اردو کے قلم کار (اور ہمارے خیال سے ہندی کے بھی)گزشتہ کئی برسوں سے سرکاری طور پر ایک مشترکہ ادبی کساد بازاری کے دور سے گزر رہے ہیںکہ سرکار اردو (اور ہندی) قلم کاروں کو مناسب احترام اور منصب نہیں دے رہی ہے۔ حالانکہ اردو اور ہندی کے صرفی و نحوی نظام کے علاوہ بھی دونوں میں بہت کچھ مشترک ہے لیکن آج اس کا کریڈٹ ہم کو دیاجانا چاہیے کہ ہم نے حال ہی میںاردو اور ہندی قلم کاروں کے مشترکہ درد بلکہ سردردکو دریافت کیاجس کی طرف کسی کی نظر آج تک نہیں گئی۔دراصل ملکی قوانین میں بہت خامیاں رہ گئی ہیں، اتنا بڑا ملک ہو تو رہ ہی جاتی ہیں۔ یہی دیکھئے ناکہ کوئی بھی شخص ، کبھی بھی ، بنا کسی کو اطلاع دئے صبح بستر سے اٹھتے ہی اپنے بارے میںاردو کا ادیب، شاعر یا افسانہ نگارہونے کاصدماتی اعلان کر دیتا ہے جس سے اس کے رشتے دار اور دوست سن کر سکتے میں آ جاتے ہیں۔حالانکہ یہ صورت حال امن عامہ کے خلاف ہے لیکن پھر بھی قانون اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتالیکن ہماری دانست میںبین الاقوامی حالات کے پیش نظر اسے بھی اب دہشت گردانا فعل قراردے دیا جانا چاہیے۔بہر حال یہ بھی ایک وجہ ہے جس سے شاعروں کی تعدادتشویشناک حد تک بڑھ رہی ہے اور اس سے بہت سے شعری مسائل بھی پیدا ہو ئے ہیں۔باخبر ذرائع کے مطابق اس وجہ سے بھی ادبی خشک سالی میں افزونی ہو رہی ہے۔
یونیسکو کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیابھر میں 200سے زیادہ زبانیں ختم ہو چکی ہیںاور تقریباً 6000 میںسے آدھی زبانیںختم ہونے کے کگار پرآرہی ہیں بلکہ امکان اغلب ہے کہ سال2100 تک ختم ہو جائیں گی۔ آسٹریلیا کے شمالی حصے میں700 لوگوں کا ایک گائوں ہے جہاں35 سال سے کم عمر کے محض350لوگ nativeزبان Warlpiri زبان بولتے ہیں۔ تقریباً 200 زبانیں ایسی ہیں جن کے بولنے والے اب محض10سے50 تک رہ گئے ہیں۔ اورشاید یہی وجہ ہے کہ ہماری ثقافتی اور لسانی اکادمیاں مزید زبانیں مینوفیکچر کر رہی ہیںتاکہ زبانوں کی تعدا بڑھتی رہے چاہے ہم کچھ کہیں یا نہ کہیںیاہمارے پاس کہنے کے لئے کچھ ہو یانہ ہو۔
ہندوستان ایک بڑا ملک ہے اوراسی لئے بہت ساری تہذیبوں کا گہوارہ بھی۔یہاں معاشرتی، ثقافتی اور لسانی تنوع اتنا ہے کہ ملکی آئین کے آٹھویں شیڈیول میں 24 زبانیں درج ہو چکی ہیںجن میں انگریزی، ہندی اور اردو کے علاوہ کئی علاقائی زبانیں بھی شامل ہیں جیسے پنجابی، کشمیری، ہریانوی ، ڈوگری، مراٹھی، تیلگو، تمل وغیرہ۔ جبکہ ان زبانوں میں بہت کچھ تخلیق کیا جارہا ہے اورصحتمند اور مستحکم روایات کی حامل ان علاقائی زبانوں میں عالمی سطح کے فن پارے ڈھونڈنے پر کسی بھی ریاست میں سرکاری طور سے ابھی تک کوئی پابندی بھی عائد نہیں کی گئی ہے کیوں کہ پڑھنے کا چلن ہی کم ہوتا جا رہا ہے۔ملک کے کسی نہ کسی مخصوص خطے میں بولی اور سمجھی جانے والی ان علاقائی زبانوں کو محض کچھ لاکھ لوگ بولتے ، سمجھتے ہیں اور ہرسال ان زبانوں کی ایک ایک کتاب کو حکومت کی طرف سے ایوارڈ دیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس اردو اور ہندی جیسی ملک گیرزبانیں،جنہیں ملک کے کروڑوں لوگ بولتے اور سمجھتے ہیں ان کی بھی ایک ایک کتاب ہی کو انعام دیا جاتا ہے۔
