گذشتہ کچھ برسوں سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات سے کھیلنے کی کوششیں کی جارہی ہیں اور ایک مہم شروع ہوچکی ہے جسکے تحت وقفے وقفے سے کچھ ایسی قابل مذمت اور افسوسناک حرکتیں کی جارہی ہیں جس سے مسلمانان عالم کے جذبات مجروح ہورہے ہیں۔ بظاہر مسلمانوں کے خلاف یہ شرارتیں انفرادی نوعیت رکھتی ہیں لیکن در اصل وہ انفرادی ہوتی نہیں بلکہ ایک منظم اور باقاعدہ سازش اور پروگرام کا حصہ ہوتی ہیں اور اپنا یہ خصوصی مقصد لئے ہوئے ہوتی ہیں کہ مسلمانوں کو کسی بھی طرح خوفزدہ کیا جائے اور ایک انتشار کی کیفیت پیدا کی جائے۔
حال ہی میں فرانس کے ایک شخص کے ذریعے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کا ایک واقعہ پیش آیا جسکی مسلمانان عالم نے شدید مذمت کی۔ یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی متعدد بار ایسی مذموم حرکات کی گئیں۔ کبھی Leaders Religious نام کی کتاب اجراء کرکے ، کبھی لارڈ برٹر نڈرسل کی کتاب کے ذریعے ،جس میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی خیالی تصویر بنائی گئی تھی، کبھی ڈنمارک کے ملعون کارٹونسٹ کے ذریعے سے یا کبھی ہند میں کچھ مسلم دشمن فرقہ پرستوں کے بیانات یا الزام تراشیوں سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی کوششیں کی گئیں جیسے پنڈت دیانند سرسوتی کی کتب" ستیا رتھ پرکاش" یا راج پال کی کتاب " رنگیلا رسول"۔ اسی طرح نام نہاد مسلمان جیسے سلمان رشدی ہو یا تسلیمہ نسرین ، یہ ایسے لوگ ہیں جن کا مقصد صرف اور صرف توہین ِ رسالت اور مسلمان دشمنی ہے۔ پھر یہ امر اور بھی افسوسناک ہے کہ اس قابل ِ نفرت اور قابل مذمت کام کو انجام دینے والے تنگ نظر ہر جگہ موجود ہیں اور وہ لوگ یہ سب کچھ اشتراکِ عمل سے کرتے رہتے ہیں جو بین الاقوامی سطح پر مسلمانوں کو اپنا حریف سمجھتے ہیں اور ان عناصر نے مسلمانوں کی دل آزاری کو اپنی زندگی کا نصب العین بنایا ہے۔ اس بات کا واضح ثبوت سلمان رشدی کو ایواڑ دینا اور تسلیمہ نسرین کو شہریت دینا ہے۔ یا ابھی فرانس میں سربراہ مملکت فرانسیسی گستاخ ٹیچر کی آنحضرتؐکی شان میں گستاخی کے بعد دیا گیا افسوسناک اور شرمناک بیان ، یہ ایسی مذموم حرکات کی سرکاری پشت و پناہی کا کھلا ثبوت ہے۔ اس وجہ سے بھی یہ ایک پیچیدہ مسلہ بنتا جارہاہے جو کبھی بھی کوئی بھی خطرناک صورت اختیار کرسکتا ہے جسکے نتائج نہ جانیکتنے خوفناک اور افسوسناک نکل سکتے ہیں۔ مذہبی منافرت کا خطرہ تو پہلے سے ہی سر پر منڈرا رہا ہے اور عالمی سیاسی حالات بھی اس معاملے کو ہوا دے رہے ہیں۔
تاریخ شاہد ہے کہ دین اسلام نے غیر مسلموں کے ساتھ بھی حسن سلوک کرنے کی درخشاں روایات قائم کی ہیں۔ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک یہودی کا جنازہ گزرا تو آپؐ اس کے احترام میں کھڑے ہوئے۔صحابہ کرامؓنے پوچھا کہ غیر مسلم کیلئے ایسا احترام ؟ تو آپؐنے ارشاد فرمایا کہ کیا وہ انسان نہیں ہے۔ یہ ہے مذہبوں کے بیچ رواداری کا درس جو اسلام اور پیغمبرِ اسلامؐ نے عملی طور دیا ہے۔ گویا اس طرح مسلمانوں کو کسی دوسرے مذیب یا عقیدے کے ماننے والوں کیساتھ بھی عزت واحترام سے پیش آنے کی ترکیب دی گئی ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کا یہ ایک ایمانی جز ہے کہ وہ اگلے پیغمبران پر مکمل ایمان رکھیں۔ حضرت آدم علیہ ا لسلام سے لیکر پیغمبر آخروزمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک جو بھی پیغمبر دنیا میں آئے ہیں بشمولِ کتب الٰہی پر ایمان لانا مسلمان ہونے کی شرائط اولین میں شامل ہے۔ تو اس بات سے خود اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کوئی بھی مسلمان ایسی کوئی حرکت یا عمل نہیں کرسکتا جس سے کسی دوسرے مذہب کے پیشوا کی توہین یا اسکے ماننے کے جذبات مجروح ہوںلیکن جس طرح مذہب اسلام میں دیگر مذاہب کے پیشوائوں کے توہین کرنے کی اجازت نہیں۔ اسی طرح پوری انسانیت کے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کی جاسکتی خواہ اسکا مرتکب مسلم ہو غیر مسلم۔ مسلمان اپنے نبیؐ کے احترام کے ساتھ دوسرے انبیاء کرام کا مکمل احترام کرتے ہیں بلکہ قرآن و حدیث کی روشنی میں کسی بھی شخص کے کامل مومن ہونے کیلئے ضروری ہے کہ وہ آخری نبیؐ پر ایمان لانے کی ساتھ ساتھ دیگر انبیاء کرام پر بھی ایمان لا ئے۔ ایک مسلمان یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ حضرت عیسیٰ علیہ آلسلام جن کو عیسائی پیشوا مانتے ہیں یا حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام جن کو یہودی اپنا پیشوا تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے متعلق کوئی غلط بات بھی انکی طرف منسوب کی جائے۔ چنانچہ عملی طور پوری دنیا میں ایک واقعہ بھی ایسا نہیں ملتا کل جس میں کسی مسلمان نے مسیحی یا یہودی کے پیشوا کی شان میں گستاخی کی ہو۔ اسکے برعکس جو واقعات بھی وقتاً فوقتاً پیش آتے ہیں وہ صرف اور صرف آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق آتے ہیں اور یہ سلسلہ اب بھی توہیں رسالتؐکا سلسلہ جاری ہے اور حدِ افسوس کا مقام اور حد یہ ہے کہ کھلم کھلا اسے آزادی ٔرائے کا نام دیا جاتا ہے۔ افسوس کا مقام یہ کہ کچھ نا عاقبت اور نام نہاد آزادیٔ رائے حمایتیوں کی طرف سے اس کو اس طرح غلط رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے اور اسکو اظہارِ رائے کی آزادی کا نام دیا جا رہا ہے۔ اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے کہ اظہار رائے ہر کو حاصل ہونا چاہئے مگر یہ آواز اور رائے اپنے اور دوسروں کی بھلائی کیلئے ہونی چاہئے نہ کہ دوسروں کو ایذا یا تکلیف پہنچانے کیلئے یا انکے جذبات خاص کر مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کیلئے۔ یہ کہاں کی آزادیٔ اظہار رائے ہے جس سے کسی کے جذبات مجروح ہوں اور مذہبی منافرت پھیلائی جائے۔ یہ ایک ناقابلِ معاف گھنائونی حرکت ہے۔
حالات کا تضاضہ ہے کہ عالمی برادری کو چاہئے کہ توہین ِ رسالت کے بجائے مر تکبین کی سزا کیلئے سخت قانون بنایا جائے تاکہ اظہار رائے کے نام پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کا سلسلہ بند ہو۔ مذہبی پیشوائوں کی توہین و تحقیر کو رائے آزادی نہیں بلکہ انتہا پسندی اور فکری دہشت ہے۔ اس طرح مذہبی جذبات کو مجروح کرنے اور یہ امن عامہ کو خطرے میں ڈالنے کے جرائم شامل ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ اس سلسلے میں 5 اکتوبر 2018ع کو یورپی یونین کی عدالت برائے انسانی حقوق نے اپنے تاریخ ساز فیصلے میں پوری دنیا کو بتایا کہ حضرت محمدؐیا کسی دوسرے نبی کی شان میں توہین آمیز بات کہنا یا لکھنا آزادی رائے نہیں بلکہ اس سے لوگوں میں نفرت و عداوت پیدا ہوتی ہے اور اس طرح کے واقعات سے دنیا میں امن و امان کے بجائے عدم رواداری اور عدم تحمل میں اضافہ ہی ہوگا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ کوئی ایسی صورت اختیار کی جائے جس سے تمام مذہبوں اور انکے پیشوائوں کا احترام قائم رہ سکے اور مسلمانوں کی طرح دوسرے بھی اس بات پر مطمئن ہو سکیں کہ اب کسی کو بھی ان کے مذہب اور مذہبی پیشوائوں کے خلاف لب کشائی یا خامہ فرسائی کی جرأت نہ ہو سکے گی۔ اسکے ساتھ ساتھ مذہب اور مذہبی پیشواوں کی توہین پر مشتمل کتابوں کی اشاعت کو قانوناً ممنوع قرار دیا جائے اور اسکی خلاف ورزی کرنے والوں کیلئے عبرتناک سزا مقرر کی جائے۔ جب تک اس سلسلہ میں کوئی سخت قدم نہیں اٹھایا جائیگا ، شرارت اور نفرت کا یہ منبع بھی بند نہیں ہوگا۔ممکن ہے اس قسم کا قانون بنانے میں کچھ مشکلات یا دشواریاں پیش آسکتی ہیں مگر ایسے قانون کا بننا اور اسکا نفاذ مجموعی طور عالم انسانیت کیلئے نہ صرف اہم بلکہ ناگزیر بھی ہے۔ موجودہ حالات کے تناظر میں، اس ضمن میں مسلمان ممالک پر زیادہ ذمہ داری ہے۔ وہ اس میں پہل کریں اور اقوام عالم کے دیگر ممالک کو اس بار ے میں فوری قدم اٹھانے کے لئے انہیں بھی راضی کریں۔
رابطہ۔[email protected]