھ وہ کررہی ہے وہ بھی آپ سب کے سامنے ہے مگر افسوس ہوتاہے یہ دیکھ کر، جب حکومت کے لوگ اس دوران نہایت بے شرمی کے ساتھ ووٹ کی اورنفرت کی سیاست کرتے ہیں۔ ابھی گزشتہ روز کی بات ہے جب کرناٹک کے ایک وزیر نے سونیاگاندھی پریہ الزام لگایا کہ وہ صرف مسلم مدارس کے طلبا کو ریل کاٹکٹ دے کر اپنے وطن واپس بھیج رہی ہیں۔ میں پوچھناچاہتا ہوں کہ کیایہ حکومت کی ذمہ داری نہیں تھی کہ وہ ان بھوکے پیاسے لاچارلوگوں کوجواپنے اپنے گھرجارہے ہیں، ان کے ٹکٹ دیتی ؟مگر ان لوگوں کوحکومت نے آسانی فراہم کرانے کے بجائے انھیں اتناستایا کہ ان میں سے ہزاروں لوگ پیدل ہی اپنے وطن کیلئے روانہ ہوگئے اوران میں سے 100 سے زیادہ لوگ راستے میں ہی اپنی جان گنوابیٹھے۔ بالکل اسی طرح جس طرح نوٹ بندی کے وقت حکومت نے سارے ملک کو لائنوںمیں کھڑاکردیاتھا، جس میں100 سے زیادہ لوگ بینکوں کے سامنے قطارمیںکھڑے ہوئے،گرے اورپھر مرگئے۔ حکومت کو سوچناچاہیے تھاکہ آخرآج کروڑوں مزدور کیوں سڑکوں پرآگئے؟ ۔سچائی یہ ہے کہ وہ اس بات کوسمجھناہی نہیںچاہتی ہے۔ ملک کے 40کروڑ غریب،جو خط افلاس سے نیچے زندگی گزاررہے ہیں، وہ پہلے ہی سے بھوک سے مررہے تھے۔حکومت نے بغیرسوچے اوربغیرتیاری کے پورے ملک میں تالہ بندی کردی، اس سے ان کی حالت مزید خراب ہوگئی۔ اس پر دنیاہنس رہی ہے۔ اس بات کو چھپانے کے لیے تبلیغی جماعت پرالزام لگایاگیا کہ وہ ملک میں کورونا وائرس پھیلا رہے ہیں اوراس بہانے مسلمانوں کی اتنی بے عزتی کی ،جس کی کوئی انتہانہیں ہے اوریہ سب ہندوتوا کوآگے بڑھانے اور ہندوووٹ بینک کودھیان میں رکھ کر کیاگیاتاکہ ان کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف مزید نفرت پھیلایاجاسکے۔
ابھی یوپی کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی کابینہ نے یہ فیصلہ لیاہے کہ جو بھی کورونا وائرس پھیلاتا ہوا پکڑا جائے گا، اس کو عمرقید کی سزاہوگی۔ان دنوںمسلمانوں سے نفرت کے اظہارکی یوپی سے لگاتار خبریں آرہی ہیں،ایسے میں کیالوگ یہ نہیںسمجھ سکتے کہ ایساقانون کیوں بنایاگیاہے؟ یہ صرف اور صرف مسلمانوں کومزید بدنام کرنے اور انھیں جیلوں میں بھرنے کیلئے اور ہندوتوا کوبڑھاوادینے نیزوووٹ بینک کی سیاست کیلئے بنایاگیاہے۔ کسی بھی مسلمان کو اب اس الزام کے تحت گرفتار کیاجاسکے گا اور اس کی گواہی کوئی دے نہ دے،دس بارہ آرایس ایس کے ورکرس دے دیں گے اور یوں کورونا پھیلانے کے الزام میں پکڑے جانے والے مسلمانوںپراس قانون کے تحت سزا کی گنجائش نکال لی جائے گی۔
ہندو توا طاقتیں اپنی تہذیب تھوپنے میںلگی ہیں ، یہ ملک میں اس نظام کوقائم کرنے کے لیے کوشاں ہیں، جس کے ذریعہ ہزاروں سال قبل برہمنوں نے دلتوں کو غلام بناکر رکھاتھا۔ حالانکہ اب دلت اور درج فہرست ذات کے لوگ بھی سمجھنے لگے ہیں کہ آخر باربار آرایس ایس اورسرکار میں بیٹھے لوگ ریزرویشن کا مدعا کیوں اٹھاتے ہیں؟ مسلمانوں کو بار بارنشانہ بنایاجارہاہے اوررانھیںذلیل وخوارکیاجارہا ہے؟ کیا اس لیے تاکہ ملک کو ہندوراشٹر ہونے کااعلان کردیاجائے؟ ۔ایسالگتا ہے کہ جب تک چھوٹی ذات کے ہندوہوش میں آئیں گے، تب تک شاید دیر ہوچکی ہوگی۔ اب ایک نیاشگوفہ چھوڑاگیا ہے کہ ’بہت سے مسلم خاندان یہ کہتے ہوئے ہندو(گھرواپسی) ہوگئے ہیں کہ ان کے بزرگوں کواورنگ زیب نے زبردستی تلوار کی نوک پر مسلمان کیاتھا‘۔ واہ بھئی واہ! یہ ہم نے زندگی میں پہلی بارسناہے کہ کوئی مسلمان ہندوہوگیا۔ آخرکیوں؟ اسے ’ہندوازم‘ میں اسلام سے سچی کیا بات نظرآئی؟ چلئے انھیں جھوٹی خبریں اڑاکرخوش ہونے دیجیے۔
آخر میں یہ حقیقت بھی سنئے اوراسے گانٹھ باندھ لیجیے کہ کورونا وائرس عذاب الٰہی ہے، اس سے نہ مسلمان محفوظ ہیں اورنہ ہی دوسری قومیں۔اس نے جہاں مسلمانوں کی فرقہ بندی پرحملہ کیاہے،وہیں اس کاانتباہ ان طاقتور قوموں کیلئے بھی ہے، جس کے بعد عذاب الٰہی آئے گا۔ بالکل ویسے ہی جیسے پہلی بگڑی ہوئی قوموں پرآیاتھا۔ بس مہینہ دومہینہ اورانتظارکیجیے۔یہاں بھی آپ اپنی آنکھوں سے وہ سب دیکھیں گے جو آپ نے کبھی سوچابھی نہ ہوگا!
مظلوم کی دعا سے زمیں چاند تارے کیا
ہلتا ہے آسمان بھی آہوں کے سامنے
9971730422