اب اس صورت حال کو یوں سمجھنے کی کوشش کیجیے۔ علاقائی زبانوں کی کتاب کو ایک ایک ایوارڈ، اور قومی زبانوں کو بھی ایک ایک ایوارڈ۔
یہ ایک جگر سوز امتیازی صورت حال ہے جس سے اردو(اور ہندی کے بھی) کئی دل برداشتہ قلمکارbronchitis کا شکار ہونے لگے ہیں۔ اب اس مرحلے پر ہم ہندی والوںکوان کے حال پر چھوڑ کراگر صرف اردو کی بات کریں تو یہ سوال منہ چڑاتا ہے کہ اب اردو قلمکار کیا کرے؟ زمینی صداقت یہ ہے کہ جب اس کی پزیرائی نہیں ہوتی تواردو قلمکار اپنے خطے کی مقامی زبان میں چلا جاتا ہے اور دو سال بعد یقیناایوارڈ یافتہ ہو جاتا ہے۔تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ علاقائی زبانوں کے سارے لکھنے والے ایوارڈ یافتہ ہوتے جارہے ہیں اور آئندہ برسوں میں لوگوں کو علاقائی زبانوں کی شاعری کی طرف راغب کرنے کے لئے کئی مراعاتی منصوبے بھی حکومت کے زیر غور ہیں۔
لیکن کئی ضدی قسم کے لوگ بھی ہیں جواردوسے کوئی ذاتی یا قبیلیائی یا ثقافتی نوعیت کی رنجش رکھتے ہیں اور انتقام لینے کی غرض سے اردو ہی میں ٹکے رہنے کی ٹھان لیتے ہیںاور ایوارڈ کے لئے ان کی مسلسل حوصلہ شکنی کے باعث ان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا کہ وہ نہ صرف خوداپنے لئے ایوارڈ قائم کریں بلکہ جب چاہیں لے بھی لیں۔اور یہی ہو بھی رہا ہے۔ چنانچہ آج یہ حالت ہے کہ حکومت کی امتیازی ایوارڈ پالیسی کے پیش نظراردو کے قلم کارخود ہی بازار سے کوئی خوشنما سا دکھائی دینے والا ایوارڈ خریدلاتے ہیں، کیمرے کے سامنے کسی سے بھی ایوارڈ لیتے ہوئے فوٹو سیشن کرتے ہیں اور سنڈے ایڈیشن میں چھپوا کر فارغ البال ہو جاتے ہیں۔
ایسے ہی ہمارے ایک آئی اے ایس ’ اردو شاعر ‘ جس کی شاعری سے نہ تو ریاستی اور مرکزی حکومت ہی متاثرہو سکی اور نہ ہی گوپی چند نارنگ یا شمس الرحمٰن فاروقی نے انہیں قابل اعتنا سمجھا ، نے بڑے دھڑلّے اور کمال دلیری کے ساتھ سرعام قانون کے سامنے خودہی ’ محسنِ اردو ایوارڈ ‘ لے لیااور پولیس خاموش تماشائی کی طرح دیکھتی رہی۔ ہم نے کہا کہ بھائی یہ تو زیادتی ہے کیوں کہ اردو کے سلسلے میں تو صرف جان گِلکرسٹ کو’ محسنِ اردو‘ کہا جاتا ہے۔ہمارے دوست نے کہا ’اچھاجی۔۔۔۔میری مادری زبان لمبیڑی ہے۔۔۔۔۔تو کیا میں اردو میں لکھ کر اردو زبان پر احسان نہیں کر رہا ہوں؟‘ ایک اور افسانہ نگار دوست نے بازار سے ایوارڈ خریدکر اس پر ’ کوہِ افسانہ ایوارڈ ‘ کنندہ کروا کر صدر دروازے پر ایک بڑے سے شو کیس میں بڑے اہتمام کے ساتھ رکھ دیا ہے۔
