جموں کشمیر میں کورونا مریضوں کی تعداد میں ہوشربا اضافہ ہورہا ہے یہاں تک کہ اب یہ تعداد روزانہ بنیادوں پر چار ہندسوں میں سامنے آتی ہے۔ہلاکتیں بھی آٹھ سو کے آس پاس پہنچ گئی ہیں جس سے عوامی حلقے تشویش میں مبتلاء ہیں کیونکہ ایسا لاک ڈاون اور دیگرضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے باوجود ہورہا ہے۔ ملک کے اندربھی روزانہ نوے ہزار کورونامتاثرین منظر عام پر آرہے ہیں۔ماہرین کہتے ہیں کہ ایسا ٹیسٹنگ کی تعداد بڑھانے کی وجہ سے ہورہا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جن ممالک کو وبا کے اولین ایام میں اسی طرح کی صورتحال کا سامنا تھا انہوں نے ایسی کون سی جادو کی چھڑی گھماکر صورتحال کو قابو کرلیا کہ وہاں صورتحال پر کم و بیش قابو پالیا گیا ہے؟ اعداد و شمار بتارہے ہیں کہ چین میں مجموعی طوروائرس سے جتنے لوگ متاثر ہوئے اُتنی تعداد تو بھارت میں ایک دن میں سامنے آتی ہے۔حالانکہ چین کے ہاں بھارت سے زیادہ آبادی ہے اور بھارت کو وائرس نے چین کے بہت بعد اپنی لپیٹ میں لے لیا ،یعنی بھارت کے پاس باقی ممالک سے حاصل شدہ تجربہ بھی میسر تھا لیکن اس کے باوجود سوا سو کروڑ کے اس ملک میں حکام مہلک وائرس کے سامنے بے بس نظر آرہے ہیں۔
ایک طرف یہ صورتحال ہے اور دوسری طرف حکام پابندیوں کو کم و بیش ہٹا چکے ہیں۔ عام لوگوں کی سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی ہے کہ جب وائرس کا پھیلائو اتنی تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے تو لوگوں کو صرف ماسک پہننے اور سماجی دوری اختیاری کرنے کی ہی صلاح کیوں دی جارہی ہے۔اولین اوقات میں تو مکمل لاک ڈاون تھا، دفاتر بند تھے،دکان اور کاروباری ادارے مقفل تھے، سڑکوں سے ٹریفک غائب تھا ۔یہ ساری تدابیر تو اُس وقت کی جارہی تھیں جب وائرس کا پھیلائو محدود تھا اور جموں کشمیر میں متاثرین کی تعداد چند سو تھی۔لیکن جوں جوں متاثرین کی تعداد بڑھتی گئی توں توں پابندیاں بھی ہٹائی گئیں اور لوگوں کو یہ احساس دلانا شروع کیا گیا کہ اُنہیں اب وائرس کے ساتھ ہی جینا پڑے گا۔
ماہرین بھی اسی بات پر متفق ہیں کہ کورونا وائرس کافی وقت تک موجود رہنے والا ہے اور جب تک اس کا کوئی ویکسین تیار نہیں ہوتا تب تک اس کو قابو کرنا ممکنات میں شامل نہیں ہے۔بیشتر ماہرین اس رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کورونا مریضوں کیلئے الگ سے اسپتال قائم کئے جانے چاہیں جہاں تعینات معالج صرف اور صرف انہی مریضوں کے ساتھ مصروف رہیں۔اس کی ضرورت اس لئے بھی محسوس کی جارہی ہے تاکہ باقی ماندہ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں مریضوں کا علاج و معالجہ اور کی زندگیاں بچانے میں کوئی رکاوٹ درپیش نہ ہو اور ہمارے اسپتالوں کو وائرس سے پاک رکھا جاسکے جہاں بیماروں کے ساتھ ساتھ تیمارداروں کا بھی بھاری رش رہتا ہے۔ لیکن اکثر ماہرین کہتے ہیں کہ ایسا لاک ڈاون کے دوران کیا جانا چاہئے تھا۔ وادی کے ایک سینئر معالج کے مطابق لاک ڈاون کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے صلاحیت بڑھائی جائے اور بے شک الگ اورعارضی اسپتال قائم کرنا اس مقصد میں سر فہرست تھا لیکن ہمارے یہاں حکام نے لاک ڈاون کے دورا ن اپنا سارا وقت صلاحیت سازی کے بجائے خصوصی اجازت نامے تیار اورجاری کرنے میں صرف کیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہمارے سارے اسپتالوں کا کام کاج انتہائی بری طرح متاثر ہوا اور ہمارے سارے طبی مراکز عام مریضوں کیلئے تقریباً بند ہوگئے کیونکہ او پی ڈی شعبہ کئی مہینوں تک بند رہا اور اب جب اُس کو چالو بھی کیا گیا تو لوگوں کے دلوں میں ان مراکز میں جانے کا اتنا ڈر ہے کہ وہ گھروں میں ہی مرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ مذکورہ معالج کا مزید کہنا تھا کہ لاک ڈاون کے دوران ہر ضلع کے اندر کورونا مریضوں سے نمٹنے کیلئے عام اسپتالوں سے دور کم سے کم دو عمارتیں مخصوص رکھی جانی چاہیں تھیں تاکہ عام اسپتالوں کے کام کاج کو بلا خلل جاری رکھا جاسکتا لیکن بد قسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔جب اُن سے پوچھا گیا کہ حکام کا دھیان اس طرف کیوں نہیں گیا اور ماہرین نے وقت پراس طرح کی صلاح کیوں نہیں دی؟تو مذکورہ ڈاکٹر کا کہنا تھا’’ہمارے یہاں ماہرین سے مشورہ کب پوچھا گیا!سارا معاملہ تو انتظامی افسران نے اپنے ہاتھوںمیں لے رکھا ہے جو انتظامی امور کے ماہر ہیں لیکن طبی معاملات کے نہیں‘‘۔
ماہرین تاہم عوام پر بھی کورونا وائرس کے پھیلائو کی ذمہ داری ڈالتے ہوئے کہتے ہیں کہ حکام کی طرف سے بار بار کی تلقین کے باوجود لوگ انتہائی لاپرواہی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ماہرین خاص کر شادی بیاہ کی تقریبات کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان جیسی سماجی تقریبات کے دوران احتیاط کو بالائے طاق رکھا جارہا ہے جس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ کورونا متاثرین کی تعداد میں آئے روز اضافہ ہورہا ہے۔حکام نے پہلے ہی سماجی تقاریب کیلئے راہنما خطوط جاری کررکھے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان خطوط کو خاطر میں نہیں لایا جارہا ہے۔ایک اور اہم مشاہدہ یہ بھی سامنے آیا ہے کہ لوگ صرف شہر سرینگر میں ہی ماسکوں کا استعمال کرتے ہیں اور باقی ماندہ قصبہ جات اور دیہی علاقوں میں ان کا استعمال شاذ و نادر ہی کیا جاتا ہے۔ان علاقوں میں سماجی فاصلے بنائے رکھنے کی طرف بھی کافی کم توجہ دی جارہی ہے۔لیکن عوامی حلقے اس بات پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہیں کہ شہر میں لوگوں کی ہر احتیاطی تدبیر کے باوجود یہاں ہی سب سے زیادہ کیس سامنے آرہے ہیں۔ پھر پبلک ٹرانسپورٹ بھی لوگوں کو قریبی رابطے میں لانے کا ایک ذریعہ ہے۔ حیرانگی کی بات ہے کہ حکام نے پہلے پہل پبلک ٹرانسپورٹ سے متعلق راہنما خطوط پر عمل کیلئے سخت اقدامات کئے لیکن کچھ دن بعد ہی اس کا بھی کوئی پرسان نہیں کیا گیا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ سومو ڈرائیور حضرات وادی کے اطراف و اکناف میں دس دس سواریاں لیکر چلتے ہیں، میٹا ڈاروں میں معمول کی طرح اور لوڈ نظر آتا ہے اور یوں مہلک وائرس کو مذاق سمجھ کر اُن لوگوں کی صحت اورزندگیوں سے بھی کھلواڑ کا سلسلہ جاری ہے جو ہر احتیاط پر عمل پیرا ہورہے ہیں۔اب ہر کسی کے پاس نجی گاڑی تو نہیں ہے ،اس لئے سماج کے ایک مخصوص طبقے سے وابستہ لوگوں کی صحت اور زندگیاں خطرے میں مبتلاء ہیں۔عجیب معاملہ ہے کہ شہر کے بڑے کاروباری اداروں یا دفاتر پر احتیاط بھرتنے والے لوگ جب باہر آتے ہیں تو انتہائی غیر ذمہ داری کا ارتکاب کرتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے انہوں نے یہ طے کررکھا ہے کہ کورونا وائرس اور اس سے پیدا صورتحال کوئی مصنوعی اور تیار کردہ ہے۔ایسے افراد سے بات کرو تو وہ ٹال جاتے ہیں، اُن کی جسمانی حرکات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ یا تو لاپرواہ ہیں یا صرف اُنہی کو حقیقت کا علم ہے جسے وہ بیان کرنے سے کتراتے ہیں۔ ماہرین بھی عوامی حلقوں کے اس طرز عمل سے متفکر ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ لوگ اپنے طرز عمل و طرز فکر میں تبدیلی نہ لائیں تو ویکسین تیار ہونے تک ہماری حالت ایسی ہوجائے گی جس پر ویکسین کے استعمال کے بعد بھی مشکل سے ہی قابو پایا جاسکتا ہے۔