دیکھا گیا ہے کہ اس قسم کے اردو ایوارڈ دینے والا کوئی بھی ہو سکتا ہے۔ محلے کا کوئی ابتدائی تعلیمی ادارہ جیسے’ نالج میمورئیل اکیڈمی ‘،بازار میںہارمونیئم طبلے بیچنے والی دکان جیسے ’ سْرتال کیندر ‘ یا کوئی غیر رجسٹرڈغیر حکومتی ادارہ ،جیسے ’ چیمبر آف چیریٹی ‘ یا ’ انڈیا فارکورپشن ‘وغیرہ بھی ایوارڈ دے سکتے ہیں۔ لیکن اردو کے ساتھ اس قسم کی تنظیموں کی کوئی سوتیلی رشتے داری نہ ہونے کے باوجودبھی ان کی اردو دشمنی کی وجہ سمجھ نہیں آتی۔ان ایوارڈ دینے والوں کی ایک قسم اور بھی ہے جس میں دو تین لوگ ہوتے ہیں۔ وہ آپ کے گھر میں آکر آپ کو اپنے اہل خانہ کے ساتھ آپ کے گھر ہی میں کسی دیوار کے ساتھ کھڑا کر کے ایوارڈ دیتے ہوئے اپنے موبائل کے ساتھ آپ کا فوٹو کھنچوا کر اخبار میں چھپوا دیتے ہیں۔قیام و طعام اورمناسب معاوضے پر وہ کسی دوسرے شہر میں جاکر بھی کسی کو ایوارڈ سے سرفراز کرسکتے ہیں۔ اس غلط فہمی میں نہ رہیے گا کہ اس قسم کے ایوارڈوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ یقین کیجئے کم سے کم ہفتے عشرے تک آپ کو نزدیک و دور کے دوستوں، رشتے داروں، دفتروالوں، محلے داروں سے فون پر مبارکبادیں ملتی رہیں گی اور وہ آپ سے پوچھتے ر ہیںگے کہ یہ تقریب کہاں اور کب ہوئی تھی؟اور اگر ’ ایوارڈ ‘ لیتے ہوئے فوٹو کو آپ فیس بْک پر ڈال دیں تو لوگوں کے Likes کی تعداد دیکھ کر آپ خود حیران رہ جائیں گے۔ سال میں دو تین بار ایسا کرنے سے آپ کی عزت میںاتنا اضافہ بھی ہوسکتا ہے کہ کسی دن اچانک یومِ جمہوریہ یا یوم آزادی کی تقریبات میں شمولیت کے لئے آپ کو ضلع کے ڈپٹی کمشنرکا دعوت نامہ بھی آ جائے اور آپ بیٹھے بٹھائے شہر کے معززین میں شامل ہو جائیں۔یہ دعوت نامہ آ پ فریم میں جڑا کر ریفریجریٹر کے اوپربھی رکھ سکتے ہیں تاکہ سند رہے۔
اس سلسلے میں ہمارے مشاہدے میںیہ بھی آیا کہ چونکہ تعزیرات ہند میں ایسی کوئی شق نہیںجس کی رو سے اپنے آپ کواردو شاعر ، افسانہ نگار یا ادیب کہنے کے لئے کسی کے خلاف قانونی کاروائی کی جا سکے اس لئے ہمارے ہاں ان تینوں زمروں میںقلم کاروں کی تعداد تشویشناک حد تک بڑھ رہی ہے۔ تشویشناک اس لئے کہ ہر کوئی اپنے آپ کو سرکاری ایوارڈ یعنی کچھ نقدرقم ، ایک توصیفی سنداور خلعت فاخرہ کا مستحق تسلیم کر نے لگاہے جس سے آئندہ دنوں میں لاء اینڈ آرڈر کی پرابلم ہونے کاشدید خدشہ ہے اور جس کے بارے میں خفیہ ایجنسیوں نے ابھی بلیو الرٹ بھی جاری کر دیا ہے۔ بہت افراتفری والی سچویشن بن گئی تھی۔ لہٰذا حکومت کے ساتھ کئی مذاکرات میںجب ہم نے اپنا نکتہ نظر بیان کیا تو ہمیں سنجیدگی سے سننے کے بعد تسلیم کیا گیا کہ چونکہ حکومت کے پاس غریبی ہٹانے، دہشت گردی سے نپٹنے ، پانی ، تعلیم ، بجلی ، پانی اور ملزموں کی شناخت صیغہ راز میں رکھنے کے لئے انہیں سیاہ نقاب بانٹنے اور دوسرے بے شمار مسائل سے نمٹنے کے لئے بھی وقت نہیں ہے اس لئے پرائیویٹ پبلک پارٹنرشپ کے اس دور میں حکومت نے ایوارڈوں کی بڑھتی ہوئی مانگ کے پیش نظر ادیبوں کو رضاکارانہ طور پر آگے آ کر اپنے آپ کو خود انعامات سے سرفراز کرنے کا تعاون مانگ لیا۔ چنانچہ خود انعامی کے اس منصوبے سے نہ صرف ادیبوں کی طرف سے ایوارڈوں کی بڑھتی ہوئی مانگ پوری کی جا سکے گی بلکہ اس سے ملک کی معاشی ترقی کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اس سے شیلڈیں، ٹرافیاں اور میمینٹو (memento) جنہیں اردو کی انعامی تقریبات میںہم مومینٹو (momento) کہہ کر خوش ہوتے ہیں ، کی انڈسٹری بڑھے گی اور روزگار کے امکانات بھی بڑھیں گے۔
یہ سیلف ایوارڈنگ سسٹم بہت جلد لانچ ہونے والا ہے اور ہم نے اس کے لئے تیاری شروع کردی ہے۔ چنانچہ ہم نے ایوارڈ لینے اور دینے کے لئے ایک تنظیم کی تشکیل کی ہے جس کا نام ہے: انجمنِ ستائشِ باہم۔
اس تنظیم کے اغراض و مقاصد اس طرح ہیں:
1) مذہب، ذات، برادری،رنگت، جنسی ، قبیلیائی اور علاقائی بنیادوں پر حکومت سے اردو ایوارڈوں میں ریزرویشن کا مطالبہ اور اس کے لئے دھرنے، ایجی ٹیشن اور جدوجہد۔
2) نغمگی، غنائیت اور شعریت جیسے عناصر کو اردو شاعری سےpurge کرنااورافسانے سے پلاٹ، واقعات،زبان جیسی آلائشوںکو خارج کرنا۔نثری نظمیں لکھنے والوں کیلئے سبسڈی کا مطالبہ
3) ادبی ایوارڈوں کو حکومت کی طرف سے رعائتی قیمتوں پر فراہمی کے انتظامات کروانااورسرکاری طور پر ’ ادبی ایوارڈ میلوں ‘ کا ہفتہ وار انعقاد۔
4) ناشاعروں، متشاعروں،کچہری کے عرائض نویسوں کی زبان والے ، amnesiaکے شکار’ افسانہ نگاروں ‘ کی پرزور حمایت کرکے اردو مخالف سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرنا۔اخباروں کی سرخیوں سے مستعار پلاٹ پر ’طرحی افسانوں ‘، اور اقوال زریں اور سبق آموز نصیحتوں پر ’ افسانچوں ‘ کے مقابلوں کا انعقاد کروانا۔
5) آزاد غزل ، غزل کشت نما ، نثری غزل جیسی چیزوں کو فروغ دے کر غزل جیسی ’ نیم وحشی صنف ‘ کو ختم کرنے کی کوشش کرنا۔
چنانچہ ہم نے یکطرفہ طور پرانجمنِ ستائش باہم کا عبوری آئین یوں ترتیب دیا ہے:
1) اس تنظیم کا ممبر بننے کے لئے کوئی بھی شخص ، بیس روپے کے غیر تصدیق شدہ بیان حلفی میں اپنے آپ کو اردو کاشاعر، افسانہ نگار یا ناقدہونے کااقرار کرکے باقاعدہ اعلان کر سکتاہے لیکن اسے یہ بیان حلفی اپنے گھر کے قریبی تھانے میں جمع کروانا ہوگا۔ اس اعلان کے لئے اردو جاننا قطعی ضروری نہیں ہے۔
2) انجمن کا کوئی بھی رکن جب بھی چاہے ، ایک بیان حلفی میں انجمن کاخودساختہ صدر ہونے اعلان کر سکتا ہے۔ صدارت کا دورانیہ طے کرنے کا اسے مکمل اختیار ہوگا۔ اور یہ بیان حلفی اسے ہروقت اپنی جیب میں رکھنا ہوگا تاکہ مطالبے پر بطور ثبوت پیش کیا جا سکے۔
3) اردو اتنی سخت جان زبان ہے کہ کوئی اس کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا۔ لہٰذا اردو کی موافقت میں بیان دینے کی کوئی ضرورت نہیں، ہاں اس قسم کا کوئی صدر اردو کی مخالفت میں ایساکوئی بھی بیان دے سکتا ہے جس سے اردو کی تکافضیحت ہوتی ہو اور جس کے لئے اس سے کوئی بازپرس بھی نہیں کی جائے گی۔
4) اس قسم کا کوئی صدر جب چاہے کسی بھی مسئلے پر، یا محض تفنن طبع کے لئے انجمن کی ہنگامی میٹنگ طلب کر سکتا ہے، لیکن اس صورت میں حاضرین کی پرتکلف خاطرو مدارات کی ذمے داری بلا شرکت غیرے اسی کی ہو گی۔
5) انجمن کا کوئی بھی ممبر کسی سے مشورہ کیے بغیر ہی اپنے سمیت کسی کو بھی ایوارڈ دے سکتا ہے اور اس کے لئے وہ یقینا باقی ممبروں کی مبارکباد کا مستحق ہوگا۔
6) متفقہ رائے سے ایوارڈوں کے لئے ذیل کے عنوانات پر مفاہمت بن گئی ہے : تہمتِ اردو ایوارڈ، ذِلت ِشاعری ایوارڈ ، دشمن ِ اردو ایوارڈ ، تذلیلِ ادب ایوارڈ ، خاتمِ اردو ایوارڈ۔ ویسے ایوارڈ لینے والا ایوارڈ کا عنوان اپنی طرف سے بھی تجویز کر سکتا ہے ، مگر اس کے لئے اسے تین سابقہ سیلف ایوارڈیوں سے ایوارڈ کے عنوان کے حق میں حمایت کی ضرورت ہوگی۔
7) ایوارڈ کے ساتھ سنہ لکھنا ضروری ہے۔ جیسے : تہمتِ اردو ایوارڈ 2008۔
8) انجمن کا ہرسیلف ایوارڈی ، میونسپل حکام کی اجازت کے بغیر،اپنے گھر کی گلی میں یا سڑک پر اپنے نام کی تختی لگانے کا مجاز ہوگا،جیسے : فریادیؔ اسٹریٹ، زخمی ؔروڈ یا یا چراغ ؔ ظلماتی چوک۔ اور اگر ایک گلی میں دوایوارڈی رہتے ہوں تو گلی کو دو برابر حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ پوسٹ آفس والے انہی چٹھیوں کو تقسیم کریں گے جن پر بدنام زخمی ؔ اسٹریٹ یا فریادیؔ روڈ ، یا چراغؔ ظلماتی چوک لکھا ہوگا۔
9) اس قسم کے ہرسیلف ایوارڈی پر اپنی تعریف میں کم سے کم کچہری کے عرائض نویس سے دو مضامین لکھوا کر کسی روزنامے یا ہفت روزہ اخبار میں شائع کروانا لازمی ہو گاتاکہ دوسروں کو عبرت ملے۔
10) ان مضامین میں بیان کی گئی آراء کو حتمی اور حرف آخری سمجھا جائے گا جن کی تحقیرو تضحیک پر ازالہ حیثیت عرفی قانون کے تحت فاسٹ ٹریک کورٹ میںکاروائی کی جا سکتی ہے اور اس قسم کی کسی حرکت کو پڑوسی ملک کی سازش تسلیم کرکے مذکورسیلف ایوارڈی کو حکومت سرکاری سیکوریٹی مہیا کرے گی۔
انجمن ِ ستائش باہم کے قیام کے سلسلے میں ہمارے جوش و خروش اور عملی کوششوں سے متاثر ہو کر ہمیں آپ کی جانب سے مبارکباداور فیس بْک پر Likesکا انتظار رہے گا۔
رابطہ ۔13/3، عید گاہ روڈ ، آدرش کالونی، اْدہم پور- 182101(جموں کشمیر)
موبائل نمبر۔ 09419339303
ای میل ۔ [email protected]